حافظ نوید الاسلام
اللہ تعالیٰ نے جب زمین پر انسان کو اپنا خلیفہ مقرر کیا تو سب سے پہلے جس چیز سے اسے آراستہ کیا وہ علم تھا۔ علم ہی نے انسان کو مسجود ملائکہ بنایا(سورۃ البقرہ)
قرآن مجید میں لگ بھگ پانچ سو مقامات پر حصولِ تعلیم کی فضیلت اور اہمیت بیان کی گئی ہے۔ علم کی فرضیت کا براہ راست بیان بےشمار احادیث میں بھی آیا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ’’ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا علم سیکھو کیونکہ اللہ کے لیے علم سیکھنا خشیت، اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا عبادت، اس کا پڑھنا پڑھانا تسبیح، اس کی جستجو جہاد، ناواقف کو سکھانا صدقہ اور اس کی اہلیت رکھنے والوں کو بتانا ثواب کا ذریعہ ہے‘‘۔ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ حصولِ علم تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔‘‘معلوم ہوا کہ حصولِ علم ایک عمدہ اور لازمی شے ہے۔
اب چاہے عصری تعلیم ہو یا دینی تعلیم ہر ایک کی اپنی قدرو منزلت ہے۔لیکن بدقسمتی سے دور حاضر میں ہم نے عصری علوم کو دینی علوم پر ترجیح دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے اذہان عصری علوم کے غلام بن گئے ہیں۔ اس میں بہت حد تک ہم بھی قصور وار ہیں اور کسی حد تک ہمارا ناقص تعلیمی نظام بھی ذمہ دار ہے۔
آئیے آپ کو ماضی کی گلیوں کی سیر کراتے ہیں۔ ماضی بعید میں تعلیم کا نظام کچھ یوں تھا کہ ایک ہی چھت کے نیچے عالم بھی بنتا تھا اور سائنس دان بھی۔ امام غزالیؒ اور البیرونی نے ایک ساتھ ایک ہی مدرسے میں پڑھا ،لیکن امام غزالیؒ بڑے عالم دین بنے اور البیرونی فلکیات کے بڑے سائنس دان۔ مجدد الف الثانی، جنھوں نے فتنہ اکبر کا سدباب کیا ہے، جن کےبارے میں علامہ اقبال فرماتے ہیں:
وہ ہند میں سمائے ملت کا نگہبان
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
وہ خود تو بڑے عالم تھے لیکن ان کے ہم جماعت احمد لاہوری تاج محل ، لعل قلعہ اور جامعہ مسجد دہلی کا آرکیٹیکٹ (ARCHITECT) تھا۔مطلب یہ وہ زمانہ تھا ،جب مسلمانوں کا ہر میدان میں طوطی بولتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس دین بھی تھا اور دنیا بھی۔ بد قسمتی سے ماضی قریب سے لے کر آج تک ہم مسلمانوں نے دینی تعلیم
سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور عصری علوم پر زیادہ توجہ دی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم دین سے تو بالکل ہی ناواقف ہوئے اور عصری علوم میں بھی کچھ خاص مرتبہ حاصل نہیں کیا ہے۔ سائنس جس عروج پر آج ہے، یہ مسلمانوں کی اُن اَن گنت محنتوں کا ثمرہ ہے جو انہوں نے ایک ہزار سال تک انجام دی۔ ایسی ایجادات {INVENTIONS}اور MEDICAL SCIENCE میں ایسی کتابیں تحریر کیں جو یورپ کے میڈکل سائنس کے نصاب میں کئی سو سال تک شامل رہیں۔ جن سے آج بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ لیکن ان کتابوں اور سائنس دانوں کے نام بدلے گے جیسے القانون کا نام الکشن، محمد بن زكريا الراضي كانام RASES ، علی ابن عباس کا نام HALEE ABASS، ابن سینا کا نام EVE SENAلکھا اور آج کالجوں اور یونیورسٹیوں کےطالب علموں کا حال یہ ہے کہ وہ ان مسلمان سائنس دانوں سے ناواقف ہیں۔غرض اس طرح ہم اپنا مقام بھول کر عصری تعلیم کے اندھے مقلد بن گئے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں بہت سے والدین اپنے بچوں کو عصری تعلیم دلانے کے لئے بہت زیادہ دوڑ بھاگ کرتے ہیں۔ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کے اسکولوں کے ساتھ ساتھ ان کے ٹیوشن کا بھی الگ سے انتظام و اہتمام کر تے ہیں، جب کہ دوسری طرف یہی والدین اپنی اولادوں کو دینی تعلیم و تربیت سے غافل رکھتے ہیں۔ ان کو اس کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں ہوتا کہ ان پر اپنی اولاد کو دینی تعلیم دلانا بھی ضروری ہے ،بلکہ اولین فریضہ ہے۔ اور اگر ہمارے کچھ بھائیوں کو دینی تعلیم و تربیت کا کچھ احساس بھی ہے تو وہ بھی معمولی نوعیت کا۔یہی وجہ ہے کہ وہ دینی تعلیم کو اتنی زیادہ اہمیت بھی نہیں دیتے، جتنی عصری تعلیم کو دیتے ہیں۔ لہٰذا وہ دینی تعلیم پر اتنا خرچہ بھی نہیں کرتے جتنا عصری تعلیم پر کرتے ہیں اور نہ ہی دینی تعلیم کےلئے الگ سے کوئی استاذ وغیرہ رکھنے کی زحمت گوارہ کرتے ہیں۔ جب کہ ایک مسلمان کا معاملہ اس کے بر عکس ہونا چاہیے کہ ہمیں دینی تعلیم کے بارے میں عصری تعلیم کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دنیا و آخرت دونوں میں یہ ہماری سعادت کا باعث ہے۔ میرے لکھنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں کو عصری تعلیم نہ دلائیں یا اس سے انہیں محروم رکھا جائے۔ نہیں !بلکہ آج کے دور میں عصری علوم کی بھی سخت ضرورت ہے اور عصری علم حاصل کرنا مسلمانوں پر واجب بھی ہے اور اسلامی سماج کے لئے مفید بھی۔ جیسے انجینئرنگ ،فزیکس، کیمسٹری، بائیلو جی ،طب ، فارمیسی، نرسنگ ،ریاضیات، کمپیوٹر وغیرہ، بلکہ میرے کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہم عصری تعلیم کی موجودہ ضرورت و اہمیت کو دیکھتے ہوئے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت پر ظلم نہ کریں بلکہ اسے عصری تعلیم سے بھی زیادہ اہم گردانا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اور اپنی اولاد کے تئیں دینی تعلیم سے غفلت برتنے کا ظلم نہ ڈھائیں۔
حاصل کلام اور غرض مدعا یہ ہے کہ ہمیں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کو بھی اہمیت دینا چاہیے بلکہ میں یہاں تک کہہ دوں کہ دینی تعلیم کو مقدم رکھنا چاہیے۔تاکہ دوامی کامیابی ہمارے قدم چومے۔
آخر میں اس شعر کے ساتھ اپنےمعروضات کو ختم کرنا چاہوں گا کہ:؎
نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
(طالب علم : شعبہ اردو، کشمیر یونیورسٹی)