عظمیٰ ویب ڈیسک
نوشہرہ// فوج نے منگل کو راجوری میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے جنگجو کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
جموں میں مقیم فوج کے ترجمان نے کہا کہ چوکس دستوں نے 10 جولائی کی شب نوشہرہ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ ایک بڑے آپریشن میں دراندازی کی ایک بڑی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
اُنہوں نے کہا،” 10 جولائی کی نصف شب کو لائن آف کنٹرول کے ساتھ تعینات بھارت فوج کے الرٹ جوانوں نے نوشہرہ میں جنگجووں کے ایک گروپ کی مشکوک نقل و حرکت دیکھی ، جو لائن آف کنٹرول کے اس پار سے اس طرف مشکوک انداز میں بڑھ رہے تھے”۔
ترجمان نے کہا کہ لائن آف کنٹرول سے بھارتی حدود میں تقریباً 300 میٹر گھسنے کے بعد فوج نے انہیں چیلنج کیا جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ جنگجووں پر فوج کی شدید فائرنگ کے نتیجے میں ایک جنگجو مارا گیا ہے جب کہ دو زخمیوں کو جنہیں جنگل میں چھپتے دیکھا گیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ آپریشن کا علاقہ پہاڑی ہے، گھنے جنگل اور پودوں پر مشتمل ہے، خراب موسم کے باعث جنگجو جنگل میں چھپنے میں کامیاب ہوئے۔
اُنہوں نے کہا، “اضافی فوجیوں کو علاقے میں تعینات کیا گیا، اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ دو دن اور دو راتوں تک جاری رہنے والے ایک بڑے پیمانے پر تلاشی کی کارروائی میں، ایک جنگجو کی لاش ملی ہے اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور جنگی سامان بر آمد کیا گیا ہے” ۔
جنگل میں مزید تلاشی کارروائیوں کے دوران لائن آف کنٹرول کی طرف زمین پر گھسیٹنے کے نشانات کے ساتھ خون کے نشانات دیکھے گئے۔ “ممکنہ طور پر، دیگر زخمی، جنگجو جنگل کے پودوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کنٹرول لائن کے اس پار واپس جانے میں کامیاب ہو گئے”۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اسلحہ کا بڑا ذخیرہ برآمد ہواہے جن میں ایک اے کے 47 رائفل، 175 راونڈز ،تین اے کے میگزین، ایک 9 ایم ایم پستول، 15 راونڈز ، دو میگزین، چار دستی بم، مواصلاتی آلات، کھانے پینے کی اشیا کی بڑی مقدار اور کپڑے شامل ہیں۔
دفاعی ترجمان نے کہا،”فوری کارروائی سے نوشہرہ سیکٹر میں تعینات بھارتی فوج کے چوکس اہلکاروں نے دراندازی کی ایک بڑی کوشش کو ناکام کر دیا ہے، جس کا مقصد ضلع راجوری میں امن کو درہم برہم کرنا تھا”۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں بھی ایسی کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا، فوج ہر چیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔