غیر ملکی سیاحوں کو ’خانہ فیسٹیول‘ میں جانے کی اجازت: وزارتِ داخلہ
جموں// فوج نے چینی فوجیوں کو مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کے ساتھ بفر زون قرار دیئے گئے علاقے میں نصب چار خیموں کو ہٹانے پر مجبور کردیا کا دعویٰ کرتے ہوئے علاقہ کے کونسلر نے کہا کہ علاقے میں فوج صورتحال پر مکمل کنٹرول میں ہے اور مکمل طور پر تسلط جما رہی ہے۔اسی دوران مرکزی وزارت داخلہ نے غیر ملکی سیاحوں کو 15 اور 16 جولائی کو منعقد ہونے والے لداخ خانہ بدوش فیسٹیول کے لیے خاص طور پر چانگتھانگ علاقے کے کانلے میں جانے اور رہنے کی اجازت دی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق، کچھ دن پہلے چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے مشرقی لداخ میں چشول کے علاقے گرونگ ہلز کے ٹیبل ٹاپ ایریا میں چار خیمے لگائے تھے۔
دونوں فوجوں نے علاقے کو بفر زون قرار دیا ہے۔مقامی لوگوں نے بفر زون میں خیموں کی تنصیب کا مشاہدہ کیا اور فوجیوں کو آواز دی۔ جس کے بعد فوج کے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور چینی فوجیوں کو خیمے ہٹانے پر مجبور کر دیا۔علاقے کے کونسلر کونچوک سٹینزین نے بتایا’’چینی فوج کے نصب کردہ چاروں خیموں کو اب ہٹا دیا گیا ہے‘‘۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس عمل کے دوران کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔انہوں نے فوج کی طاقت کی تعریف کی جس نے علاقے میں جمود کو بحال کرنے کیلئے پی ایل اے کے اہلکاروں کو فوری طور پر خیمے ہٹانے پر مجبور کیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج صورتحال پر مکمل کنٹرول میں ہے اور علاقے پر مکمل طور پر تسلط جما رہی ہے۔دریں اثنا، ایک اہم فیصلے میں، مرکزی وزارت داخلہ نے غیر ملکی سیاحوں کو 15 اور 16 جولائی کو منعقد ہونے والے لداخ خانہ بدوش فیسٹیول کے لیے خاص طور پر چانگتھانگ علاقے کے کانلے میں جانے اور رہنے کی اجازت دی ہے۔مقامی لوگوں نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے لداخ میں سیاحت کو مضبوطی سے فروغ ملے گا۔ ادھر ذرائع کے مطابق لداخ کی فوج اور سول انتظامیہ نے سیاحوں کے لیے مزید مقامات کو کھولنے پر بات چیت کے کئی دور کیے ہیں جن میں مشرقی لداخ میں پینگونگ جھیل کے قریب واقع مقامات بھی شامل ہیں۔مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ انتظامیہ مقامی لوگوں کے پرزور مطالبہ پر چاہتی ہے کہ سیاحوں کے لیے اس علاقے میں سیاحت کو مزید فروغ دینے کے لیے مزید مقامات کھولے جائیں۔