پرویز احمد ریشی
وادی میں سخت سردیوں کا موسم ’’چلے کلاں‘‘21دسمبر سے شروع ہوکر یکم فروری 2023کو ختم ہوگا۔ یہ سیزن مویشیوں کیلئے کافی تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ زیادہ تر مویشی روایتی طور پر بنائے گئے شیڈوں میں رکھے جاتے ہیں جہاں گرمی ، متوازن غزائوں اور گرم پانی کا کوئی بھی انتظام نہیں ہوتا۔ ان سخت سردیوں کو برداشت کرنے کیلئے مویشیوں کا صحت مند اور اچھی حالت میں ہونا لازمی ہے۔ مویشوں کو موسم سرما کے دوران کسی بھی بیماری سے بچانے کیلئے بھر پور غزا اور جراثیم کش ادویات کے علاوہ ویکسین لگانا لازمی ہوتا ہے۔ ان سخت سردیوں سے نپٹنے کیلئے مویشی پالنے والوں کو ’’چلے کلاں‘‘ سے قبل تیاریاں پوری کرنی چاہئے۔ مویشی پالنے والوں کو موسم خزاں سے قبل ہی تمام تیاریاں مکمل کرنی چاہئے۔ میشوں کیلئے گھاس، سائلیج،گاجر، مولی کو پشو پالن کے منصوبہ کے تحت پہلے ہی جمع کرلینا چاہئے۔ پچھلے 2سال کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ چند کسا ن بیرون ریاستوں سے لائے گئے سائلیج پر منصر رہتے ہیں اور گھاس، گاجر ، مولی اور زمین سے نکلنے والی دیگر غزائوں کو نظر انداز کرتے ہیںجو مضر صحت ہے اور مویشیوں کیلئے نقصان دہ ہے۔ سوکھی گاس موشیوں کے جسم میں درجہ حرارت کو برقرار رکھنے میں کافی مدد گار ہوتی ہے اور اسلئے موشیوں کو گاجر ، مولی اور زمین سے نکلنے والی دیگر سبزیاں کھلانا چاہئے۔ میوشیوں کے غزا میں 35فیصد سے زیادہ سائلیج کسی بھی صورت میں نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ مویشیوں کیلئے جانلیوہ ہیں۔ میوشیوں کے سونے کیلئے آرام دہ بچھونا ہونا چائے جن میں درختوں کے سوکھے ہوئے پتے، توت کے پتے وغیر، گاس اور لکڑی کا برادہ(کوش) کوبچھا کے رکھنا چاہئے۔ سردیوں کے دوران عضویاتی عمل سے جسم پر موجود بالوں سے خود کو گرم رکھتا ہے۔ سردیوں کے دوران عضویاتی عمل میں اضافہ کی وجہ سے موشیوں کے جسم کوبہتر حالات میں رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں بھر پور غزا اور ان کے جسمانی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ جوں ہی درجہ حرارت 20Fسے نیچے جاتا ہے تو موشیوں کے جسم میں مضویاتی نظام کو بہتر رکھنے کیلئے پیدا ہونے والی غزا کی کمی مثلا پروٹین، وٹامن، اینرجی اور پانی کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔ گاجر، مولی ، سوکھی گاس اور دیگر غزائوں میں موجود 60فیصد بھدامادہ کی وجہ سے مویشی اپنی جسم کی گرمی اور درجہ حرارت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ زیادہ سردی مویشیوں میں توانائی اور پروٹین کی زیادہ ضرورت کو پیدا گرتا ہے جو کھلی اور گڑ غزا میں شامل کرکے پورا کیا جاسکتا ہے۔ البتہ مویشی پالنے والوں کیلئے مقامی سطح پر دستیابی گڑ اور کھلی کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ موسم سرماد کے دوران سردیوں سے نپٹنے کیلئے مویشیوں کو 20فیصد اضافہ غزا کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ معمول کے درجہ حرارت میں جتنی ڈگری کم ہے اور اتنا ہی فیصد گذا موشیوں کا بڑھانا چاہئے۔
حاملہ جانور کو موسم سرما کے دورام ہرسبزیاں جن میں گاجر ، مولی اور زمین سے حاصل ہونے والی دیگر سبزیاں ضروری وٹائمن اور منیریل کے ساتھ ملاکر دیں۔کسان Urea mineral molasses blocksکا بھی استعمال کرسکتے کیونکہ ان سے جانوروں کو زیادہ توانائی، پروٹین اور دیگرمنیرلز ملتے ہیں۔ موسم سرما کے دوران مویشیوں کے کھانے پینے کا خاصل خیال رکھنا ہوتا ہے اور اس کیلئے کسانوں کو جانکاری اور تربیت دینے ہوتی ہے تاکہ کسان سائلیج، خوراک اور دیگر چیزیں خود تیار کرنا سکھ جائیں۔ کریشی وگیان کیندرا کو ڈیوژنل اینیمل نیوٹریشن اورشیر کشمیر ایگریکلچرل یونیورسٹی کشمیر کے مووٹین لائیو سٹاک ریسریچ انسٹی ٹیوٹ ، مانسبل اس مقصد کیلئے بہترین ادارے سمجھے جاتے ہیں۔ موسم سرما کے دوران زیادہ خشک کھانا کھانے کی وجہ سے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن موسم سرما کے دوران پانی پینے کی مقدار میں کمی آتی ہے اور اس کی وجہ سے جانوروں کے بچے بیمار ہوتے ہیں۔موسم سرما کے دوران جانوروں کو زیادہ پانی پینے کیلئے تیار کرنا چاہئے۔ جانوروں کو موسم سرما کے دوران ہر دن تین مرتبہ 30منٹ کیلئے نیم گرم پانی پلانا چاہئے۔ جانوروں کو متدل تعداد میں پانی پلانے سے وہ نہ صرف پیشاب کی بیماریوں سے بچتے ہیں بلکہ بڑے جانوروں میں کیلشم ہر جگہ پہنچ جاتا ہے۔
جانوروں؎ کیلئے رہائش کے صحیح انتظامات ان کی نشونما میں کلیدی رول ادا کرتی ہے۔ پشوپالن کی جانکاری سے محروم کسان موسم سرما کے دوران جانوروں کی جگہوں کو پالیتھین سے بند کردیتے ہیں اور کھڑکیوں تک میں پالیتھین لگا کر تازہ ہوا کو اندر آنے سے روک دیتے ہیں بلکہ چند کسان جانوروں کے شیڈوں میں بخاریاں اور الیکٹرک ہیٹر بھی لگتا ہے لیکن یہ اقدامات جانوروں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچاتا ہے۔ عام طور پر ان اقدامات کی وجہ سے جانور جھلس جاتے ہیں یا کئی جگہوں پر جانوروں کی جان بھی چلی جاتی ہے۔ ہوا آنے کا کوئی انتظام نہ ہونے، دویں اور ایمونیا کے جمع ہونے سے جانوروں میں سانس کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے بدلے ٹاٹ کی بوریوں کا استعمال کرنا چاہئے کیونکہ ان بوریوں سے نہ صرف تازہ ہوا شیڈ میں آتی ہے بلکہ زہریلی گیس بھی باہر جاتی ہے۔ جانوروں کیلئے بنائے گئے شیڈ کا فرش پکہ،گرم اور دھونے کے لائق شیڈ موسم سرما کے دوران پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔ فرش کو نرگھاس، سوخے پتوں اوربورے اور دیگر چیزیں بچھانی چاہئیاور یہ سطح کم سے کم 4سے 6انچ کی ہونی چاہئے کیونکہ یہ جانوروں کو گرمی باہر کرنے میں مدد دیتا ہے اور ان سے وہ ہڈیوں کی کئی بیماریوں اور پیروں کے انفیکشن سے بچتے ہیں۔جانوروں کے شیڈ کے فرش کو لگاتار صاف اور بدلنا چاہئے۔ موسم سرما کے دوران جانوروں کے رہنے کی جگہ کی صفائی خاصی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور اس کو کسی بھی صورت میں بلانا نہیں چاہئے۔جانوروں کو خشک کپڑے سے دن میں ایک یا دو بار صاف کرنا چاہے۔ جانوروں کو دن میں کم سے کم ایک گھنٹہ گھر کے آنگن میں ہی گھمانا چاہئے اگر برف کی وجہ سے گھر سے باہر لے جانا ممکن نہ ہو۔ جانوروں کو دوپہر کو کھانے، پانی پینے اور ورزش کیلئے باہر لانا چاہئے جو انہیں نہ صرف ا ضافی ہوا فراہم کرے گا بلکہ انہیں گندہ ہونے سے بھی بچایا گا۔ جانوروں کیلئے اچھی رہنے کی جگہ، بہتر غزا اور دیگر چیزوں سے ماحولیات کو بدلا جاسکتا ہے اور ہر وقت ماہرین کے مشوروں پر عمل کرنے سے سردیوں میں پیداوار میں کمی، زچگی اور دیگر اقدامات سے چلے کلاں میں ہونے والے نقصان کو بچایا جاسکتا ہے۔
(مضمون نگار، سکاسٹ کے موٹین لائیوسٹاک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، شعبہ اینیمل نیوٹریشن میں سائنسدان ہے)
([email protected])