ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ بخاری
ارشاد ِ ربانی ہے :’’بے شک ، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود اور سلام بھیجا کرو‘‘۔ (سورۃ الاحزاب،56)یہ عمل حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے محبت کی دلیل ہے،لہٰذا اُمتی پرتو کہیں زیادہ لازم ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور آپؐ کی ذاتِ گرامی سے محبت میں دُرود وسلام کاتحفہ بھیجتارہے۔یہ عمل دنیا وآخرت دونوں کے لئے موجب اَجروباعث ثواب ہے۔اس عمل کے ذریعے آفات وبلیات کا خاتمہ ہوتا اور مصائب ومشکلات سے نجات ملتی ہے۔ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرائیلؑ تشریف لائے اور کہاکہ یارسول اللہ ؐ! کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کا کوئی اُمتی آپؐ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھے تو میں اس پر دس مرتبہ درود شریف پڑھوں اور آپ کا اُمتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بار سلام پڑھے تو میں اس پر دس بار سلام پڑھوں۔
حضرت محمد بن عبدالرحمٰن سے مروی ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میں سے جوشخص بھی میرے وصال کے بعد مجھ پر سلام بھیجے گا تو جبرائیل علیہ السلام میر ی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، یہ فلاں بن فلاں ہے جس نے آپؐ پر سلام پڑھاہے تو میں جواب میں فرماؤں گا ، اس پر بھی سلام ہو اور ﷲ تعالیٰ کی رحمت اور برکتیں ہو ں۔ حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ دعااس وقت تک زمین و آسمان کے درمیا ن معلّق رہتی ہے، جب تک کہ نبی اکرمؐپردرود نہ پڑھا جائے ۔
حضرت جابر بن عبدﷲ ؓسے مروی ہے ،حضور علیہ السلام نے فرمایا ،روزانہ جو شخص مجھ پر سومرتبہ درود پڑھے گا، ﷲ تعالیٰ اس کی حاجتیں پو ری فرمائے گا، اس میں ستر آخرت کی اور تیس دنیا کی ۔حضرت سعید بن عمر ؓسے مروی ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت کا جو شخص بھی دل کی گہرائی سے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو ا س پرا ﷲ تعالیٰ دس رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے دس درجے بلند فرماکر اس کی دس برائیو ں کو مٹا دیتا ہے۔
روایت ہے کہ حضرت سفیان ثوریؒ نے دوران ِ طواف ایک شخص کو دیکھا جو ہر قدم پر درودپاک پڑھتا تھا۔ حضرت سفیا ن ؒنے اس سے کہا کہ کیا بات ہے تو نے تسبیح و تہلیل کو چھوڑ دیا ہے اور اس کی جگہ پرنبی علیہ السلا م پر درود بھیجتا ہے، کیا تیرے پا س اس کی دلیل ہے ؟ ا ُس نے کہا، ﷲ تجھے معاف کرے تو کون ہے ؟ انہوں نے کہا، میں ُسفیان ثوری ہوں ۔ اس نے کہا کہ اگر تو نا در روز گار نہ ہو تا تو میں تجھے اپنے حال کے متعلق کچھ نہ بتاتااور نہ ہی اپنے راز سے باخبر کرتا، پھر کہا کہ میں حج بیتُ ﷲ کےلیے اپنے بیمار پڑے ہو ئے والد کی و جہ سے ٹھہر گیا اور ان کا علاج کیا، ایک رات میں ان کے سرہانے بیٹھا تھا کہ ان کا انتقال ہو گیا اور چہرہ سیاہ ہوگیا میں نے ’’ انّا ِﷲ واناّالیہ راجعون‘‘ کہہ کر ان کے چہرے پر چادر ڈال دی ،پس میری آنکھیں بوجھل ہو ئیں اور میں سوگیا ،پھر میں خواب میں ایک ایسے خوب صورت اور وجیہہ شخص کو دیکھتا ہوں کہ اس سے پہلے میں نے اتنا حسین و جمیل اور اس سے بڑھ کر پاکیزہ لباس والا اور خوشبو و مہک والا شخص نہ دیکھا تھا ،وہ قدم پر قد م اٹھاتا، میرے والد کے نزدیک پہنچ گیا اور ان کے چہرے سے چادر ہٹاکر ان کے منہ پر اپنا ہاتھ پھیرا تو وہ سفید ہوگیا ،پھر وہ شخص لوٹنے لگا تو میں نے ان کا کپڑا پکڑلیا اور کہا، اے ﷲ کے بندے تو کو ن ہے جو اس سفر میں ﷲ تعالیٰ نے تیرے حوالے سے میرے والد پر احسان فرمایا ۔ارشاد فرمایاکیا تومجھے نہیں جانتا ؟ میں صاحب قرآن محمد بن عبد ﷲ ہوں ،اگر چہ تیرا والد اپنے نفس پر زیادتی کرتا رہا، لیکن وہ میرے اوپر کثرت سے درود بھیجتا تھا، اب جب کہ اس پر مصیبت آئی ، اس نے مجھ سے مدد چاہی اور میں ہر اس شخص کی مدد کرتا ہوں جو مجھ پر کثرت سے درود پڑھتا ہے ،پھر میں بیدار ہواتو اپنے والد کے چہرے کو روشن دیکھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ِگرامی ہے کہ جب کوئی مسلمان مجھ پر درود پڑھتا ہے تو میں اس درود شریف کا جواب دیتا ہوں۔ اسی طرح جو سلام پیش کرتا ہے، اس کا بھی جواب دیتا ہوں۔ حضرت ابن مسعود ؒ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہو گا، جس نے مجھ پر سب زیادہ درود پاک بھیجاہے۔حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اصل میں بخیل وہ شخص ہے کہ جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود شریف نہ پڑھے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رحمۃ للعالمینؐ نے فرمایا : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو کہ جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود شریف نہ پڑھے۔
ہادی برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میرے روضہ طیبہ پر درود پاک پڑھتا ہے تو اسے میں خود سنتا ہوں اور جو مجھ سے فاصلے پر پڑھتا ہے، وہ میرے پاس پہنچا دیا جاتا ہے۔ آپؐ کا ارشادِ گرامی ہے کہ جو شخص مجھ پر کثرت سے درود پاک بھیجے گا، وہ عرش کے سائے کے نیچے ہو گا۔حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھ پر صبح و شام دس، دس مرتبہ درود پاک پڑھے گا۔ اسے روز قیامت میری شفاعت پہنچ کر رہے گی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جوشخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو ﷲ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے دس گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اگر یہ جاننے کا ارادہ ہے کہ درود شریف تمام عبادتوں سے افضل ہے تو ﷲکے اس فرمان پر غور و فکر کرو، بےشک، ﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، لہٰذا اے ایمان والو،تم بھی آپؐ پر درود بھیجا کرو، نیز دیگر تمام عبادات کے لئے ﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے، مگر نبی علیہ السلام پر درود بھیجنے کے معاملے میں پہلے خود درود بھیجا ،پھر فرشتوں کو درود بھیجنے کا حکم دیا اور پھر مومنوں کو حضور علیہ السلام پر درود بھیجنے کا حکم فرمایا، پس ا س سے ثابت ہو انبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا ایک افضل عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے رسول پاک ؐ کی عقیدت و محبت اور آپؐ کی ذات ِ اقدس پردُرود پاک پڑھنے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین)