ہڑتالی کالیں اور کرفیو قصہ پارینہ، امن و امان قائم ، یہ نہیں کہہ سکتے کہ سب کچھ 100 فیصد کنٹرول میں ہے:کرن سنگھ
جموں//جمو ں کشمیر میںحالات معمول پر لانے کیلئے ریاستی درجہ اور رسیاسی عمل کی بحالی کے سوا کوئی چارہ نہیں کی بات کرتے ہوئے سنیئر کانگریس لیڈر کرن سنگھ نے کہا کہ پنچایتی انتخابات ہوچکے ہیں، اور اب جلد از جلد اسمبلی انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔ سنیئر کانگریس لیڈر کرن سنگھ نے اس بات پر زو ر دیا کہ جموں کشمیر میں جلد از جلد انتخابات کرانے کے علاوہ ریاستی درجہ کی بحالی ممکن کرائی جائے ۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال بہترہے ، کہیں کرفیو یا بند کی کالیں نہیں ہے لیکن یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ سو فیصدی حالات کنٹرول میں ہے ۔ ایک نیوز چینل کے ساتھ خصوصی انٹر ویو میں کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’کسی وقت سیاسی عمل کو بحال کرنا ہوگا‘‘۔ ‘‘ریاست کو بحال کرنا ہوگا۔ تبھی جموں و کشمیر میں مکمل طور پر معمول بن گیا ہے ‘‘ ۔
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پنچایتی انتخابات ہوچکے ہیں، اور اب جلد از جلد اسمبلی انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔انہوں نے کہا ’’یہ اسمبلی انتخابات ہیں جو ابھی ہونے ہیں۔ انہیں جلد از جلد منعقد کیا جانا چاہئے۔ یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے کہ وہ کب کرے گی۔ یہ ان کا اختیار ہے۔ ‘‘ سنگھ نے کہا ’’ حریت کی کالیں اور اب بند نہیں بلکہ امن و امان بہتر ہے۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سب کچھ 100 فیصد کنٹرول میں ہے۔ کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ (صورتحال) بہتر ہوئی ہے‘‘۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خطے میں ترقیاتی پروجیکٹوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور انہوں نے ڈل جھیل اور اسمارٹ سٹیز پروگرام کے تحت ان منصوبوں کا ذکر کیا۔موجودہ سیاسی پیش رفت پر سنگھ نے کہا کہ جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مضبوط ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایک مضبوط اپوزیشن کے ابھرنے کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا۔انہوں نے کہا ’’جمہوریت میں حکومت مضبوط ہونی چاہیے اور اپوزیشن کو بھی مضبوط ہونا چاہیے۔ یہ اچھی بات ہے کہ اپوزیشن مضبوط بن کر ابھر رہی ہے‘‘۔ کانگریس سمیت ایک درجن سے زیادہ اپوزیشن جماعتوں نے حال ہی میں بہار کے پٹنہ میں بی جے پی کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کے لیے میٹنگ کی۔جموں و کشمیر ایل جی کی زیر قیادت انتظامیہ کے بے زمینوں کو پانچ مرلہ اراضی دینے کے اعلان کے بارے میں پوچھے جانے پرانہوں نے کہا کہ اگر یہ ریاست کا موضوع ہے تو یہ ایک مثبت اقدام ہے۔انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کے تعاون پر مشتمل پرامن عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بے زمینوں کو زمین کی تقسیم کی توثیق کی۔