جموں//ڈی اے پی اور دیگر جماعتوں کے 59 لیڈر اے آئی سی سی انچارج جموں و کشمیر اموررجنی پاٹل کی موجودگی میں کانگریس میں شامل ہوئے۔ رجنی پاٹل (ایم پی)کے علاوہ اس موقعہ پرپی سی سی صدر وقار رسول وانی، سابق صدر پیرزادہ محمد سعید، سابق نائب وزیراعلیٰ تارا چند ،ٹھاکر بلوان سنگھ، جو حال ہی میں دہلی میں پارٹی میں شامل ہوئے تھے،بھی موجود تھے۔اس موقع پر کارگزار صدر رمن بھلا، اے آئی سی سی کے سکریٹری انچارج جموں و کشمیر امور منوج یادو، سابق مرکزی وزیر او رہاتھ سے ہاتھ مہم کے اے آئی سی سی مبصر بھرت سنگھ سولنکی بھی موجود تھے۔ رجنی پاٹل نے قائدین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان قائدین جن کی پارٹی سے مختصر وقت کے لئے رخصتی پہلے ہی پارٹی نے منظور کی ہے انہیں پارٹی میں مناسب عزت اور مقام دیا جائے گا۔رجنی پاٹل نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا 19 جنوری کو دوپہر کو لکھن پور میں داخل ہو گی اور وہاں رات کے ٹھہرے گی۔ اگلے دن یاترا ہٹلی موڑ سے چڈوال (23 کلومیٹر) تک شروع ہوگی اور وہیں قیام کرے گی۔ 21 جنوری کو وقفہ ہوگا اور یہ 22 جنوری کو ہیرا نگر سے ڈگر حویلی نانک چک (21 کلومیٹر) تک دوبارہ شروع ہوگی۔ یہ 23 جنوری کو وجے پور سے ستواری تک شروع ہو کر سدھرہ میں رات کو ٹھہرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یاترا کے مزید شیڈول کا اشتراک اس وقت کیا جائے گا جب اسے یوٹی انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے کلیئر کیا جائے گا۔انہوںنے کہا کہ اس یاترا میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کئی اہم رہنما شامل ہو رہے ہیں جن میں این سی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، شیوسینا لیڈر سنجے راؤت، سی پی ایم لیڈر محمد یوسف تاریگامی، اے این سی سے مظفر شاہ اور کئی دوسرے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی یاترا نہیں ہے بلکہ ایک سماجی یاترا ہے جس میں ‘نفرت چھوڑو بھارت جوڑو’ کے مقصد کے ساتھ ساتھ عوام اور نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بھی تاریخی یاترا ہوگی اور 30 جنوری کو سری نگر میں اختتام پذیر ہوگی جس کے لئے ہمارے صدر ملک ارجن کھرگے نے 31 سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مدعو کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ روٹ پلان اور ہر چیز کو یوٹی انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ان کے مشورے اور کامل تال میل کے لیے شیئر کیا جا رہا ہے، کیونکہ ہم بھی اپنے لیڈر راہل گاندھی کی سلامتی اور زندگی کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔انہوں نے یاترا کے لیے میڈیا کے تعاون کی دعوت دی اور امید ظاہر کی کہ یاترا کی اہمیت کے پیش نظر مناسب کوریج دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راہل گاندھی کی دو پریس کانفرنسیں جموں اور سری نگر میں ایک ایک کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ میڈیا والے رہنما کے ساتھ بات چیت کر سکیں۔