محمدشمیم احمدنوری مصباحی
بلاشبہ اللّٰہ تعالیٰ کے نیک اور محبوب بندوں سے محبت کرنا اللّٰہ تعالیٰ کوبہت ہی محبوب وپسندیدہ ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہےیاایھاالذین آمنوااتقوالله وکونوا مع الصّٰدقین (سورۃ توبہ:۱۱۹) ’’ اے ایمان والو! ﷲ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ ‘‘۔ اللّٰہ جل شانہ کے محبوب ومقبول بندوں میں سے ایک نہایت ہی محبوب ومقبول بندے سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیؓ ہیں ، آپ کا اسم گرامی ’’ عبد القادر ‘‘ کنیت ’’ ابومحمد ‘‘ اور ’’ محی الدین ، محبوب سبحانی،پیرپیراں،غوث اعظم ‘‘ القابات ہیں ،آپ سے عقیدت ومحبت اُس وقت تک مرتبۂ کمال تک نہیں پہنچ سکتی، جب تک کہ آپ کی تعلیما ت وارشادات کو مشعل راہ بنا کر راہ ہدایت پر گامزن نہ ہواجائے،آپ کے مقالات وارشادات آج بھی متلاشیان حق کو منزل مراد تک کامیابی سے لے جانے کے لیے کافی ہیں ،اور ویسے بھی بزرگانِ دین کے ارشادات وفرامین ہمارے لئے زندگی کے کثیر شعبہ جات میں راہنمائی مہیا کرتے ہیں ، ان نفوسِ قُدسیہ کی طویل زندگیاں دنیا کے نَشیب وفَراز سے گزری اور دینداری سے واقفیت میں بیتی ہوتی ہیں ، اسی لئے ان کے فرامین بھی سالہا سال کے تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں ، آئیے غوثِ پاک علیہ الرحمة کے کچھ اہم ارشادات و فرامین پڑھتے اور نصیحت حاصل کرتے ہیں :چنانچہ اسی اُمید سے ذیل کی سطور میں آپ ؒکے چند ملفوظات و ارشادات نذرقارئین ہیں۔
�تو اوّلاً علم پڑھ اور عمل کر اور دوسروں کو علم سکھا،یہ صفتیں تیرے لیےتمام بھلائیوں کو جمع کردیں گی۔(فیوض غوث یزدانی، ترجمہ:الفتح الربانی ص/488)
�حرام کاکھانا تیرے قلب کو مردہ کرےگا اور حلال کا کھانااس کوزندہ بنادےگا۔(ایضاً ص/400)
�اگرتم دنیا کے دروازے سے منہ پھیرلو اور حق عزوجل کے دروازے کومنہ کرلو تودنیا نکل کر خود تمہارے پیچھے آئےگی۔(ایضاً ص/288)
�اپنے بچوں کو اور اپنے گھر والوں کو اللہ کی عبادت اور اس کے ساتھ حسن ادب اور اس سے راضی رہنا سیکھاؤ۔(جلاءالخواطر ص/247)
�مومن کے لیے ضروری ہے کہ پہلے فرائض میں مشغول ہو،جب اس سے فارغ ہوجائےتوسنتوں میں مشغول ہو، اس کے بعدنوافل وفضائل میں مشغول ہو۔(سیرت غوث اعظم ص/125)
�سنت کی پیروی کرو،دین الٰہی میں بدعت نہ نکالو،خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول پر عمل کرو۔(ایضاً ص/141)
�تم اللہ عزوجل کی رحمتوں پر شکر کرو اور نعمتوں کو اس کا عطیہ سمجھو۔(فیوض غوث یزدانی ترجمہ:الفتح الربانی ص/ 81)
�آدمیوں میں سب سے بڑا عقل مند وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اور سب سے بڑا جاہل وہ ہے جو اس کی نافرمانی کرے۔(ایضاً ص/113)
�کاہل نہ بن، کاہل آدمی ہمیشہ محروم رہتاہے،اور اس کے گریبان میں ندامت ہوتی ہے، تو اپنے اعمال کو اچھابنا۔(ایضاً ص/111)
�صبر یہ ہے کہ بلا و مصیبت کے وقت اللہ عزوجل کے ساتھ حسن ادب رکھےاور اس کے فیصلوں کے آگے سرتسلیم خم کردے۔(بہجة الاسرار ص/234)
�اے غافل اے نادان! ہوشیار ہوجا تو دنیا کے واسطے پیدا نہیں کیا گیا ہے بلکہ تو آخرت کے واسطے پیداکیا گیا ہے۔(فیوض غوث یزدانی ترجمہ:الفتح الربانی ص/434)
�اے انسان، اگر تجھے محد سے لے کر لحد تک کی زندگی دی جائے اور تجھ سے کہا جائے کہ اپنی محنت، عبادت و ریاضت سے اس دل میں اللہ کا نام بسا لے تو ربِ تعالٰی کی عزت و جلال کی قسم یہ ممکن نہیں، اُس �وقت تک کہ جب تک تجھے اللہ کے کسی کامل بندے کی نسبت وصحبت میسر نہ آجائے(بہجة الاسرار ص/۷)
�علم(مستند ذرائع سے) حاصل کر پھر اس پر عمل کر پھر دوسروں تک علم پھیلا، وعظ کر(الفتح الربانی ص109)
�دنیا آخرت کی کھیتی ہے جو یہاں نہیں بوئے گا وہاں آخرت میں کچھ حاصل نہیں کر پائے گا ۔ (سرالاسرار ص125)
�اللہ کے ولی کو ہر حال میں نبی پاک ؐ کی پیروی کرنا ہوتی ہے ۔(سر الاسرار ص98)
�★ رویا کرو(خوفِ خدا میں ، عشقِ خدا میں، شرمِ نبی میں و عشقِ رسولؐ میں، اللہ و رسول کی یاد میں اور اپنے گناہوں پررویا کرو)قبل اس کے کہ تم پر رویا جائے ۔(الفتح الربانی ص105)
�شریعت ایک درخت ہے طریقت اس کی ٹہنیاں ہیں(شریعت کا حصہ ہیں کہ درخت یعنی شریعت کے بغیر ان کا وجود ممکن نہیں) اور معرفت اس کے پتے ہیں(شریعت کا حصہ ہیں کہ درخت یعنی �شریعت کے بغیر ان کا وجود ممکن نہیں) اور حقیقت اس کاپھل ہے(شریعت کا حصہ ہے کہ درخت یعنی شریعت کے بغیر پھل کا وجود ممکن نہیں)(سرالاسرار ص87)
�★بربادی ہے تیری ، افسوس ہے تجھ پر کہ تو اپنی گدی حجرے میں بیٹھا ہوتا ہے مگر تیرا دل لوگوں کے آنے(اپنی تعظیم ہونے، مشھور ہونے، بڑا ہونے ، ہاتھ پاؤں چموانے کی خواہش رکھتا ہے) اور انکے تحائف و نذرانے کا منتظر ہوتا ہے..(الفتح الربانی ص97)
�دل کی زندگی علم ہے اسے ذخیرہ کر لے، دل کی موت جہالت ہے اس سے دامن بچائے رکھ ۔(سرالاسرار ص102)
�خواہشات، لوگوں سےامیدیں کم سے کم رکھ اور حرص و لالچ کو کم سے کم کر اور نماز ایسے پڑھ(کوشش کر کہ عبادات و نیکیاں ایسی دلی لگن و سچائی ستھرائی، کامل طریقے سے کر)کہ جیسے یہ آخری موقع ہو (جلاء الخواطر ص74ملخصا)
�اللہ کی رحمت کا انتظار کر، امید رکھ اور مایوس مت ہونا ۔(فتوح الغیب ص12)
�شریعت پر پابندی سے عمل کر اور کما کر کھا، تجھے اللہ سے شرم نہیں آتی کہ(بلامجبوری بلااجازتِ شرع)مانگ کر کھاتےہو،بھیک مانگتے ہو(اسے فقیری کہتے ہو،یہ فقیری نہیں گناہ ہے) ہاں تو نے توکل کیا اور بن مانگے تجھے ملا تو کھانے میں حرج نہیں ۔(جلاء الخواطر ص64ملخصا)
�فرقہ حالیہ یہ جو کہتے ہیں کہ مرشد جو کرے اس کی پکڑ نہیں، اور کہتے ہیں کہ جو ولایت کے درجے کو پہنچ جائےاس سے احکامِ شریعت عبادات وغیرہ معاف ہوجاتے ہیں، اس کے لیے حرام حلال ہوجاتے ہیں یہ بدعتی کافر زندیق ملحد دائرۂ اسلام سے خارج ہیں ۔(سرالاسرار ص140ملخصا)
�جوشخص آداب شریعت نہیں اپناتا،قیامت کے دن آگ اسے ادب سکھائےگی۔(الفتح الربانی ص/91 )
�پہلے لوگ دین اور دلوں کے اطباء،اولیاء اور صالحین کی تلاش میں مشرق و مغرب کاچکر لگاتے تھے،جب انہیں ان میں سے کوئی مل جاتا تو اس سے اپنے دین کی دوا طلب کرتے تھے،اور آج تم فقہاء،علماء اور اولیاء سے بغض رکھتے ہوجو ادب اور علم سکھاتے ہیں،نتیجہ یہ ہے کہ تم دوا حاصل نہیں کر پاتے۔(الفتح الربانی مجلس:39 ص/127)
�ایک سنی ہی اہل حق ہیں، یہی لوگ اہلِ سنت ہیں، یہ وہ ہیں جن کے تمام اقوال اور افعال شریعت کے مطابق ہوں..(سرالاسرار ص140)
ہم نے اوپر کے سطور میں محبوب سبحانی سیدنا سرکار غوث اعظم ابو محمد شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کچھ اہم ملفوظات، فرمودات وارشادات درج کرنے کی کوشش کی ہے،کیونکہ حضور غوث اعظم کے جملہ ارشادات وملفوظات بلاشبہ جہاں اسلامی ادب کا عظیم سرمایہ وشاہ کار ہیں وہیں آپ کے فرامین رہتی انسانیت بالخصوص مسلمانوں کے لیے ذریعۂ اصلاح وہدایت ونجات ہیں، حضور غوثیت مآب کی دینی و علمی اور روحانی تعلیمات کو عام کرنے کی جس قدر ضرورت موجودہ دور میں ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی،اس لیے ہم سبھی مسلمانوں کو چاہییے کہ اپنے اکابرین بالخصوص حضور غوث اعظم کے ان فرامین کو پڑھ کر ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں۔ اللہ وحدہ لاشریک ہم سبھی لوگوں کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، حق بات پھیلانا بھی اچھی بات ہے مگر اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ گراں قدر وانمول باتوں پر عمل کیا جائے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اسلاف کی تعلیمات و فرمودات پڑھنے اور عمل کی توفیق دے۔آمین
[email protected]>