بلال احمد صوفی
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ انسان اس فانی دنیا میں بہت سارےغلطیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ مگر ان ہی غلطیوں سے وہ بہت کچھ سیکھ لیتا ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے۔اس سے غلطیاں سرزدہوجاتی ہیں، دوران تعلیم میں بھی اور روز مرہ زندگی میں بھی۔اس لئے یہ ماننا جاتا کہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر آدمی ایک کامیاب انسان بن جاتا ہے۔لہٰذا یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی انسان غلطیوں سے مبرا نہیں۔جبکہ حق تو یہی ہےکہ جب انسان اس فانی دنیا میں آتا ہے تو اس سے غلطیاں سرزد ہو نے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔شائد اسی لئے انسان بشر کہلاتاہے،جو کھبی بھی غلطیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔یہ چیز بھی ظاہر ہے کہ غلطی سرزد ہونے کے بعد انسان مایوس ہوجاتا ہے اور مایوسی کے عالم مزید ایسی غلطیاں کر بیٹھتا ہےکہ زندگی ناکامیوں کی نذر ہوجاتی ہے۔ہاں! مایوس ہونایا اداس رہنا انسانی فطرت ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیںکہ وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتا ،بلکہ انہی ناکامیوں میںاس کے لئے کامیابی کی راہیں کھلتی ہیں،بشرطیکہ انسان اپنا ذہن صاف رکھے،مثبت سوچ رکھے اور اُمید کا دامن نہ چھوڑے،کیونکہ اُمید پر ہی دنیا قائم ہے اور عزم و استقلال کا زینہ ہے۔ حقیقت میں ناکامی انسان کے لئے کامیابی کی طرف بڑھنے کااشارہ دیتی ہیں اور زندگی کو بہتر سے بہتر بنانےکا حاصلہ بخشتی ہیں۔گویا ناکامی ذلت یا بے عزتی کی بات نہیں ہوتی ہے بلکہ مزید آگے بڑھنے کی بات ہوتی ہے اور کچھ نیا کرنے کی بات ہوتی ہے،جس غلطی سے آپ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ،اُس غلطی ک سے باز آنے کی ضرورت ہے۔ظاہر ہے کہ مسلسل غلطیاںکرنا بے وقوفی ہے ،اور بے وقوفیوں سے انسان کامیاب حاصل نہیں کرسکتا۔جبکہ مسلسل غلطیاں کرتے رہنا شیطانی عمل ہے۔جس سے انسانی ذہن پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہمیں مسلسل غلطیوں میں رہنے سے گریز کرنا چاہئے ۔کامیاب انسانوں کی کامیابی کا راز جاننا چاہئے،دانشوروں کے مشوروں پر غور کرنا چاہئے۔اور حتی الامکان غلطیوں سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور
اپنی غلطیوں کو سدھارنا چاہیے۔ غلطی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، اس سے سبق لینا ضروری ہے اور عہد کرنا کہ آئندہ اس قسم کی غلطی نہیں ہوگی۔ تو آیئے! ایک انسان ہونے کے ناطے اپنی غلطیوں سے اسباق لے کر ایک اچھی زندگی گزارنے کی جانب بڑھتے ہیں۔
(خوشی پورہ، ایچ ایم ٹی، سرینگر )
<[email protected]>