جموں//جموں و کشمیر میں ایگری ٹیک اسٹارٹ اپ ہب بننے کی بڑی صلاحیت ہے کی بات کرتے ہوئے سائنس اور ٹکنالوجی کی وزارت کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ تیکینکی مداخلت کے ذریعے سیب اور اسٹرابیری جیسے پھلوں کی شیلف لائف کو کولڈ چین کی سہولیات قائم کرکے بڑھایا جا سکتا ہے۔ جموں میں ایک تقریب کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ جموں میں اگائے جانے والے بانس کو کئی مفید مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس میں اگربتی بھی شامل ہے۔ تیکنکی مداخلت کے ذریعے سیب اور اسٹرابیری جیسے پھلوں کی شیلف لائف کو کولڈ چین کی سہولیات قائم کرکے بڑھایا جا سکتا ہے۔ غیر لکڑی کے جنگلاتی پیداوار جیسے گچی، مشروم اور دیگر دوائوں کے پودے جموں و کشمیر میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ وادی چناب یا پیر پنجال علاقہ (راجوری، پونچھ( اچھے معیار کے شہد اور غیر لکڑی کے جنگلاتی پیدوار کا گھر ہے۔ تاہم،ان کی مناسب طریقے سے مارکیٹنگ نہیں کی جاتی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ پیداوار، فروخت اور مارکیٹنگ کو باہمی تعاون کے ذریعے شروع کرنے کی ضرورت ہے، جس میں ریاستی محکمہ جنگلات اور جے اینڈ کے میڈیسنل پلانٹس بورڈ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آیوش کی وزارت نے بھدرواہ میں ایک تحقیقی مرکز کے قیام کے لیے 200کروڑ روپے فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر نے کہا کہ مختلف ترقیاتی شعبوں جیسے کہ دیہی ترقی، زراعت اور باغبانی میں کام کرنے والی سرکاری تنظیموں کو مسلسل ہاتھ تھامے رکھنے کی ضرورت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ شیر کشمیر ایگریکلچر یونیورسٹی کشمیر، بھیڑ پالنے اور حیوانات کے محکموں کو ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ زراعت اور باغبانی کے شعبوں میں مقامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ان نوجوانوں کو تربیت دینے کیلئے کیا جانا چاہیے جو ان شعبوں میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہان سرکاری تنظیموں کو سنبھالنے کیلئے ایگری اور اس سے منسلک شعبوں میں کام کرنے والی ممتاز این جی اوز، اور تحقیقی اداروں کو شامل کرنا بہت ضروری ہے۔ مارکیٹ کے مناسب روابط کے لیے، حکام کو مقامی زرعی کی کم از کم امدادی قیمت کی ضمانت دینے والی پالیسی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کو فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز اور کوآپریٹیو میں ادارہ جاتی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “این جی اوز کو فصلوں کی بیمہ کروانے کے لیے کسانوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے، جو جموں اور کشمیر میں بہت اہم ہے۔