قیصر محمود عراقی
اردو کا مسئلہ ہمارے لئے محض زبان کا مسئلہ نہیں اور نہ محض کا روباری سوال ہے ۔ اس کی اصل اہمیت اس کے علاوہ بھی ہے ، وہ یہ کہ ہمارے لئے ایک تاریخی ، تہذیبی مسئلہ بھی ہے اور ایک سطح پر آکر یہ ملی اور دینی مسئلہ بھی بن جا تا ہے ۔ اس کی تاریخی اہمیت تو یہ ہے کہ یہ زبان ہمارے ملک کی قدیم بولیوں پر اسلامی تہذیب کے اثرات سے پیدا ہو ئی ہے ۔ اگر یہ اثرات نہ ہو تے تو اس زبان کی تر کیب ، ساخت اور اس کی عام فضا بلکہ اس کا نام تک بھی مختلف ہو تا ۔ یہ تاریخ کے اسلامی عوامل کی شرمندہ احسان ہے اور یہی چیز اسے ہندی اور دوسری ملکی زبانوں سے جدا کر تی ہے اور یہ بھی اسلامی اثرات کا نتیجہ ہے کہ یہ زبان مقامیت میں محدود نہیں رہی بلکہ ہندو پاک کے گوشے گوشے میں اپنی مخصوص فضا کے ساتھ پھیل گئی اور ہر جگہ اپنے مقامی اختلافات کے باوجود ایک مشترک فضا پیدا کرتی گئی ۔ بظاہر یہ معمولی بات ہے مگر غور کیا جائے تو یہ معمولی بات نہیں ہے ۔ جو زبان ملک کے مختلف علاقوں میں یکسانی اوروحدت پیدا کر تی گئی ہو، اُسے محض حادثہ نہیںکہا جا سکتا ۔ اس لئے اردو زبان کی تاریخی و تہذیبی اہمیت کو جو لوگ نظر انداز کر تے ہیں وہ حقائق کے منکر ہیںیا معاندانہ تعصب کے مریض ہیں ۔ اردو ڈیڑھ صدی سے بر صغیر کی سیاسی تحریکوں کی تر جمان ہے ، جب بھی ملک میں کوئی عظیم ہیجان پیدا ہوا، اس کی تر جمانی اردو ہی نے کی ۔ جنگ آزادی ۱۸۵۷ء سے لے کر مسلم لیگ کی تحریک تک ملک گیر احساسات کی تر جمانی کا حق اُردو ہی نے ادا کیا اور جہاں تک مسلمانوں کی ملک گیر سیاسی زندگی کا تعلق ہے، اس کی واحد نمائندگی بلا شرکت غیرے اُردو ہی نے کی ۔مجھے اُن لوگوں سے اتفاق نہیں ، جو زبان کو محض ایک کاروباری ادارہ سمجھتے ہیں ۔ زبان اخلاق و سیرت کی تخلیق میں ایک فعالی اور مئوثر وسیلہ ہے اور اقوام کے مزاج اور ان کی روحانی زندگی کا عکس ہو تی ہے ۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک زبان صرف بازار کے نرخوں کے اُتار چڑھائو اور روازنہ کے حاد ثات کی روادار تو لکھے لیکن اس قوم کی روحانی زندگی اور اس کی ملی شخصیت کے اظہار میں کوئی حصہ نہ لے ۔ بلا شبہ ہندوستان میں آج بھی وہ قوم بستی ہے جو تحریک آزادی کے وقت موجود تھی، تو اس قوم کا ایک الگ منفرد معاشرہ بھی ہو نا چاہئے، اور اس معاشرے کی روحانی زندگی کے اظہار کے لئے ایک مشترک زبان کی بھی ضرورت ہے ۔ میں اردو کا شاعر یا ادیب نہیں ہوں لیکن اتنا جانتا ہو ں کہ اردو کا ابتدائی ادب صوفیانہ اور مذہبی تھا ۔ صوفیوں اور عالموں نے اسلام کو دینی اور صوفیانہ مسائل سے آگاہ کر نے کے لئے اردو میں نظمیں لکھیں ، رسالے لکھے ۔ یہ زبان سب سے پہلے دینی جذبوں کے کام آئی ، دینی اور روحانی آرزوئوں کی ترجمان بن کر عوام کے لئے امید کا پیغام بنی ، پھر رفتہ رفتہ شعر کی زبان بن کر اونچے طبقوں میں پہنچی ۔ میں جا نتا ہوں کہ اُردو کے اس اسلامی نقش کو مٹانے کے لئے کئی مرتبہ کوشش ہوئی اور آج بھی یہ کوشش جا ری ہے ۔ جب انگریز آئے تو انہوں نے اردو سے فارسی عربی کے اثرات مٹانے کی کوشش کی ، پھر ہندوستان میں متحدہ قومیت کا فتنہ اُٹھا تو ایک بار پھر سلاست اور سادگی کے بہانے سے اس کو ہندی کے قریب کر نے کی کوشش کی گئی اور تحریک آزادی سے کچھ پہلے یہ دیکھا گیا کہ اردو کے اخلاقی مزاج کو ختم کر نے کے لئے اردو میں ایک نئی اخلاقیات داخل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ جو مسلمانوں کے معاشرتی ، اخلاقی تصورات کے سخت مخالف تھی ۔ یہ سرگرمی محض اتفاقی نہ تھی بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تھی۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ مسلمان نوجوان اپنے اخلاقی تصورات سے بر گشتہ ہوں اور مغرب کے لادین ، نفس پر ستانہ حیوانی تصورات اور ترغیبات سے مسحور ہو کر اپنے معاشرتی اخلاق کے دشمن بن جائیں ۔ بد قسمتی سے یہ کوشش کا میاب بھی ہوئیں اور افسوس ناک پہلویہ ہے کہ اس کے لئے اُردو ادب کو وسیلہ بنایا گیا ۔ میں اردو ادب کو اپنا ادب تسلیم نہیں کر تا، جس کی روح حیوانی اور حسن کی ساری فضا مغربی ہے اور میں اردو کو محض اردو کی خاطر بھی نہیں مانتا، میں تو اسے اس لئے مانتا ہوں کہ اردو اسلامی ماحول کے اندر سے پیدا ہو ئی ہے اور میری دانست میں اس کاا صلی مزاج اسلامی اورا خلاقی ہے۔ مجھے جو چیز اردو کے قریب لے جا رہی ہے وہ اس کا اسلامی ، اخلاقی اقدار اور اسلامی تہذیب تصورات کا ملّی پس منظر ہے، جسے ہمراہ لے کر عربی ، فارسی اثرات سے پلی ہوئی یہ زبان ترقی کر تی رہی ۔ ہم اردو کو اردو کے طور پر نہیں اسلامی ورثے کے محافظ کے طور پر مانتے ہیں ، میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ زبانیں جتنی بھی ہوں ، ہوا کریں ، پھیلیں اور پھولیں ، لیکن قوم کی ایک مجموعی زبان ہو نی چاہئے جو رابطے کے کام آئے اور وحدت کا اظہار بھی کر ے ۔ اگر ہمارے لوگ زیادہ تعلیم یافتہ ہو گئے ہیں اور اس چھوٹی سی بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ مشترک قومی زبان کا ہو نا ایک نعمت ہے تو پھر قوم اور قومیت کا ذکر ہی چھوڑیئے ۔ آج دنیا بھرکی سب قومیں اپنی ہی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنا رہی ہیں ۔ پس جب دنیا کی ہر قوم یہ تجربہ کر رہی ہے تو پھر ہم مسلمان قوم اس میں تکلیف کیوں محسو س کر تے ہیں ۔
(رابطہ۔6291697668 )
[email protected]>