اشفاق سعید
جموں //جموں ضلع جہاں ہر ماہ اوسطاً 60سے زائد سڑک حادثات میں 10سے بھی زیادہ لوگ اپنی قیمتی جانیں گنوادیتے ہیں،اس ضلع میں حادثات سے روکتھام کے حوالے سے کوئی بہتر اقدام نہیں کئے جا رہے ہیں، اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ اس ضلع میں روزانہ قیمتی انسانی جانیں تلف ہوجاتی ہیں۔سوال یہ بنتا ہے کہ کیا قوانین کی پاسداری نہیں ہو رہی ہے یا پھر سڑکوں پر ڈرائیونگ کے دوران غفلت شعاری سے کام لیا جا رہا ہے۔ سڑکوں کی خستہ حالی ،ڈرائیوروں کی تیز رفتاری،ٹریفک رولز کی خلاف ورزی ،ان حادثات کی بنیادی وجوہات اگرچہ بتائی جا رہی ہیں ،تو پھر کیا وجہ ہے کہ سب سے زیادہ سڑک حادثات جموںضلع میں ہوتے ہیں ،جبکہ سرکار نے روان سال مارچ میں جموں سٹی میں
انٹیلی جنٹ مینجمنٹ سسٹم(آئی ٹی ایم ایس ) کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے ۔یہ منصوبہ مکمل کرنے کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سے ٹریفک نظام میں بڑا تکنیکی انقلاب آئے گا اس سسٹم سے چوری شدہ گاڑی کی شناخت ، تیر رفتاری پر نظر ، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال ،اور دیگر ٹریفک قوا نین کی خلاف ورزیوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے ،لیکن یہ سسٹم نصب ہونے کے باوجود بھی جموں میں ٹریفک حادثات کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے اور اس ضلع میں ہر ماہ اوسطا60سے زیادہ سڑک حادثات میں 10سے زائد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔محکمہ کے عداد وشمار کے مطابق پورے جموں خطہ میں روان سال مئی تک 1576سڑک حادث رونما ہوئے ہیں، جس دوران 250لوگوں کی موت ہوئی ہے اور 2130لوگ زخمی ہوئے ہیں اور جموں ضلع سرفہرست رہا ہے جہاں مئی تک 483سڑک حادثات کے دوران 95لوگوں کی موت اور 545لوگ زخمی ہوئے ہیں ۔محکمہ کے اعداوشمار کے مطابق روان سال جنوری میں جموں ضلع میں 103سڑک حادثات کے دوران 13لوگوں کی موت ہوئی اور 101زخمی ہوئے ۔
فروری کے مہینے میں اس ضلع میں 110سڑک حادثات میں 23لوگوں کی موت ہوئی اور 105زخمی ہوئے ۔مارچ میں 73سڑک حادثات میں 13لوگوں کی موت ہوئی اور 74زخمی ہوئے ہیں ۔اپریل میں 90سڑک حادثات رونما ہوئے ،جس دوران 16لوگوں کی موت اور 95زخمی ہوئے ہیں ۔مئی کے مہینے میں 107سڑک حادثات کے دوران 30لوگوں کی موت ہوئی اور 170زخمی ہوئے ہیں ۔سال2022میں اس ضلع میں 1113سڑک حادثات رونما ہوئے تھے جس دوران 98لوگ ہی لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ 1476زخمی ہوئے تھے ۔جبکہ سال2021میں 1038سڑک حادثات کے دوران 107 لوگوں کی موت ہوئی ہے اور 1303زخمی ہوئے ہیں۔سنجیدہ فکر طبقہ کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کی سڑکوں پر موت کا خونین رقص کوئی نئی بات نہیں ہے البتہ جموں صوبہ میں سب سے زیادہ سڑک حادثات کا رونما ہونا تشویناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو اس کیلئے ایک منصوبہ بنایا چاہئے تاکہ روکتھام ہو سکے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ محکمہ ٹریفک کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ضلع جموں میں سب سے زیادہ سڑک حادثات رونما ہوتے ہیں، لیکن محکمہ بھی لگاتار کوشش کر رہا ہے کہ ٹریفک حادثات میں کمی لائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نے مئی تک جموں شہر میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کورٹ اور کماونڈ چالان کئے ہیں اور خفیہ کمیروں کی مدد بھی لی جا رہی ہے اور ان کی مدر سے خلاف وزری کرنے والوں کے گھروںتک آن لائن چالان پہنچ رہے ہیں ۔