جموں// آل جموں و کشمیر پنچایت کانفرنس نے یہ کہتے ہوئے کہ سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی آواس یوجنا گرامین کو بھڑکا کر سبوتاڑ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ان پرغریب مخالف ہونے کا الزام لگا کر تنقید کی۔ اے جے کے پی سی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے صدر انیل شرما نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک بار آئین کا حلف لینے والے سابق وزیر اعلیٰ پی ایم اے وائی گرامین اسکیم سے لاعلم تھے اور انہوں نے ‘حقیقت میں غلط’ بیان دیا۔ اس کا مقصد لوگوں کو گاؤں کی سطح پر بدامنی پھیلانے کے لیے اکسانا تھا۔ہم جموں و کشمیر میں بے گھر افراد کو زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہیں۔
ڈیموگرافک چینج کے نام پر عوام کو اکسا کر دیہی لوگوں کے لیے بنائی گئی فلاحی اسکیم کو سبوتاڑ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ شرما نے کہا کہ اس کا بیان مایوسی کا عکاس ہے۔انہوںنے کہا کہ ان سیاست دانوں نے کبھی دیہات میں رہنے والے غریب لوگوں کو کوئی امداد فراہم کرنے کی زحمت نہیں کی اور وہ حکومت کے اقدامات کو سراہنے کے بجائے غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر مرکزی علاقے کے غریب اور بے گھر لوگوں میں افراتفری پھیلا رہے ہیں۔شرما نے کہا کہ ان کے بیانات کی تردید کرنے والا سرکاری بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وہ اس اسکیم سے لاعلم تھی اور اس نے دیہی علاقوں میں غریب عوام کے لیے اس فلاحی اسکیم کو سبوتاڑ کرکے سیاسی پوائنٹ حاصل کرنے کے لیے نادانستہ طور پر کام کیا۔شرما نے کہا”ہم، پنچایت ممبران، عوام کے نچلی سطح کے نمائندے ہیں اور اس اسکیم سے بخوبی واقف ہیں۔ ابھی بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نہ صرف بے گھر ہیں بلکہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دیہی علاقوں میں بے زمین بھی ہیں خواہ وہ کشمیر ہو یا جموں‘‘ ۔انکا مزید کہناتھا”دیہات کے غریب لوگوں کو حکومت کی مدد کی ضرورت تھی اور انہیں امید کی کرن اس وقت ملی جب یوٹی انتظامیہ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں، ہر بے زمین خاندان کے لیے پانچ مرلہ زمین کا اعلان کیا۔ یہ ایک خوش آئند اور تاریخی اقدام ہے جس سے بے زمین غریبوں کو نہ صرف زمین کا ایک ٹکڑا اور مکان رکھنے کا حق ملے گا بلکہ یہ انہیں ذریعہ معاش بھی فراہم کرے گا ۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ سیاست دان، پی ڈی پی صدر کی طرح، گزشتہ 70 سال کے دوران جموں و کشمیر کے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کے لیے اپنے سیاسی کیریئر اور مراعات کو ترجیح دی۔ یہ پی ڈی پی کے دور حکومت میں تھا جب روشنی اسکیم متعارف کرائی گئی تھی جس میں سیکڑوں کنال اراضی پر سیاست دانوں نے ان لوگوں کی فعال حمایت سے قبضہ کر لیا تھا‘‘۔شرما نے پی ڈی پی صدر سے کہا کہ وہ دیہات میں رہنے والے غریب لوگوں سے غیر مشروط معافی مانگیں کیونکہ اس نے آبادی کی تبدیلی کے بے بنیاد بیانات کی آڑ میں اسکیم کو سبوتاڑ کرنے کی دانستہ کوشش کی تھی۔