بشیر احمد ڈار
اسلام کی زرین تاریخ میں جن عظیم شخصیات نے علم و فضل اور زہدو تقوی میں نام کمایا اورامتِ مسلمہ کے لیے سودمند عملی اورروحانی خدمات سر انجام دیں، صدیاں بیت جانے کے بعد بھی ان کی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ان کے علمی نوادارت کی وسعت اور افادیت کا ہی نتیجہ ہے کہ ان سے آج بھی لوگ بہرہ ور ہورہے ہیں ۔ انہی شخصیات میں ایک خاص نام مولاناجلال الدین رومیؒ کا بھی ہے جو ساتویں صدی ہجری کے آغاز میں پیدا ہوئے ۔ علومِ دینیہ اور تصوف میں کمال حاصل کیا ۔ تصنیف و تالیف کے ساتھ شغف رہا ۔آپ اصل نام محمد بن محمد بن حسین بلخی ہے ۔ جلال الدین آپ کا لقب ہے اور مولانا رومی کے نام سے معروف و مشہور ہوئے ۔ آپ6 ربیع الاول604ھ کو قدیم اور تاریخی شہر، بلخ میں پیدا ہوئےجو کہ افغانستان کے صوبہ بلخ میں واقع ہے ۔اُن دنوں اِس علاقے کو خراسان کہا جاتا تھا، جب کہ یہاں تاجک نسل کی اکثریت تھی، اس لیے بعض سوانح نگاروں نے اُنھیں تاجک قرار دیتے ہوئے علاقے کو تاجکستان بھی تحریر کیا ہے۔ تاہم، مؤرخین متفّق ہیں کہ آپؒ کا والد کی جانب سے سلسلۂ نسب، حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق ؓ سے ملتا ہے۔آپؒ کا خاندان اِس خطّے میں خراسان کی فتح کے موقعے پر آباد ہوا تھا۔ آپؒ اپنے والدین کی تیسری اولاد تھے۔ سب سے بڑی بہن، فاطمہ اور پھر بھائی، علاء الدّین تھے۔ مولانا جلال الدّین کے والد، شیخ بہاء الدّینؒ بہت بڑے عالمِ دین اور صاحبِ روحانیت تھے۔ اپنے علاقے میں مرجّعِ خلائق تھے کہ لوگ علمی و روحانی رہنمائی کے لیے اُن کی طرف رجوع کرتے، جس کے سبب سلطان خوارزم شاہ اُنھیں اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھنے لگا، اس پر شیخ بہاء الدّین ؒنے بلخ چھوڑنے کا فیصلہ کیا،تو مُلک میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اُنھوں نے تاتاریوں کی یلغار کے سبب بلخ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا، جسے پانچ، چھے سال بعد، یعنی 617 ہجری میں چنگیز خان نے تباہ وبرباد کردیا تھا ۔ وہاں سے قافلہ بغداد پہنچا، تو حضرت شیخ شہاب الدّین سہروردیؒ نے استقبال کیا، بعدازاں، کوفہ سے ہوتے ہوئے مکّہ معظّمہ گئے اور فریضۂ حج ادا کیا۔پھر قافلہ دمشق اور وہاں سے آقشہر( آذربائیجان) پہنچا، جہاں شیخ بہاء الدّین کے لیے بادشاہ کی بہن نے ایک مدرسہ تعمیر کروایا اور وہ چار برس تک وہاں درس و تدریس میں مشغول رہے۔اس کے بعد قونیہ کے قریب، لارندہ آگئے اور سات برس وہیں رہے۔مولانا رومی نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے ہی حاصل کی اور پھر سید برہان الدین جو کہ آپ کے والد کے مرید تھے، آپ کا معلم اوراتالیق مقرر کیاگیا ۔ انہی سےآپ نے بیشترعلوم حاصل کیے ۔ شیخ بہاؤ الدین 610ء میں نیشا پور چلے گئے ،جہاں شیخ بہاؤ الدین کی ملاقات خواجہ فرید الدین عطارؒ سے ہوئی ۔اس وقت مولانا رومؒ بھی آپ ؒ کے ہمراہ تھے جن کی عمر اس وقت صرف چھ سال تھی، خواجہ صاحب کی جب مولانا رومی پر نظر پڑی تو شیخ بہاؤ الدین سے فرمایا کہ ’’اس کی قابلیت سے غافل نہ ہونا‘‘اور اسے دینی علوم سے بہرہ ور کرنا۔حضرت عطار نے ساتھ ہی اپنی مثنوی ’’اسرار نامہ ’’ مولانا کو پڑھنے کے لیے عنایت کی ۔ حج کی سعادت حاصل کرتے ہوئے بہاؤالدین اناطولیہ پهنچے ۔جب سلطان علاء الدّین کیقباد کو شیخ بہاء الدّین ؒکے لارندہ میں قیام کی اطلاع ملی، تو اُنھوں نے وہاں کے گورنر کو ایک خط لکھا اور حکم دیا کہ حضرت شیخؒ کے قونیہ آنے کے انتظامات کیے جائیں، جب شیخ بہاء الدّینؒ قونیہ منتقل پہنچے، تو بادشاہ استقبال کے لیے محل سے باہر آیا۔ یہاں آپ ؒکے لیے ایک بڑا مدرسہ بنایا گیا اور اخراجات کے لیے جائداد بھی وقف کی گئی۔تاہم، شیخ بہاء الدّین دو سال بعد ہی80 برس کی عُمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کے بعد رومی نے والد کی گدی سنبھال لی۔ حلقۂ درس میں شریک ہونے والے حاکم وقت اور اعیان دولت ان سے بے انتہا عقیدت رکھتے تھے ۔مولانا رومی کی شادی اٹھارہ سال کی عمر میں گوہر خاتون سے ہوئی جو کہ سمر قند کے ایک با اثر شخص کی بیٹی تھی ۔آپ کے والد کا انتقال ہوا تو 24 برس کے تھے، مگر حصولِ علم کا شوق ابھی باقی تھا، لہٰذا اُس دور کے ایک بڑے علمی مرکز، دمشق چلے گئے۔وہاں محی الدّین ابنِ عربیؒ، شیخ سعدالدّین حمویؒ اور شیخ صدر الدّین قونویؒ وغیرہ سے بھی صحبتیں رہیں۔ حلب اور دمشق کے علماء سے تفسیر، حدیث اور فقہ کا درس لیا اور اُس علمی کمال کو پہنچے کہ مشکل مسائل کے حل کے لیے آپؒ ہی کی طرف رجوع کیا جاتا تھا۔ ابھی تعلیم کا سلسلہ جاری تھا کہ اُن کے استاد اور والد کے خلیفہ، سیّد برہان الدّینؒ نے اُنھیں قونیہ بلوا لیا تاکہ وہ والد کی مسند پر جلوہ افروز ہوں اور مدرسے کا نظم و نسق سنبھالیں۔اُنھوں نے9 برس تک مولانا رومی ؒکی روحانی تربیت بھی کی۔ مولانا جلال الدّین رومیؒ بہت بڑے عالم دین، بے مثال فقیہ، مدرّس اور اعلیٰ پائے کے خطیب تھے۔اُن کے مدرسے میں چار سو سے زاید طلبہ زیرِ تعلیم تھے، جب کہ وہ دیگر مدارس میں بھی درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب تاتاریوں کے حملوں کے سبب علماء اور صوفیا کی ایک بڑی تعداد قونیہ کا رُخ کر رہی تھی اور یہ شہر ایک علمی مرکز کا روپ دھار چُکا تھا، مگر ان علماء میں مولانا جلال الدّین کی ایک الگ ہی شان تھی۔ جب مدرسے سے نکلتے، تو طلبہ اور امراء اُنھیں گھیرے ہوتے۔ لوگ فتویٰ کے لیے اُن کی طرف رجوع کرتے۔بادشاہ اور امراء تک رسائی تھی اور وہ اُن کے پاس حاضری کو اپنے لیے سعادت سمجھتے۔ عوامی اجتماعات سے بھی خطاب کیا کرتے، جس کی بہت شہرت تھی۔
مولانا جلال الدّین رومیؒ ایک عظیم المرتبت والد کے زیرِ سایہ جوان ہوئے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ’’ اگر میرے والد چند برس اور زندہ رہتے، تو مَیں شمس تبریز کا محتاج نہ ہوتا۔‘‘ تقریباً 12، 15 سال تک درس و تدریس کا یہ سلسلہ جاری رہا، مگر پھر ایک روز زندگی نے ایسا پلٹا کھایا کہ مولانا جلال الدّین، مولائے رومؒ بن گئے۔ خود فرماتے ہیں،’’ مولوی ہرگز نہ شُد مولائے روم …تا غلام شمس تبریز نہ شُد‘‘ یعنی مَیں کبھی مولائے روم نہ بن سکتا، جب تک شمس تبریز کا غلام نہ ہوا۔ہوا یوں کہ ایک روز ایک مجذوب صفت شخص سے اُن کی ملاقات ہوئی، جس نے اُنھیں اپنا اسیر بنالیا اور پھر مولانا کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا اور یہی وہ باب ہے، جس نے اُنھیں دائمی شہرت بخشی۔یہ اُس وقت کی بات ہے، جب وہ40 برس کے تھے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق، ایک بار شمس تبریزؒ نے دُعا مانگی کہ’’ الہٰی! کوئی ایسا بندہ ملتا، جو میری صحبت کا متحمّل ہوسکتا۔‘‘ اس پر اُنھیں غیب سے روم( اُس زمانے میں قونیہ وغیرہ کو روم کہا جاتا تھا) جانے کا اشارہ ہوا۔وہاں پہنچ کر ایک سرائے میں ٹھہرے۔جب مولانا جلال الدّین رومیؒ حسبِ معمول طلبہ اور امراء کے جَلو میں وہاں سے گزرے، تو شمس تبریزؒ ایک دَم اُن کے سامنے آگئے اور اُن سے کچھ ایسے سوالات کیے، جو روحانی اسرار و رموز سے بھرپور تھے۔ مولانا رومیؒ نے اپنی دانست میں اُن کے جواب دیے، لیکن جب شمس تبریزؒ نے اُن کے اسرار بیان کیے، تو وہ ہکّا بکا رہ گئے۔نیز، شمس تبریزؒ کی روحانی توجّہ نے اُنھیں کچھ ایسا گھائل کیا کہ پھر اُنہی کے ہوکے رہ گئے اور اُنھیں اپنے ساتھ مدرسے لے آئے۔ مختلف روایات کے مطابق وہاں40 روز، تین ماہ یا چھے ماہ تک دونوں بزرگ صلاح الدّین نامی شخص کے حُجرے میں چلّہ کش رہے، جس کے دَوران صاحبِ حُجرہ کے علاوہ کسی کو اندر آنے کی اجازت نہ تھی۔اب مولانا تھے اور شمسؒ ، باقی تمام مشاغل چُھوٹ گئے۔ درس و تدریس کا سلسلہ منقطع ہوا، تو وعظ کہنا بھی چھوڑ دیا۔یہ صُورتِ حال طلبہ کے ساتھ اُن کے معتقدین اور عام شہریوں کے لیے بھی حیران کُن تھی، اِس لیے وہ شمس تبریزؒ کے خلاف ہوگئے کہ اس دیوانے نے جانے مولانا پر کیا سحر کردیا ہے۔ جب بات بڑھی، تو ایک روز شمس تبریزؒ چُپکے سے دمشق چلے گئے۔ جب صبح مولانا رومیؒ کو اُن کے یوں غائب ہونے کا علم ہوا، تو جُدائی کے صدمے سے بے حال ہوگئےاورسب سے لاتعلق ہوکر خود کو گھر تک محدود کرلیا۔جب یہ معلوم ہوگیا کہ شمس تبریزؒ دمشق میں ہیں تو مولانا رومیؒ نے اپنے بیٹے، سلطان ولد کو وہاں بھیجا اور وہ اُنھیں اپنے ساتھ قونیہ لے آئے۔ کچھ عرصہ بعد شمس تبریرؒ کی شادی ہوگئی اور مولانا نے اپنے گھر کے قریب ہی اُن کی رہائش کا انتظام کردیا۔معاملات ٹھیک چل رہے تھے، مگر پھر مولانا کے چھوٹے بیٹے، علاء الدّین اور شمس تبریزؒ کے درمیان کسی معاملے پر تنازع شروع ہوگیا۔ تنازعے نے شدّت اختیار کی، تو شمس تبریزؒ ایک روز اچانک غائب ہوگئے اور پھر کبھی اُن کا کوئی سراغ نہیں ملا۔۔۔(جاری)۔۔۔
<[email protected]>