یو این آئی
نئی دہلی// بہار میں سرکاری مدرسوں کی حالت زار،خستہ حالی اور ضروری سہولت کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینئر کانگریسی لیڈر ساجد ملک نے کہا کہ اقلیتی امور کی مد میں اربوں روپے پڑے ہیں لیکن اقلیتوں، سرکاری مدرسوں کو بنیادی اورضروری سہولت بہم پہنچانے کے رقم خرچ نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف حکومت کی جانب سے سرکاری مدرسوں کو اسکول کے مساوی سہولت فراہم کرنے کی بات کی جارہی ہے ،وہیں دوسری طرف سرکاری مدرسے، بہترین عمارت، پینے کے صاف پانی اور کمپیوٹر جیسی بنیادی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے معیاری تعلیم فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مدرسہ اصلاحات منصوبے کے تحت آر او پلانٹ لگائے جانے تھے لیکن مدرسہ میں باضابطہ پرچیزنگ کمیٹی نہ ہونے کے سبب اب تک مدرسوں میں آر او پلانٹ نہیں لگائے جاسکیں اور آر اوی پلانٹ نہ ہونے کی وجہ سے بچے آلودہ پانی پینے کے لئے مجبور ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہر محکمہ میں پرچیزنگ کمیٹی ہوتی ہے جو اپنی ضرورت کے حساب سے خریداری کرتی ہے اور اس کیلئے فنڈ الاٹ کیا جاتا ہے لیکن مدرسہ بورڈ میں پرچینگ کمیٹی نہیں ہے جس کی وجہ سے بلاواسطہ خریداری ممکن نہیں ہے اور فائل اقلیتی بہبود اور تعمیرات عامہ محکمہ کے درمیان بھٹکتی رہتی ہے۔