سہیل بشیر کار، بارہمولہ
قریب ایک ہفتہ قبل ایچ عبدالرقیب نے مولانا محمد یوسف اصلاحی مرحوم پر اپنا مضمون بھیجا،مضمون شاندار تھا۔میں نے ان سے اسی وقت گزارش کی کہ آپ پروفیسر نجات اللہ صدیقی پر ایک مضمون لکھیں،بہت اچھا ہوگا اگر ان کی زندگی میں ہی ان پر ایک مضمون رقم ہو اور میں نے اصرار کیا کہ آپ ایسا کرسکتے ہیں۔ابھی رقیب صاحب سے بات چیت جاری تھی کہ اسلامی معاشیات کے عظیم عالم دین، اسکالر و مفکر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے انتقال کی اطلاع ملی ۔ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے مجھے اپنی تین کتابیں چھاپنے کے لیے دی تھیں،ایک کتاب ’’رجوع الی القرآن اور دیگر مضامین ‘‘راقم نے شائع کی تھی، جبکہ گزشتہ پندرہ روز سے راقم اور ابوالاعلیٰ اُن کی دوسری کتاب کی طباعت میں لگے تھے اور خیال تھا کہ پروفیسر نجات اللہ صدیقی صاحب کو کسی طرح کتاب پہنچائی جائے لیکن اللہ رب العزت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔نجات اللہ صاحب سے راقم کو وقتاً فوقتاً فیض حاصل کرنے کا موقع ملا، مجھے یاد ہے کہ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ آپ کو میں نے میل کیا ہو ،اس کا جواب آپ نے نہ دیا ہو۔میں جب بھی فون کرتا اکثر کہتے کہ بہت اچھا لگا آپ سے بات کرکے ، میں حیران ہو جاتا کہ علم کا شہسوار کس طرح ایک عام انسان کو اس قدر حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ کئی بار انہوں نے مجھے اپنے مضامین خاص کر اپنی مشہور زمانہ و یگانہ کتاب ‘مقاصد شریعت کے مندرجات بھیجا کرتے تھے اور مطالبہ کرتے تھے کہ میں اپنی رائے پیش کروں،میں ایسے میل دیکھ کر شرمندہ ہوجاتا تھا۔پروفیسر نجات اللہ صدیقی جہاں بہت بڑے عالم تھے، وہیں آپ با اخلاق بھی تھے، میں جب ان سے ملنے ان کے گھر علی گڑھ گیا تو بڑے تپاک سے ملے۔مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ اپنے ہاتھوں سے چائے کپ میں انڈیل دی اور مجھے پیش کی، میرے سطحی سوالات کو غور سے سنتے رہے، واپسی پر میرا تاثر یہ تھا کہ کس قدر بڑا انسان ہے کہ مجھ جیسے عام فرد کو بھی عزت دی ۔پروفیسر صاحب سے میں عجیب فرمائشیں کرتا، ایک بار میں نے فہیم صاحب کی کتاب کا دیباچہ لکھنے کی گزارش کی فوراً مان گئے اور دیباچہ لکھ کر بیجھا، اس دیباچہ میں لکھتے ہیں: “سو سال پہلے کے ماحول کو تصور میں لانا دشوار ہے مگر ناممکن نہیں ۔ پوری دنیائے اسلام پر بشمول برصغیر ہند، یورپ کی سامراجی قومیں مسلط تھیں مگر دیکھنے والے کی نگاہیں دیکھ رہی تھیں جلدی ان کا تسلط ختم ہونے والا ہے اور مشرق کی یہ قومیں جن میں بڑی تعداد میں مسلمان شامل تھے، آزادی پانے والی ہیں ۔ ایسے وقت میں ضرورت تھی کہ انہیں اپنے اپنے ملکوں کی تعمیر نو میں اسلامی تعلیمات سے وابستہ رہنے کا سبق پڑھایا جائے ۔ سرمایہ داری ،سوشلزم،کمیونزم اور دوسرے خدا بیزار نظاموں کے چیلنج سے انہیں آگاہ کیا جائے اور ان کے مقابلہ کے لیے تیار کیا جائے ۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ ہماری آبادیوں کی بھاری اکثریت مغربی زبانوں اور علوم سے بے بہرہ تھی بلکہ بڑی حد تک ناخواندہ تھی یہ کام علمی مباحث منطقی استدلال اور سائنٹفک تجزیہ کی سطح پر کم اور جذباتی اپیل کی سطح پر زیادہ کیا گیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال ( ۱۹۳۸-۱۸۷۷ ) اس کام کی انجام دہی میں سب سے آگے بلکہ اس رجحان کے امام اعظم تھے۔ ۲۸ سالہ اقبال کی نظم شکوہ (۱۹۰۵ ) اور 36 سالہ اقبال کی نظم جواب شکوہ ( ۱۹۱۳ ) پر قوم نے جو داد دی، وہ پندرہ بیس سال بعد دیئے گئے لیکچرز ”Reconstruction of Religious Thought in Islam” پر نہیں ملی ۔ جذباتی لوگ تجزیاتی باتیں نہیں سنتے ۔”
ایک بار میں نے اپنے عزیر پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی کی کتاب پر انہیں اپنے تاثرات پیش کرنے کا کہا تو فوراً لکھ کر بھیج دیا، لکھتے ہیں: “گرامی نامہ مورخہ 18 اپریل آپ کی کتاب “نظریۂ اجتہاد اور اقبال ‘‘کے ساتھ ملا۔ بہت بہت شکریہ۔ میں نے پوری کتاب پڑھی اور اس سے فائدہ اٹھایا کیونکہ آج اس موضوع پر مزید غور وفکر کی ضرورت محسوس کرتا ہوں ۔ آپ نے بہت اہم موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا اور اسے شائع کیا ۔اس سلسلے کو جاری رکھئے ۔ مثلا ًاقبال اور جن معاصر شخصیتوں کے حوالہ سے آپ نے دعوت اجتہاد پرمشتمل تحریریں نقل کی ہیں ان میں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کا اثر کیا ہوا اور اگر خاطر خواہ اثر مسلم عوام و خواص پر نہیں ہوا تو اس کے کیا اسباب ہیں۔” ڈاکٹر صاحب ہر ایک کی حوصلہ افزائی کرتے جس کا ثبوت یہ خط ہے، آپ کی خواہش تھی کہ امت مسلمہ خوب سوچے۔مجھے یاد ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ہو ان کو فون کرکے پوچھتا،انہوں نے اپنے ارد گرد “تقدس کا پردہ ” حائل نہیں کیا تھا۔میرے لئے وہ مربی بھی تھے۔
‘’’رجوع الی القرآن اور دیگر مضامین‘‘میں ان کا تعارف یوں درج ہے۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی گورکھپور (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے، وہی ابتدائی تعلیم کے مراحل طے کیے۔ اعلیٰ تعلیم مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ سے حاصل کی ۔ ۱۹۵۰ میں ثانوی درس گاہ رام پور میں داخلہ لیا جبکہ ان کی عمر ۱۹ سال تھی۔ وہاں ۱۹۵۳ تک عربی اور دینی علوم کی تحصیل کی ۔ علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1978 تک وہی لیکچرر، ریڈر اور پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں۔ ایک طویل عرصے تک وہ ملک عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ (سعودی عربیہ) میں اسلامی معاشیات پر ریسرچ مرکز میں پروفیسر رہے، وہاں سے شائع ہونے والے علمی مجلہ کی مجلس ادارت کے رکن بھی بنائے گئے۔ علی گڑھ کی قیام کے ابتدائی دور میں ’’اسلامک تھاٹ‘‘ نامی انگریزی علمی مجلہ کی مجلس ادارت کے بھی رکن رہے۔ اسلامی معاشیات پر ان کے علمی کام کا اعتراف کرتے ہوئے ۱۹۸۲ میں انہیں شاہ فیصل بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی تقریباً ایک درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں ۔ان میں غیر سودی بینک کاری، اسلام کا نظریہ ملکیت، تحریک اسلامی ۔عصر حاضر میں، انشورنس اسلامی معیشت میں ، اور مقاصد شریعت ،خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ ان کی انگریزی تصانیف میں مسلم ایکنامک تھنکنگ بے حد مقبول ہے۔ ان کی کئی کتابوں کے انڈونیشی، مالے، فارسی، ترکی اور عربی وغیرہ زبانوں میں ترجمے بھی شائع ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب جہاں معاشیات، تحریکی اسلامی، مسلمانوں کے مسائل پر لکھتے تھے، وہیں ادب شناس بھی تھے، ڈاکٹر صاحب کے تعارف کے لیے ان کی ایک اہم کتاب ’’اسلام، معاشیات اور ادب (خطوط کے آئینے میں)‘‘ کا مطالعہ لازمی ہے۔اس کتاب کے ذریعے ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے کئی گوشے سامنے آتے ہیں، میں نے جب اس کتاب کا مطالعہ کیا تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ آپ افسانے بھی لکھتے تھے،یہ کتاب اگرچہ خطوط پر مشتمل ہے لیکن انتہائی باریک نکات کو زیر بحث لایا گیا ہے،ساتھ ہی یہ پتہ چلتا ہے کہ کس طرح دین کی لگن ڈاکٹر صاحب کے ہاں تھی کہ آپ نے تعلیم میں تین سال کی بریک لے لی اور اس کے بعد ایک مشن کے تحت اکنامکس کی مزید تعلیم حاصل کی۔آپ آزاد تھنکر تھے۔ظاہر ہے نئے مسائل پر لکھتے تو اپنی رائے پیش کرتے۔چونکہ ہمارے معاشرہ میں ابھی تک نئی رائے برداشت کرنے کا مادہ کم ہے، لہٰذا آپ پر کچھ زیادہ ہی تنقیدیں ہوتی، جب آپ کی شہکار کتاب ‘’مقاصد شریعت‘ شائع ہوئی، اس کتاب کے تبصرہ میں برصغیر کے محقق ڈاکٹر غلام قادر لون کہتے ہیں: ’’اردو زبان میں مختلف موضوعات پر آئے دن کتابیں شائع ہوتی رہتی ہیں مگر زیر تبصرہ کتاب ’مقاصد شریعت‘ کا موضوع خاص اور منفرد اہمیت کا حامل ہے، فاضل مصنف نے اس میں شرعی احکام کی حکمتوں پر گفتگو کی ہے ،جس سے علماء اور محققین کو بحث و تمحیص کا نیا میدان ہاتھ آگیا ہے، فاضل مصنف کا خیال ہے کہ شرعی احکام کی حکمتوں کو معلوم کرکے مقاصد شریعت کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کرنے کی شدید ضرورت ہے۔‘‘
آج اسلام سیاسی یلغاز اور فکری حملوں کی زد میں ہے، حالات کا تقاضا ہے کہ اسلام کی دعوت کو جدید اسلوب میں موثر طریقے سے پیش کیا جائے تاکہ یہ دنیا کے سامنے ایک زندہ اور جامع نظام حیات کی شکل میں آئے، جن مسائل نے آج کے انسانوں کو سکون قلب سے محروم کر رکھا ہے، اُن مسائل پر وہ علماءکرام زیادہ بہتر انداز میں گفتگو کر سکتے ہیں جو ایک طرف ان کا ادراک و احساس رکھتے ہوں ،دوسری طرف مقاصد شریعت سے گہری واقفیت رکھتے ہوں۔فاضل مصنف کی یہ رائے وزن رکھتی ہے کہ وہ اصل مقاصد ،جن کو حاصل کرنے کے طریقے زماں و مکان کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ان مقاصد کی پہچان اور ان کے حصول کے طریقوں کی تدریس میں عقل ایک فعال رول ادا کرتی ہے ۔‘‘اس کتاب پر بہت تنقید کی گئی اس دوران میں نے ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب سے اس کتاب پر ایک مفصل ریویو لکھوایا جو کہ افکار ملی میں شائع ہوا، اس کتاب سے مصنف جو پیغام دینا چاہتے تھے ہم نے وہ سمجھنے کی کوشش نہ کی ،اس کے برعکس ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر تنقید کرنے لگے، اس دوران راقم نے ان کو ‘مقاصد شریعت کے حوالے سے کئی مضامین اور کتابیں بھیجی، جن کو انہوں نے پسند کیا۔مقاصد شریعت کے حوالے سے ان سے فون پر لمبی باتیں ڈاکٹر غلام قادر لون سے کروائی، مجھے یاد ہے ایک بار مقاصد شریعت کے تعلق سے ڈاکٹر صاحب نے ابن عربی کا حوالہ دیا تو چند روز بعد پروفیسر نجات صاحب نے مجھے کہا کہ میں نے ابن عربی کی مذکورہ کتاب کا ایک ایک ورق کا مطالعہ کیا، مجھے حیرت ہوئی کہ اس عمر میں بھی وہ علم کے کس قدر مشتاق تھے، ان کی ترجمہ شدہ ‘کتاب الخراج کو میں نے یہاں چھاپنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے اجازت دی لیکن ساتھ ہی کہا کہ کتاب کی ضخامت بھی زیادہ ہے اور اکیڈمک نوعیت کی ہے ،لہٰذا یہ بکے گی نہیں اور آپ کا سرمایہ پھنسے گا۔ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب کی وجہ سے مجھے ایکنامکس پڑھنے کا شوق پیدا ہوا، کئی بار سوچا کہ ایکنامکس میں پی جی کروں لیکن اس کو عملی جامہ نہ پہنا سکا،البتہ کئی طالب علموں کو ایکنامکس پڑھنے کی طرف راغب کیا اور ان کا رابطہ ڈاکٹر صاحب سے کرایا، جس نے بھی ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کیا وہ ان کے اخلاقیات سے متاثر ہوا۔کئی بار میں نے انہیں کشمیر آنے کی دعوت دی مگر نجات اللہ صدیقی صاحب نے کہا کہ اس عمر میں میرا آنا مشکل ہے، نجات صاحب سے میری رسائی اس وقت ہوئی جب وہ پیرانہ سالی میں تھے اور ان کو میں کشمیر نہ لا سکا، جب بھی سوچا رابطہ کروں تو ان کی خراب طبیعت ایسا کرنے سے مانع ہوئی، وہ اللہ کے حضور چلے گئے ،رب العزت ان سے راضی ہو اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔
(رابطہ 9906653927)