جموں//جموں وکشمیر کی سرمائی راجدھانی جموں میں رہبر کھیل کے تحت تعینات اساتذہ نے اپنی مانگوں کو لے کر سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے۔معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے احتجاج پر بیٹھے ملازمین کو منتشر کرنے کے لئے پہلے لاٹھی چارج کیا اور بعد میں اْنہیں گھسیٹ کر گاڑیوں میں بٹھایا گیا۔ بدھ کے روز جموں میں رہبر کھیل اساتذہ نے تعینات پریس کلب جموں کے باہرسڑکو ں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے۔معلوم ہوا ہے کہ ملازمین نے کافی دیر تک مین شاہراہ پر دھرنا دیا گر چہ پولیس نے اْنہیں سمجھانے کی کوشش کی تاہم ملازمین دھرنے پر بضد رہے جس کے بعد پولیس نے اْنہیں منتشر کرنے کی خاطر لاٹھی چارج کیا۔پولیس نے متعدد مظاہرین کو گھسیٹ کر گاڑیوں میں بٹھایا۔اس سے قبل نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران ملازمین نے بتایا کہ پچھلے سولہ دنوں سے وہ احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن سرکار اْن کی جائز مانگوں کی اور کوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ احتجاج کی خاطر وہ کشمیر سے جموں آئے لیکن اس کے باوجود بھی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ انتظامیہ نے حال ہی میں رہبر کھیل کے تحت تعینات ٹیچروں کے حوالے سے ایک آرڈر نکالا جو ناقابل برداشت ہے اور اس کو فوری طورپر کالعدم قرار دینے کی ضرورت ہے۔
منجیت سنگھ کی رہبر ِ کھیل ملازمین پر لاٹھی چارج کی مذمت | اعجاز کاظمی کا سبھی یومیہ اْجرت ملازمین کو مستقل کرنے کا مطالبہ
جموں// اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں اور سابقہ وزیر سردار منجیت سنگھ نے پْر امن طور احتجاج کر رہے رہبر ِ کھیل اساتذہ پر پولیس لاٹھی چارج کی سخت لفظوں میں مذمت کی ہے۔ منجیت سنگھ نے پر امن مظاہرین جوکہ اپنی ریگولر ائزیشن، اْجرتوں میں اضافہ اور بقیہ اْجرتوں کی واگذاری کا مطالبہ کر رہے تھے، پر پولیس کے غیر ضروری لاٹھی چارج پر غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’رہبر ِ کھیل مختلف محکموں میں خدمات انجام دے رے ہیں اور حکومت کو چاہئے کہ وہ اْن کی سروسز کو تسلیم کرے، اْن کے مطالبات جائز ہیں اور پولیس کے ذریعے اْن پر لاٹھیاں برسانا انتہائی قابل ِ مذمت ہے۔انہوں نے مزید ہاکہ یہ انسانی مسئلہ ہے اور جورہبر ِ کھیل میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، کی عمر کی حدپار ہوگئی ہے اور اْن کے مستقبل کے بارے میں سوچنا اْنہیں دوبارہ بے روزگار کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہئے کہ انسانی بنیادوں پر اْن کی ریگولر آئزیشن کے لئے پالیسی مرتب کرے اور اْن سبھی کو مستقل کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ وہ ایک قلیل سے رقم پر کام کر رہے ہیں جس سے ایک وقت کا کھانا بھی بمشکل ملتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اْن کی ماہانہ اْجرتوں میں اضافہ کیاجائے تاکہ وہ ایک باعزت زندگی جی سکیں اور اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلواسکیں۔دریں اثناء اپنی ٹریڈ یونین جموں وکشمیر صدر اعجاز کاظمی نے یومیہ اْجرت ملازمین کی مستقلی میں حکومتی سطح پر لیت ولعل کا مظاہرہ کئے جانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مختلف محکمہ جات میں 61ہزار سے زائد ڈیلی ویجرز کام کر رہے ہیں لیکن حکومت نے ابھی تک اْن کی مستقلی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کیا۔ بیروکریسی ایل اجی انتظامیہ کو ڈیلی ویجروں کے حوالے سے گمراہ کر رہی ہے اور وہ اِن کی مستقلی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر رہ گئے ہیں۔