نیوز ڈیسک
جموں// صوبائی دارالحکومتی شہرجموں میں جمعرات کو بھی جموںمنتقلی کے حق میں کشمیری پنڈت ملازمین اورریزرو کٹیگریز ملازمین کا احتجاج جاری رہا جبکہ رہبر کھیل ،رہبر جنگلات ملازمین اورجموں میونسپل کارپوریشن کے صفائی کرمچاریوں نے بھی اپنی مانگوں کو لیکر احتجاج کیا ۔ آل مائیگرنٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن کشمیر کے بینر تلے پی ایم پیکیج ملازمین نے جموں پریس کلب کے باہر احتجاج کیااور وادی میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہونے تک کشمیر سے جموں منتقلی کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے دوران مظاہرین میں سے ایک نے کہا”کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے مختلف اضلاع میں خدمات انجام دینے والے پی ایم پیکیج ملازمین میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ہم پی ایم پیکیج ملازمین کے مسائل پر حکام کی خاموشی سے مایوس ہیں‘‘ ۔ایک اوراحتجاجی کا کہنا تھا کہ ’’ہم حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے پرامن مظاہرے کر رہے ہیں تاہم ملازمین پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ادھرجموں میں مقیم ریزرو کیٹیگری کے تمام ملازمین جو کشمیر ڈویثن کے مختلف محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ایک مناسب جامع ٹرانسفر پالیسی بنانے اور جلد از جلد لاگو کرنے کے اپنے حقیقی مطالبے کے ازالے کے لیے 226ویں روز احتجاج جاری رکھا۔احتجاجی ملازمین نے کہاکہ ایل جی انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ پانچ ماہ سے ان کی تنخواہیں روکے رکھنے کی وجہ سے وہ بری طرح متاثر ہیں۔ ملازمین کو پوری امید ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ اس معاملے میں ذاتی طور پر مداخلت کریں گے اور ایل جی انتظامیہ کو ان کی تنخواہوں کی اجرائی اور جلد از جلد ایک مناسب جامع ٹرانسفر پالیسی تیار کرنے کے احکامات جاری کریں گے۔ اس دوران گزشتہ کئی دنوں سے بی جے پی کی ریاستی یونٹ کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنے پر بیٹھے رہبر جنگلات ملازمین نے ایک منصفانہ اور عقلی پالیسی بنانے تک لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں انصاف فراہم کریں۔یہ ملازمین جو بی ایس سی/ ایم ایس سی فاریسٹری اور یہاں تک کہ کچھ پی ایچ ڈی بھی ہیں، رہبرِ تعلیم اور رہبرزراعت کی طرز پر رہبر ِ جنگلات اسکیم کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ REZ کے لیے کم از کم اہلیت BSc/MSc ایگریکلچر بھی ہے لیکن بدقسمتی سے، جموں و کشمیر انتظامیہ کے معاملات کی سربراہی میں لوگوں نے انہیں 1900 کے پے گریڈ کے ساتھ 5200-20200 روپے کے نچلے گریڈ میں رکھا ہے جبکہ REZ میں ان کے ہم منصبوں کو 9300-34800 روپے کے اعلی گریڈ میں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اعلیٰ حکام کو متعدد بار درخواستیں دے چکے ہیں اور 2017 سے جدوجہد بھی کر رہے ہیں لیکن یہ سنگین امتیازی سلوک ختم نہیں ہوا۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر اور چیف سکریٹری پر زور دیا کہ وہ انہیں انصاف فراہم کریں اور ان کی گریڈ پے میں تنخواہ کی بے ضابطگی کو دور کریں۔اس دوران رہبر کھیل کے تحت تعینات اساتذہ نے اپنی مانگوں کو لے کر سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے۔احتجاجی ملازمین نے بتایا کہ پچھلے تین ہفتوں سے وہ احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن سرکار اْن کی جائز مانگوں کی اور کوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ احتجاج کی خاطر وہ کشمیر سے جموں آئے لیکن اس کے باوجود بھی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ انتظامیہ نے حال ہی میں رہبر کھیل کے تحت تعینات ٹیچروں کے حوالے سے ایک آرڈر نکالا جو ناقابل برداشت ہے اور اس کو فوری طورپر کالعدم قرار دینے کی ضرورت ہے۔
ڈی اے پی رہبر کھیل اساتذہ کے احتجاج میں شامل
جموں// ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے رہنماؤں نے جمعرات کو جموں میں احتجاجی رہبر کھیل اساتذہ میں شمولیت اختیار کی۔ ڈی اے پی لیڈروں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے چیئرمین غلام نبی آزاد واحد رکن پارلیمنٹ تھے جنہوں نے پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا۔ ڈی اے پی جنرل سیکریٹری آر ایس چب نے کہا’’ حکومت ترجیحی بنیادوں پر ان امیدواروں کی شکایات کا ازالہ کرے کیونکہ انہیں اپنی خدمات کو ریگولرائز کرنے کا حق حاصل ہے۔ وہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کی میعاد کی کامیابی سے تکمیل پر، حکومت ان کی ملازمتوں کو باقاعدہ کرنے کی پابند ہے لہٰذا ہم جموں کشمیر کی حکومت سے ان کے معاملے کو مثبت انداز میں دیکھنے کی اپیل کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ حکومت کی خدمت میں دیا ہے اور وہ اب باوقار روزی کے مستحق ہیں۔ ترجمان سلمان نظامی نے کہا کہ “یہ اساتذہ اب کمانے کے لیے کہاں جائیں گے؟ اپنی زندگی کا بہترین وقت انہوں نے حکومت کو دیا ہے، اب ان کے خاندان اور بچے ہیں، وہ معمولی تنخواہوں سے کیسے انتظام کریں گے، ہم ان کے لیے اس وقت تک لڑیں گے جب تک وہ ریگولر نہیں ہوجاتے۔” اس موقع پر جی ایم سروڑی وائس چیئرمین ڈی اے پی، جوگل کشور صوبائی صدر، نریش گپتا، اشوک شرما، الیاس وانی اور دیگر موجود تھے۔