اسد مرزا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ایسا گمان ہوتا ہے جیسے کہ دنیا میں جمہوریت کے سب سے پرانے مرکز -امریکہ میں غیر متوقع تبدیلیاں بدستور جاری رہیں گی۔ اس ضمن میں تازہ ترین واقعہ گزشتہ ہفتے وہاں کے وسط مدتی انتخابات میں بائیڈن انتظامیہ کو پہنچنے والی شکست سے ظاہر ہے۔‘‘
……………………………………………..
ایک عام تاثر ہے کہ جمہوری نظام میں، ہر حکمران جماعت کو وسط مدتی انتخابات میں اقتدار مخالف عنصر یعنی کہ Anti Incumbency Factorکا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، صدر جو بائیڈن کے معاملے میں گزشتہ ہفتے امریکہ میں ایوانِ زیریں یعنی کہ House of Representativies اور ایوان بالا یعنی کہ Senate کے وسط مدتی انتخابات میں جس طریقے سے ان کی ڈیموکریٹک پارٹی کو سینٹ میں اکثریت حاصل ہوئی، اور ساتھ ہی House of Representativiesمیں ڈیموکریٹک پارٹی کو پہلے سے جاری اندازوں کے مقابلے میں کم سیٹوں کا نقصان ہوا۔ اور یہ گزشتہ چالیس سالوں میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی برسرِ اقتدار پارٹی دونوں ایوانوں میں نمایاں وسط مدتی انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکی۔
مستقبل کی راہ :
صدر بائیڈن نے ان انتخابات کو امریکی جمہوریت کے امتحان کے طور پر ایک ایسے وقت میں وضع کیا تھا جب سینکڑوں ریپبلکن حامیوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جھوٹے وعدوں کو قبول کیا تھا کہ 2020 کے صدارتی انتخابات میں فتح ان کی ہوئی تھی، لیکن جیت ان سے ’’چرالی‘‘ گئی تھی۔
ایوانِ زیریں میںکم اکثریت کی وجہ سے صدر بائیڈن کو ری پبلکن پارٹی کی جانب سے ہر قدم پر احتجاج کا سامنا کرنے کے اندیشے لگائے جارہے ہیں۔ صدر بائیڈن نے حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریپبلکنز کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے ریپبلکن ہاؤس کے رہنما کیون میک کارتھی سے بات کی، جنہوں نے ایوان کے اسپیکر کے لیے انتخاب لڑنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا ہے۔ بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی عوام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ریپبلکن ارکان بھی ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیاررہیں۔
امریکی تنوع کا ماڈل :
وسط مدتی انتخابات میں جس چیز کو سب سے زیادہ نوٹس کیا گیا، وہ تھی ان میں حصہ لینے والے مسلمانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد، جن میں بہت سے عرب -امریکی بھی شامل ہیں۔ 145 مسلمان امریکیوں نے پورے امریکہ میں انتخابی مقابلوں میں حصہ لیا اور 89میں فتح حاصل کی۔ اس کے علاوہ 29 امریکی مسلمان 18 ریاستوں میں ریاستی قانون ساز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پانچ عرب- امریکیوں کو امریکی سینیٹرز کے طور پر ملک کے اعلیٰ ترین قانون ساز ادارے یعنی کے سینٹ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ عرب اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے 6دیگر افراد امریکی ایوان نمائندگان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ہندوستانی زاویے سے دیکھا جائے تو حکمران ڈیموکریٹ پارٹی کے ریکارڈ پانچ ہندوستانی نژاد امریکی قانون ساز جن میں راجہ کرشنامورتی، رو کھنہ، پرمیلا جے پال، شری تھانیدار اور امی بیرا شامل ہیں، ایوان نمائندگان کے لیے منتخب ہوئے، جبکہ کئی دیگر ریاستی مقننہ میں منتخب ہوئے۔
مختلف ریاستی مقننہ میں جگہ بنانے والے ہندوستانی نژاد امریکیوں میں اروند وینکٹ، پنسلوانیا میں طارق خان شامل ہیں۔ سلمان بھوجانی اور سلیمان لالانی ٹیکساس میں؛ مشی گن میں سام سنگھ اور رنجیو پوری، الینوائے میں نبیلہ سید، میگن سری نواس اور کیون اولیکل، جارجیا میں نبیلہ اسلام اور فاروق مغل؛ میری لینڈ میں کمار بھروے اور اوہائیو میں انیتا سامانی۔ نبیلہ سید الینوائے کی جنرل اسمبلی کی نشست جیت کر کسی بھی ریاستی مقننہ کی اب تک کی سب سے کم عمر رکن بن گئیں۔
سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں پارٹیوں نے بڑے پیمانے پر ہندوستانی نژاد امریکیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہ اس حقیقت کی وجہ سے تھا کہ انہیں کئی اہم حلقوں میں فیصلہ کن عنصر کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔
بھارت، چین، یوکرین اور ایران کے ساتھ تعلقات پر اثرات :
مجموعی طور پر بدلی ہوئی کانگریس میں ہندوستان کو امریکی انتظامیہ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ امریکہ اور ہندوستان کے دو طرفہ تعلقات کو ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں کے درمیان یکساں طور پر دو طرفہ حمایت اور اہمیت دونوں حاصل ہیں۔ اس وجہ سے حکومتِ ہند کو کوئی ایسی تشویش نہیں رکھنی چاہیے کہ ایسے انتظامیہ میں جہاں کہ ریپبلکن پارٹی ایوانِ زیریں اور ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ بالا میں اکثریت رکھتی ہیں تو ان دونوں کے آپسی سیاسی تضاد کا کوئی منفی اثر ہندوستان پر ہوگا، کیونکہ حکومتِ ہند کے تعلقات دونوں پارٹیوں سے تقریباً برابر کے رہے ہیں۔
چین کے بارے میں ایک جارحانہ امریکی پالیسی ٹرمپ کے دور میں تشکیل دی گئی تھی، جس نے تعلقات کے اقتصادی پہلو پر زیادہ توجہ مرکوز کی تھی۔ صدر بائیڈن نے ٹرمپ کی طرف سے شروع کیے گئے بیشتر اقدامات کو برقرار رکھا ہے، اور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک زیادہ واضح انداز اپنایا ہے۔ اس میں انسانی حقوق، صنعتی پالیسی، جمہوریت بمقابلہ آمریت کی بحث، اور تائیوان کے لیے معاون اعلانات شامل ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر آپٹکس میں ریپبلکن شامل ہوسکتے ہیں جو بورڈ میں چین کو پیچھے دھکیلتے ہوئے دیکھا جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جہاں تک یوکرین کا تعلق ہے، وائٹ ہاؤس نے یوکرین کے لیے غیر متزلزل حمایت ظاہر کی ہے، لیکن کانگریس پر ریپبلکنز کا کنٹرول یوکرین کے لیے معاملات کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ریپبلکنز کے اندر مختلف کیمپ اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مستقبل کے اسپیکر میکارتھی نے پچھلے مہینے کہا تھا کہ اگر ریپبلکن اکثریت جیت جاتے ہیں تو یوکرین کے لیے ”بلینک چیک” نہیں لکھیں گے۔ میک کارتھی کے تبصرے مالی مدد کے بارے میں ان کی پارٹی کے بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کے عکاس ہیں۔
دریں اثنا، کانگریس کا ریپبلکن کنٹرول ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے خطرہ کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے، جسے بائیڈن انتظامیہ بحال کرنے کی شدت سے کوشش کر رہی ہے۔ صدر بائیڈن کو بہت سے ریپبلکنز نے ان مظاہرین کی حمایت کے لیے مزید حمایت نہ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جوکہ ایران کی علما کی حکومت کے خلاف ہفتوں سے مظاہرے کر رہے ہیں۔ اندیشے ہیں کہ اگر ڈیموکریٹس اور ریپبلکن کے درمیان اس موضوع پر کشیدگی بڑھتی ہے تو ریپبلکنز 2015میں پاس کیے گئے ایک قانون کے تحت صدر جوبائیڈن کی ایران کے خلاف عائد کی گئی معاشی پابندیاں ہٹانے کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مجموعی طور پر، آنے والے دو سال صدر بائیڈن کے لیے آسان وقت ثابت نہیں ہوں گے۔ ان کی پالیسیوں کو خارجی اور اندرونی ہر سطحوں پر ہر مرحلے پر چیلنج کیا جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بائیڈن انتظامیہ اپنی توانائی دیگر عالمی اور بڑے مسائل پر مرکوز کرنے کے بجائے چھوٹے اور اندرونی مسائل میں الجھ جائے گا۔ جس کا مجموعی اثر عالمی سطح پر امریکہ کی شبیہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کیونکہ ایسے حالات ہوسکتے ہیں کہ جہاں صدر کوئی اور فیصلے کرنا چاہتے ہیں لیکن ایوانِ زیریں کے ارکان ان کی مخالفت پر آمادہ ہوں۔ درحقیقت ان دو سالوں میں صدر جو بائیڈن کی سیاسی سوجھ بوجھ اور امریکی پالیسیوں کو
فروغ دینے کی ان کی ہر کوشش کے لیے ریپبلکن پارٹی ایک چیلنج ثابت ہوسکتی ہے۔اگر وہ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کامیاب رہے تو پھر وہ آئندہ 2024میں صدر کے عہدے کے لیے دوبارہ انتخاب لڑسکتے ہیں۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ، ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمزدبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ رابطہ کے لیے: www.asadmirza.in)
�������������������������������
امریکی صدر بائیڈن کی سیاسی مشکلات میں اضافہ