ایم شفیع میر
بلاشبہ انسان کتنا ہی تعلیم یافتہ ہو لیکن اگر اُس میں اچھی تربیت کا فقدان ہو گا تو تعلیم یافتہ ہونے باجود بھی انسان معذوری،مجبوری، بے معنی اور بے مقصد کی زندگی جی رہا ہوتا ہے ـ ۔ایک بامقصد اور بامعنی زندگی جینے کیلئے انسان کے لئے تعلیم یافتہ ہونا جنتا ضروری سمجھا جاتا ہے،اُس سے کئی گنا ہ زیادہ انسان کا تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے۔اگرانسان تعلیم یافتہ ہو اور تربیت یافتہ نہ ہو تو اِنسان کی تعلیم برائےروزگارکےسوا کچھ بھی نہیںہوتا ہے۔تربیت ہے تو تعلیم سودمند ہے ورنہ تربیت کے بغیر تعلیم یافتہ آدمی رذیل،بُرااور خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔بلاشبہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی ،خوشحالی اور کامیابی کی ضمانت ضرور ہے ۔مگر اس بات میں بھی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ تربیت کے بغیر تعلیم بے معنی ہے ۔
دورِ حاضر کی صورتحال پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اکثر والدین اپنے بچوں کوتعلیم یافتہ بنانے کیلئے اپناسب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ـ ہر ماں باپ کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنا کر اُنہیں اعلیٰ اعلیٰ عہدوں و کرسیوں پر براجمان دیکھیں ۔لیکن ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی و بُری خامی یہ ہے کہ آجکل اکثر والدین اپنےبچوں سےکہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرو اور لائق بن جاؤ،تاکہ اچھی نوکری مل سکےاور کامیاب آدمی بن جائوں گے۔یہ انتہائی غلط بات ہےیہی وجہ ہے کہ بچوں کےذہن میں یہ بات گھر کر جاتی ہےکہ تعلیم کا بنیادی مقصد صرف اور صرف اچھی نوکری کا حصول ہے۔والدین کی اپنے بچوں کو تربیت یافتہ بنانے کے تئیں انتہا درجے کی عدم توجہی اور غیر سنجیدگی کا صلہ ہے کہ آج کرسی پر بیٹھےاکثر آفیسران ،سائلوں کےساتھ انصاف کرنا تو دور کی بات، اخلاق کے ساتھ بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ـ
والدین اپنی اولاد کو تعلیم یافتہ بنانے کیلئے جن کٹھن مشکلات گزرتے ہیں ،کاش وہ تھوڑا سا وقت اگر بچوں کوبہترین تربیت یافتہ بنانے میں صرف کرتے ،تو آج ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ کہلانے کا حقدار ہوتا ۔ـ قابلِ ذکر ہے کہ والدین اگر بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کیساتھ ساتھ اخلاقی طور پر بھی تربیت یافتہ بنانےکیلئے بھی فکرمند ہوتے تو آج ہمارےمعاشرے میں ہر شعبے سے وابستہ اعلیٰ سے ادنیٰ درجے کا آدمی انسانیت کا حامی ہوتا اور انسانیت کی بھلائی کے لئے ہی کام کرتا اور دین و دنیا کا فلاح و بھَلا چاہتا۔مگر افسوس ! معاشرے کا تقریباً ہر خواندہ اور ناخواندہ فرد ،نیکی ،بھلائی اور ذمی داری کے اصولوں سے بہت دور ہوچکا ہے ،یہاں تک اپنی آخرت تک کو بھول چکا ہے۔ذرا نظر ڈالیے،اگر ایسا نہ ہوتا تو ڈرائیور ناجائز کرایہ وصول نہ کرتا، پولیس اہلکار رشوت کا جِن نہ ہوتا، ڈاکٹر مسیحائی کی آڑ میں قصائی نہ ہوتا، دکاندار ناپ طول میں تفریق نہ کرتا ،ـ ملازم اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے انجام دینے کیلئے بہانے نہ تلاشتا، کام چور ملازمین مفت کی روٹیاں نہ توڑتا۔ـ افسوس تو اُن والدین پر ہے جو اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنا کر فخر تو محسوس کرتے ہیں لیکن اپنے بچوں کے کرتوتوں کو دیکھ ذرا بھر بھی مایوس نہیں ہوتے ۔ـ اگر والدین اپنے بچوں کو تعلیم کیساتھ انہیں دینی تعلیم ست آراستہ کرتے تو شائد وہ اخلاقی طور بھی تربیت یافتہ ہوتے اور معاشرہ اں برائیوں اور خرابیوں سے صاف و پاک ہوتا ۔لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ والدین جتنی فکر مندی کا مظاہرہ اپنے بچوں کی دنیاوی تعلیم پر کرتے ہیں اُتنی ہی فکر اور دلچسپی سے وہ اپنے بچوں کی اخلاق سازی کیلئے بھی کریں۔’’بے شک اولاد کی تربیت نہ کرنااُنہیں قتل کرنے کے مترادف ہے‘‘۔اسلام نےاولادکی اچھی تربیت کو ماںباپ کا فرض قرار دیا ہے اور اللہ کے حضوراس سےمتعلق پوچھ گچھ ہوگی۔
کاش کوئی ایسا مکتب کھولے
جہاںآدمی کوانسان بنایاجائے
(رابطہ۔7780918848, 9797110175)
[email protected]