نئی دہلی// سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) جموں و کشمیر میں ولیج ڈیفنس کمیٹی کے ممبروں (وی ڈی سی) کو ہتھیاروں کی تربیت فراہم کرے گی تاکہ وہ دہشت گردانہ حملے کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکیں۔
حکام نے کہا کہ تربیتی شیڈول ، ہتھیاروں کی مختلف اقسام اور شرکاءکی تعداد کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔اس نئی تجویز کے طریقوں کی ابھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
بتادیں کہ راجوری ضلع میں ڈانگری واقعے کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ نے حال ہی میں وی ڈی سیز کو ہتھیار دوبارہ جاری کرنا شروع کیے ہیں۔
سی آر پی ایف کے ایک سینئر افسر نے کہا،”سی آر پی ایف گاوں کے محافظوں کو ہتھیاروں کی تربیت فراہم کرے گی تاکہ وہ دہشت گردانہ حملے کی صورت میں دفاعی لائن کے طور پر کام کر سکیں”۔
انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو رضاکاروں کو بنیادی جسمانی جنگی مشقوں کی تربیت بھی دی جائے گی۔
یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے راجوری ضلع کے ڈانگری گاوں میں ہوئے دو عسکری حملوں کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں دو بچوں سمیت سات افراد ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہوئے تھے۔
سیکورٹی اور انتظامیہ کے عہدیداروں کے ایک اعلیٰ سطحی پینل نے اس حملے کے بعد سیکورٹی گرڈ کو مضبوط بنانے کے لئے راجوری اور پونچھ میں تقریباً 1800 اہلکاروں پر مشتمل سی آر پی ایف کی 18 نئی کمپنیاں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
افسر کے مطابق، اضافی اہلکاروں کی تعیناتی سے جموں خطے میں ابھرتے ہوئے دہشت گردی کے چیلنجوں سے نمٹنے اور جموں و کشمیر میں متوقع انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف قسم کی داخلی سلامتی کو برقرار رکھا جا سکے گا۔
ادھر آئندہ یوم جمہوریہ کی تقریبات کے پیش نظر دہشت گردوں کی جانب سے امن و امان کو خراب کرنے کے خطرے کو مدِ نظر رکھ جموں و کشمیر انتظامیہ نے وی ڈی سیز کو چوکس رہنے کو کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد کے ساتھ وی سی کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔
وی ڈی سی ممبروں کو ہتھیاروں کی تربیت دی جائے گی:سی آر پی ایف