ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی
ارشادِ ربّانی ہے: ’’ان ایمان والوں نے یقیناً کامیابی حاصل کرلی ،جن کی نمازوں میں خشوع وخضوع ہے،جو لغو کاموں سے دور رہتے ہیں، زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں کیونکہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں۔ ہاں جو لوگ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کی پوری نگرانی رکھتے ہیں، یہ ہیں وہ وارث جنہیں جنت الفردوس کی میراث ملے گی، یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ (سورۃ المؤمنون ۱۔۱۱)
اللہ تعالیٰ (جو انس وجن وتمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے، جو خالق ،مالک ،رازق اورکائنات کو پیدا کرنے والا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ، جو انسان کی رگ رگ سے ہی نہیں، بلکہ کائنات کے ذرے ذرے سے اچھی طرح واقف ہے) نے انسان کی کامیابی کے لئے ان آیات میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کے علاوہ سات صفات ذکر فرمائی ہیں کہ اگر کوئی شخص واقعی کامیاب ہونا چاہتا ہے تو وہ دنیاوی فانی زندگی میں موت سے قبل ان سات اوصاف کو اپنے اندر پیدا کرلے۔
ان سات اوصاف کے حامل ایمان والے جنت کے اُس حصے کے وارث بنیں گے جو جنت کا اعلیٰ وبلند حصہ ہے۔ جہاں ہر قسم کا سکون واطمینان وآرام و سہولت ہے، جہاں ہر قسم کے باغات، چمن، گلشن اور نہریں پائی جاتی ہیں، جہاں خواہشوں کی تکمیل ہے، جسے قرآن وسنت میں جنت الفردوس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہی اصل کامیابی ہے کہ جس کے بعد کبھی ناکامی، پریشانی، دشواری، مصیبت اور تکلیف نہیں ہے۔ لہٰذا ہم دنیاوی عارضی ومحدود خوشحالی کو فلاح نہ سمجھیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی کے لئے کوشاں رہیں۔
ایمان والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغمبر تسلیم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوئے۔ انسان کی کامیابی کے لئے سب سے پہلی اور بنیادی شرط اللہ تعالیٰ اور اس کے رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا ہے، اس کے علاوہ انسان کی کامیابی کے لئے جو سات اوصاف اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ذکر فرمائے ہیں، وہ یہ ہیں:
۱) خشوع وخضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی: خضوع کے معنی ظاہری اعضاء کو جھکانے (یعنی جسمانی سکون) اور خشوع کے معنی دل کو عاجزی کے ساتھ نماز کی طرف متوجہ رکھنے کے ہیں۔ خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم نماز میں جو کچھ پڑھ رہے ہیں، اس کی طرف دھیان رکھیں اور اگر غیر اختیاری طور پر کوئی خیال آجائے تو وہ معاف ہے، لیکن جوں ہی یاد آجائے، دوبارہ نماز کے الفاظ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔
غرض یہ کہ ہماری پوری کوشش ہونی چاہئے کہ نماز کے وقت ہمارا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ ہم نماز کے کس رکن میں ہیں اور کیا پڑھ رہے ہیں؟ اسی طرح ہمیں اطمینان وسکون کے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے، جیساکہ حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ مسجد میں تشریف لائے۔ ایک اور صاحب بھی مسجد میں آئے اور نماز پڑھی، پھر (رسول اللہؐ کے پاس آئے اور) رسول اللہؐ کو سلام کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: جاؤ نماز پڑھو ،کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ گئے اور جیسے نماز پہلے پڑھی تھی، ویسے ہی نماز پڑھ کر آئے، پھررسول اللہؐ کو آکر سلام کیا۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس طرح تین مرتبہ ہوا۔ اُن صاحب نے عرض کیا: اُس ذات کی قسم ،جس نے آپ ؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے نماز سکھائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھرقرآن مجید میں سے جو کچھ پڑھ سکتے ہو، پڑھو۔ پھر رکوع میں جاؤ تو اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے کھڑے ہو تو اطمینان سے کھڑے ہو، پھر سجدے میں جاؤ تو اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سجدے سے اٹھو تو اطمینان سے بیٹھو۔ یہ سب کام اپنی پوری نماز میں کرو۔ (صحیح بخاری)
۲) لغو کاموں سے دوری: لغو اس بات اور کام کو کہتے ہیں جو فضول، لایعنی اور لا حاصل ہو، یعنی جن باتوں یا کاموں کا کوئی فائدہ نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ لغو کاموں کو کرنا تو درکنار اُن سے بالکل دور رہنا چاہئے۔ ہمیں ہر فضول بات اور فضول کام سے بچنا چاہئے ،قطع نظر اس کے کہ وہ مباح ہو یا غیر مباح ،کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان کا اسلام اسی وقت اچھا ہوسکتا ہے جبکہ وہ بے فائدہ اور فضول چیزوں کو چھوڑدے۔ (ترمذی)
۳) زکوۃ کی ادائیگی: انسان کی کامیابی کے لئے تیسری اہم شرط زکوٰۃ کے فرض ہونے پر اس کی ادائیگی ہے، زکوٰۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نماز کے بعد سب سے زیادہ حکم زکوٰۃ کی ادائیگی کا ہی دیا ہے۔ سورۃ التوبہ آیت ۳۴ ۔ ۳۵ میں اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے لئے بڑی سخت وعید بیان فرمائی ہے جو اپنے مال کی کما حقہ زکوٰۃ نہیں نکالتے۔ اُن کے لئے بڑے سخت الفاظ میں خبر دی ہے، چنانچہ فرمایا کہ جو لوگ اپنے پاس سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اُسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، تو (اے نبیؐ) آپ اُنہیں ایک دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے، یعنی جو لوگ اپنا پیسہ، اپنا روپیہ، اپنا سونا چاندی جمع کرتے جارہے ہیں اور اُنہیں اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، اُن پر اللہ نے جو فریضہ عائد کیا ہے ،اُسے ادا نہیں کرتے، اُنہیں یہ بتادیجئے کہ ایک دردناک عذاب اُن کا انتظار کررہا ہے۔ پھر دوسری آیت میں اُس دردناک عذاب کی تفصیل ذکر فرمائی کہ یہ دردناک عذاب اُس دن ہوگا ،جس دن سونے اور چاندی کو آگ میں تپایا جائے گا اور پھر اُس آدمی کی پیشانی ، اُس کے پہلو اور اُس کی پشت کو داغا جائے گااور اس سے یہ کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، آج تم اس خزانے کا مزا چکھو جو تم اپنے لئے جمع کررہے تھے۔
۴) شرم گاہوں کی حفاظت: اللہ تعالیٰ نے جنسی خواہش کی تکمیل کا ایک جائز طریقہ یعنی نکاح مشروع کیا ہے۔ انسان کی کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک شرط یہ بھی رکھی ہے کہ ہم جائز طریقے کے علاوہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ اس آیت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: میاں بیوی کا ایک دوسرے سے شہوت نفس کو تسکین دینا قابل ملامت نہیں، بلکہ انسان کی ضرورت ہے، لیکن جائز طریقے کے علاوہ کوئی بھی صورت شہوت پوری کرنے کی جائز نہیں ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جائز طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زنا کے قریب بھی جانے کو منع فرمایا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آنکھ بھی زنا کرتی ہے اور اس کا زنا نظر ہے۔ آج روزہ مرہ کی زندگی میں مرد وعورت کا کثرت سے اختلاط، مخلوط تعلیم، بے پردگی، ٹی وی اور انٹرنیٹ پر فحاشی اور عریانی کی وجہ سے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ہم خود بھی زنا اور زنا کے لوازمات سے بچیں اور اپنے بچوں، بچیوں اور گھر والوں کی ہر وقت نگرانی رکھیں کیونکہ اسلام نے انسان کو زنا کے اسباب سے بھی دور رہنے کی تعلیم دی ہے۔ (جاری ہے)