عظمیٰ نیوزسروس
حیدرآباد// تصوف اور اردو شاعری دونوں کی بنیاد محبت ہےاورہمارے بزرگوں نے دل کی بیداری کے طور پیش کیا۔ تصوف پر جغرافیائی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تصوف مذہب کا متبادل نہیں بلکہ مذاہب کے باطنی پہلو پر توجہ دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز شاعر و ادیب، محقق اور صحافی شمیم طارق نے شعبۂ اردو، مانو کی جانب سے ’’اردو شاعری میں تصوف‘‘ کے موضوع پر توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے متعدد صوفیوں بشمول بلھے شاہ اور شعراء میر، درد، غالب، مومن، اقبال، حسرت موہانی، جگر مرادآبادی وغیرہ کے کلام میں تصوف کے عناصر کی نشان دہی کی۔