راجوری// راجوری ضلع کے جنگلاتی کنڈی علاقے میں چھپے ہوئے جنگجووں کے ساتھ ہفتہ کی صبح کے بعد فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا،وہیں ملی ٹینٹوں کا سراغ لگانے کے لیے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم تیسرے دن میں داخل ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق، جمعہ کی صبح کیسری ہل جنگل میں سیکورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی، جس دوران وہاں چھپے عسکریت پسندوں کی طرف سے کیے گئے ایک دھماکے میں پانچ فوجی اہلکاروں کی جانیں چلی گئیں، اگلی صبح ہفتہ کو علاقے میں ایک ملی ٹینٹ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب اس کے ایک اور ساتھی کے ساتھ کچھ دیر تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
دفاعی ذرائع کے مطابق، دوسرے ملی ٹینٹ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوا ہے جو کئی گھنٹے تک جاری رہا لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، حکام نے بتایا کہ آخری اطلاعات موصول ہونے تک آپریشن “ترینترا” جاری تھا۔
ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا، “ہفتے کے روز انکاو¿نٹر کے بعد ملی ٹینٹوں کے ساتھ کوئی تازہ رابطہ نہیں ہوا۔ علاقے میں شام (ہفتہ) کو شدید بارش ہوئی لیکن آپریشن جاری ہے اور فرار ہونے کے تمام راستے بند ہونے کے ساتھ علاقے کو سخت حفاظتی حصار میں رکھا گیا ہے”۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے علاقے میں فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکار تعینات ہیں اور عسکریت پسندوں کا سراغ لگانے کے لیے بڑے پیمانے پر کومبنگ آپریشن میں مصروف ہیں۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آرمی چیف جنرل منوج پانڈے اور جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو راجوری میں ایس آف سپیڈس ڈویژن ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔
راجوری تصادم آرائی: تلاشی کاروائی تیسرے روز بھی جاری