قیصر محمود عراقی
وہ نازش عرب و عجم تھا ، افق کا روشن ستارہ تھا ، وہ ملت اسلامیہ کا غمگسار و غم خوار تھا۔وہ آدمیت کا خواہاں تھا ، انسانیت کا آرزو مند تھا ، جلیل بھی تھا اور جمیل بھی تھا ، وہ بطل حریت تھااور بندۂ مومن تھا۔ وہ فدائے ختم المر سلین تھا ، صاحب ایمان و یقین تھا ۔ وہ فقیربے رعا تھا ، درویش بے کلیم تھا ، وہ مرد خوددار اور عجز و انکسار تھا۔اس کے زمزموں کی گونج ، ترانوں کی للکار ، نغموں کی جھنکاراور فکر و تخیل کے تراشیدہ سومناتوں کے لئے ضر ب کلیم تھی ۔ عصر حاضر کے لاتی و مناتی اس مرد دبنگ کی ملکوتی گرج سے لرزاں و ترساں تھے، اس کی فکر و نظر ’’ چراغ مصطفیٰ ‘‘ کے نور سے منور تھی اور وہ اسی شمشیر آبدا رکو لہراتا ہوا معرکہ روح و بدن میں کمال بانکپن سے اُترا تھا ۔ بد روحنین کی مہک اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی، اسے تیقن عطا ہوا تھا، اس کی ایمانی حرارت ، نمرودی شعلوں کی تپش پر خندزن تھی ، وہ چوبِ کلیم کے سہارے راہ پرُ خطر پر بے نیازی سے گامزن تھا اور وہ وقت کے فرعونوں کو للکار رہا تھا۔ وہ نیل کی طغیانیوں میں بھی مسکرا رہا تھا ۔
وہ عمر بھر ننگ انسانیت ، مجہول و موہوم فلسفوں اور با طلانہ نظام ہائے زندگی کے ساتھ دست و گریباں رہا اور ان کے مکر و فریب کے تار و پود بکھیرتا رہا ۔ اس کی گھن گرج طاغوت کیلئے صورِ اسرافل تھی ، قافلہ ہائے مورِ ناتواں کے لئے بانگِ درا تھی اور پرُ شکستوں کے لئے بالِ جبرئیل کی نویددلکشا تھی ۔ وہ مرد آفاقی تھا ، خورشید ساماں تھا ، مشرق و مغرب کے بندھنوں سے آزاد تھا ۔ وہ بندہ حجازی اور پیغام ربانی کا تر جمان تھا ، وہ اسی حیات بخش فکر کو پوری توانائی اور رعنائی سے کام کر تا رہا ، مناسب گذر اوقات کے لئے جدوجہد کر تا رہا ۔ اس کی خواہش قلیل اور مقاصد جلیل تھے ۔ وہ کامل یکسوئی سے عجمی ساز پر حجازی نغمے چھیڑتا رہا ۔ وہ صاحب یقین تھا اور اس یقین کے فروغ کے لئے اس نے اپنا تن من دھن وقف کر رکھا تھا ۔ بے شک وہ ہندوستان کے افق پر طلوع ہوا تھا مگر اس کی روشنیاں پورے آفاق کے لئے تھیں۔
جلال و جمال تینوں نورانی نقطے ایک حسین تناسب کے ساتھ اس کی ذات میں جگمگا رہے تھے ۔ کوئی گوشہ اس سے مخفی نہ تھا ، وہ مرعوب نہیں تھا ، وہ تہذیب مغرب کا بہادر اور بے باک نقاد تھا ۔ اس نے بے یقینوں کو یقین کی دولت سے مالا مال کیا اور خودی کے اسرار سے پر دہ اُٹھا کر حیرتوں کے مقام سے آشنا کیا اور ’’ رمو ز بے خودی ‘‘ کی جلوہ گری دکھا کر ’’ خود شناسی ‘‘ کے رتبہ بلند کا شعور بخشا ۔ وہ قریب المرگ ملت کی حیات نو کے لئے ’’ رجوع الی القران‘‘ کی نوید جانفز اسنا تا رہا تو دوسری جانب پرُ فریب چہرے سے نقاب اُٹھا کر اس کی بھیانک اورمکروہ شبیہ زمانے کو دکھا تا رہا ۔ وہ اس بے خدا تہذیب کی غارت گریوں ، ہلاکتوں اور سفا کیوں کو بڑی دلیری سے منظر عام پر لا تا رہا ، وہ زندگی کے ہر محاذ پر لات و منات کی معنوی اولادو ں اور جاہلیت جدیدہ کے ترا شیدہ اصنام کو قوت ایمانی سے بے دھڑک للکارتا رہا اور مصطفوی فکر و نظر کی الہامی شمشیر سے عصر حاضر کے صنم کدوں کے پر خچے اُڑاتا رہا ، بے شک وہ اکیلا تھا مگر اس کی فکر و نظر کو خدائی طاقت میسر تھی ، وہ اسی بھروسے پر تن تنہا زمانے کے دجالوں اور طاغوتوں سے کمال جانبازی سے نبر د آزما رہا ۔ وہ با کمال لے نواز تھا ، وہ سوتوں کو جگاتا رہا ، مدہوشوں کو ہوش دلاتا رہا ، اس کی شدید آرزو تھی کہ یہ لٹی پٹی اور گری پڑی امت مسلمہ اپنے پائوں پر کھڑی ہو جا ئے اور غلامان ِ ہند ’’ یقین محکم اور عمل پیہم ‘‘ سے غلامی کی زنجیر یں توڑ کر آزاد ہو جا ئیں ، اغیار کی دریوازہ گری سے ان کو نجات مل جا ئے اور دنیا میں پھر سے ان کا وقار بحال ہو جا ئے ۔ اس فکر میں سلگتا رہا ، تڑپتا رہا ، وہ ان کی سر بلندی کے لئے بے قرار تھا ۔ وہ ۲۲ سال عالم قرآنی کے سمندر میں غوطہ زنی کر تا رہا اور بلاا ٓخر ’’ مملکت کا تصور آبدار ‘‘ اس بے پا یا ں و بے کنار سمندر سے نکال لایا اور قوم کے دامن آرزو میں ڈال دیا ۔ ۱۹۳۰ کا زمانہ تھا وہ اس وقت عمر رواں کی ۵۳ بہاریں دیکھ چکا تھا ،اپنوں میں چند ایک کے علاوہ اکثریت اس کی بات کو سمجھ نہ سکی ۔ وہ آرزدہ ہوا مگر مایوس نہ تھا ۔اُسے یقین تھا کہ ایک دن آئے گا جب وہ میری بات کو سمجھ لینگے ۔ البتہ اغیار اس کی بات کو سمجھ چکے تھے ، اس کے عزائم کو تاڑ گئے تھے ۔ وہ اس کی بات کو ’’ فلسفی کا خواب‘‘ شاعر کا خیال اور مجذوب کی بھڑک کہہ کر پھبیتا ں اُڑانے لگے ۔ ٹھٹھہ کر نے لگے ، آوازے کسنے لگے مگر وہ خاموش رہا کہ اس کی قوم ابھی اس بلند سطح تک نہیں پہنچ پائی تھی جس کی اُسے آرزو تھی ۔
۱۹۳۸ میں احیائے ملت کا شیدائی قوم کو سر بلندی کا ولولہ اور جذبہ دے کر ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گیا۔وہ اپنے حصے کا کام خوش اسلوبی سے سر انجام دے چکا تھا ۔ آج ہم نے علامہ سر محمد اقبالؔ کے نام پر بین الا قوامی یونیورسیٹی بنا دی اور دیگر قومی یونیورسیٹیوں میں اقبالیات کے نام پر شعبے کھول دئے ۔ اقبال اکیڈمیاں قائم کردی گئیں۔ علامہ اقبال پر مقالات اور کتابیں لکھی گئیں اور لکھی جارہی ہیں، ترنم ریزیوں، ٹھمریوں اور قوالیوں کے حصار میں اقبال کے کلام کو محصور کر لیا گیا ہے، ان سب عقیدتوں اور محبتوں کی غرض فقط اور فقط علامہ اقبال کو خراج تحسین ہی پیش کرنا ہے۔ یہ سب بجا ہے تو یہ بھی سچ ہے کہ ’’رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی‘‘۔ آج سب کچھ نظر آرہا ہے مگر روح اقبال کہیں بھی نظر نہیں آرہی؟ آخر روح اقبال کیا ہے ؟ اور اس کی ترجمانی کیا ہے؟
روح اقبال نام ہے اسلاف کے قلب وجگر کا اور اس کی ترجمانی سے مراد مدینہ منورہ کی فلاحی اور مثالی ریاست کا قیام ہے ۔ جس میں اکثرلشکر پیٹ پر ایک پتھر باندھتا ہے تو سالارِ اعظم دو پتھر باندھتے ہیں ، مگر آج مسلمانوں کا قبلہ بدل گیا ہے، آرزوئیں بدل گئیں ہیں تو زندگی گذارنے کا اسلوب بھی بدل گیا، خدا اور رسول ؐ کو ناراض کر لیا تو روحِ اقبال بھی ہم سے روٹھ گئی ۔ ہم روبہ زوال روز ذلتوں اور نحوستوں کے دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔
آج تربتِ اقبال خالی و اداس پڑی ہے ، بارگاہِ قلندر کا منظر بدل چکا ہے ، اب دیکھنے کو محض سنگ ہائے سرخ ومرمر اور لجورد کا اداس ڈھیر ہے جو داستانِ غم سنانے کو رہ گیا ہے۔ اب تو ابلیس فتح کے شادیانے بجا رہا ہے ، نحوستوں کا خونی رقص عروج پر ہے، ملت نے اپنا حرم بدل لیا ہے، قبلہ کا رخ بھی بدل گیا ہے، زندگی نے قبائے حجازی اتار پھینکی اور تہذیب ِ فرنگ کا لباس برہنگی زیب تن کر رکھا ہے، ملت کے ہاتھوں سے چراغ مصطفیؐ چھن چکا ہے ، متاعِ بے بہا لٹ چکی ہے، روحِ اقبال خون کے آنسوروتی ہوئی دنیا سے جاچکی ہے اور ہم لوگ آج ان کی یاد میں ایک شام تقریب منعقد کرتے ہیں ، جس میں ان کے نام کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں لیکن ان کے دیئے گئے سبق کو یکسر فراموش کردیا ہے۔
بہر حال اگر آج بھی قوم مسلم اپنی حالت بدلنے کے لئے مخلص ہے اور اپنے کئے پر نادم وشرمسار ہے تو ’’بابِ توبہ کھلا ہے‘‘اسی لمحے قلب صمیم سے تجدید وفا کر لو، خودساختہ رکاوٹیں ہٹالو، خلافت کے چلن کو اپنا نصب العین ٹھہرالو، خدا اور رسولؐ نہ صرف تم سے راضی ہوجائینگے بلکہ تم انعامات خداوندی سے بھی نوازے جائوگے۔ پھر روحِ اقبال بھی شاد ہوکر لوٹ آئیگی ، مسلمان خزاں کے حصار سے نکل آئینگے تو خوش بختیاں ہاتھ باندھ ان کی چوکھٹ پر کھڑی ہونگی۔ کیا ملت بیضا کہ بھٹکے ہوئے آہوانِ حرم !ان نورانی ندائے غیبی پر کان بھرنے کو تیار ہیں ؟ اگر تیار ہیں تو پھر منزل دور نہیں ہے ساحل قریب سے قریب تر ہے۔
(موبائل:6291697668)