ڈوڈہ//ڈوڈہ میں جموں وکشمیر پولیس نے لشکر طیبہ کے ایک مفرور کمانڈر کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، مفرور لشکر طیبہ کے کمانڈر عبدالرشید عرف جہانگیر ولد ارسلہ کھانڈے سکنہ خانپورہ تحصیل پھگسو ، ٹھاٹھری کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ڈوڈہ میں موجود اس کی جائیداد (زمین) ضبط کر لی ہے۔
پولیس کی طرف کی جاری ایک بیان کے مطابق، عبدالرشید عرف جہانگیر نے عسکریت پسندی میں شمولیت اختیار کی اور اسلحہ کی تربیت حاصل کرنے کے لیے سال 1993میں پاکستان چلا گیا۔ پاکستان میں اسلحہ کی تربیت حاصل کرنے کے بعد، اس نے دراندازی کی اور ضلع ڈوڈہ میں ملی ٹینسی سے متعلق سرگرمیوں میں سرگرم رہا۔ وہ دیگر خوفناک اور کٹر ملی ٹینٹوں کے ساتھ شہریوں/سیکیورٹی فورسز پر عسکری حملوں اور خطے میں آتش زنی، دھماکوں وغیرہ اور دیگر عسکری واقعات میں ملوث پایا گیا۔ اس کے علاوہ ضلع ڈوڈہ کے کئی نوجوانوں کو اس نے نوے کی دہائی میں عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے اکسایا اور بھرتی کیا۔
پولیس بیان کے مطابق،ایک اور ملی ٹینٹ محمد امین عرف خبیب سکنہ ٹھاٹھری کو بھی ابتدائی طور پر اس نے ملی ٹینسی میں شامل ہونے کی ترغیب دی تھی اور بھرتی کیا تھا جو اس وقت پاک زیر انتظام کشمیر میں ایک سرگرم ملی ٹینٹ ہے جہاں سے وہ چناب خطے میں دوبارہ ملی ٹینسی کو فروغ دینے کی کوشش میں ہے اور جموں خطہ میں حالیہ اور ماضی میں دہشت گردی سے متعلق متعدد واقعات میں ملوث پایا گیا ہے جس میں جموں خطے میں عسکریت پسندی کو بحال کرنے کے لیے آئی ای ڈی دھماکے، ڈرون گرانے، ہتھیاروں کی نقل و حمل کی کوششیں وغیرہ شامل ہیں۔ خبیب کو عدالت کے حکم پر اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ فی الحال، دونوں ملی ٹینٹ محمد امین عرف خبیب اور عبدالرشید عرف جہانگیر ،دونوں ٹھٹھری کے رہائشی ہیں، پاک زیر انتظام کشمیر سے کام کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا/ورچوئل موڈ کے مختلف ذرائع سے ضلع ڈوڈہ کے نوجوانوں کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کی طرف راغب کر رہے ہیں۔
پولیس بیان میں مزید کہا گیا ہے مفرور عبدالرشید عرف جہانگیر دہشت گردی سے متعلق گھناؤنے واقعات میں ملوث تھا جبکہ وہ ضلع ڈوڈہ میں دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں سرگرم تھا اور اس کے خلاف پولیس تھانہ بھدرواہ میں آر پی سی 7/27 کی دفعہ 121،302، 364 انڈین آرمز ایکٹ درج کیا گیا تھا اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ کے تحت پولیس تھانہ ٹھاٹھری میں ایک مقدمہ FIR نمبر 64/2009زیردفعہ03درج کیا گیا تھا۔ اسے مفرور قرار دیا گیا اور بعد ازاں عدالت کے حکم سے اشتہاری مجرم قرار دیا گیا۔ اس کی جائیداد کی قرق کرنے کا وارنٹ ایس ایس پی ڈوڈہ نے آگے بڑھایا اور نتیجتاً ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈوڈہ نے ایک ٹیم تشکیل دی تاکہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کیا جائے اور گاؤں خانپورہ تحصیل پھگسو (ٹھاٹھری) میں واقع مفرور شخص کی (4 کنال اور 2½ مرلہ اراضی) جائیداد پولیس اور محکمہ مال کی ایک مشترکہ ٹیم کے زریعے سی آر پی سی 1973 کی شق 83(4) کے تحت ضبط کر لی گئی۔
اُنہوں نے بتایا کہ ڈوڈہ پولیس دیگر مقامی ملی ٹینٹوں کے خلاف سی آر پی سی کی شق 82/83 کے تحت کارروائی شروع کرنے کے عمل میں ہے جو ماضی میں عسکریت پسندی کے دوران ضلع ڈوڈہ میں ملی ٹینسی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور اس وقت پاک زیر انتظام کشمیر میں ہیں اور ورچوئل موڈ/سوشل میڈیا کے ذریعے ضلع کے مقامی نوجوانوں کو ملی ٹینسی میں شامل ہونے اور ضلع ڈوڈہ میں عسکریت پسندی کو بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ڈوڈہ میں لشکر طیبہ کے کمانڈر کی جائیداد ضبط