بلال فرقانی
سرینگر// جموں کشمیر میں سمارٹ کلاس روموں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت و روبوٹکس لیبارٹریوںکے قیام کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ سرکاری سکولوں میں قائم ہونے والی 376 ’اغاز لیبارٹریوں‘ کے ڈی پی آر کا تکنیکی جائزہ لینے کیلئے حکومت نے تعلیمی شعبے میں دو اہم تکنیکی جائزہ کمیٹیوں کی تشکیل کو ہری جھنڈی دکھایا ہے۔آغاز لیبارٹریوں سے مراد جدید طرز کی ’’آسڑو فزیکس لیبارٹریاں‘‘ ہیں، جن کا مقصد اسکولی سطح پر سائنسی تحقیق، فلکیات، کائناتی علوم اور جدید سائنسی تجربات سے طلبا کو روشناس کرانا ہے۔ سمارٹ کلاس روموں، اسمارٹ بینڈوں، بروائوزنگ سینٹوں،مصنوعی ذہانت لیبارٹریوں اور روبوٹکس لیبارٹریوںکے قیام سے متعلق تمام تکنیکی تفصیلات کی جانچ اور منظوری د سے متعلق کمیٹی کی سربراہی ، جے کے ای گورننس ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو کریں گے، جبکہ دیگر اراکین میںسٹیٹ انفارمیٹکس افسر این آئی سی ،گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ جموں، کی ایسو سیٹ پروفیسر شیتل گنڈوترا اور انڈئن انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی ؎ کے اسسٹنٹ پروفیسر سرادا پرساد گوچھایت شامل ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے انڈر سیکریٹری کو ممبر سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو 21 روز میں اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ ممبر سیکریٹری کو تمام اراکین کے ساتھ فوری رابطہ رکھنے اور بروقت اجلاس یقینی بنانے کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔اسی سلسلے میں ایک علیحدہ حکم نامہ جاری کیا ، جس میں حکومت نے 376 آغاز (اسٹرو فزیکس) لیبارٹریوں کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ کی جانچ کے لئے دوسری ٹیکنیکل جائزہ کمیٹی کی منظوری دی ہے۔یہ کمیٹی بھی چیف ایگزیکٹوا فسر جے کے ای گورننس ایجنسی کی سربراہی میں کام کرے گی۔ اس میں اسٹیٹ انفارمیٹکس افسر، این آئی سی، جی سی ای ٹی جموں کے نامزد نمائندے، آئی آئی ٹی جموں کے نامزد نمائندے شامل ہوں گے، جبکہ انڈر سیکریٹری آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ ممبر سیکریٹری ہوں گے۔حکم نامے کے مطابق اس کمیٹی کو 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ محکمہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کو پیش کرنی ہوگی۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ڈی پی آر میں درج تمام آلات اور تکنیکی خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لے اور تمام سرکاری قواعد و ضوابط کی مکمل تعمیل یقینی بنائے۔حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں تکنیکی کمیٹیوں کی تشکیل سے نہ صرف ڈیجیٹل تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کی دستیابی میں رفتار بڑھے گی بلکہ ریاست بھر کے طلبا کو سائنسی تحقیق، فلکیاتی علوم، جدید تجربات اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ تعلیمی ماحول میسر آئے گا۔