سہیل انجم
سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس سدھانشو دھولیا یقیناً ان تمام لوگوں کی مبارکباد کے مستحق ہیں جو تعلیمی اداروں میں کسی بھی قسم کے امتیاز کے خلاف ہیں، جو بلا تفریق مذہب و ملت حصول تعلیم کے سبھی کے حق کے طرفدار ہیں اور جو اسکولوں اور کالجوں میں ڈریس کوڈ کے نام پر مذہبی و ثقافتی تنوع کو مٹانے کی کوششوں کے بالمقابل چٹان کے مانند کھڑے ہیں۔جسٹس دھولیا نے تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کی حجاب پوشی پر پابندی لگانے کے کرناٹک حکومت کے حکم اور اسے برقرار رکھنے والے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر باحجاب طالبات کے حصول تعلیم کے حق کو پختہ کیا ہے۔ انھوں نے ان کے حقوق کو جائز ٹھہرا کر ایک ایسی لکیر کھینچ دی ہے جس کو عبور کرنا بڑی بینچ کے فاضل ججوں کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ گزشتہ سال دسمبر کے اواخرمیں اٹھنے والے اس تنازعے میں پہلی بار آئینی عہدے پر فائز کسی شخص نے باحجاب طالبات کے دلائل کو سنجیدگی سے سنا اور ان کی تعلیم کو اولیت دی۔ ورنہ اب تک جنتے بھی بااختیار لوگ تھے خواہ وہ شریک اقتدار ہوں یا شریک عدلیہ حجاب کی مخالفت ہی کرتے رہے ہیں۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے غیر ضروری طور پر یہ دیکھنے اور جانچنے کی کوشش کی کہ حجاب اسلام کا لازمی جزو ہے یا نہیں۔ حالانکہ یہ مذہبی کے بجائے آئینی معاملہ ہے۔ ادھر ایک خاص نظریے کے حامل سیاست دانوں، وکلا اور دانشوروں نے حجاب کو ویلن بنا کر پیش کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ انھوں نے باحجاب طالبات کو دقیانوسی خیالات کی حامل بتایا بلکہ بعض سیاست دانوں نے تو اس معاملے کو دہشت گردی سے بھی جوڑ دیا۔ لیکن جسٹس سدھانشو دھولیا نے یہ کہہ کر کہ ان کے ذہن میں سب سے اوپر طالبات کی تعلیم کا مسئلہ تھا، اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے اورغیر متعصبانہ انداز میں فیصلہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حجاب پہننا مذہبی معاملہ نہیں بلکہ پسند کا معاملہ ہے۔ نہ اس سے زیادہ نہ اس سے کم۔ اس معاملے کو لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں حائل بے شمار رکاوٹوں کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کہیں ہم ان کو درپیش چیلنجوں میں اور اضافہ تو نہیں کر رہے ہیں۔
انھوں نے اپنے فیصلے میں جو کچھ کہا ہے اس پر تفصیلی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس دھولیا نے اپنے فیصلے میں ثقافتی تنوع اور لڑکیوں کو تعلیم کے مواقع کے نقطۂ نظر سے بحث کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے اسکول بالخصوص پری یونیورسٹی کالجز ایسے بہترین ادارے ہیں جہاں بچوں کو ملک کے بھرپور تنوع سے آگاہ کرنے اور ان کی رہنمائی و مشورے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مختلف زبان بولنے، مختلف کھانا کھانے اور مختلف لباس زیب تن کرنے جیسے امور اور اقدار کو اپنا سکیں اور ان میں ان قدروں کے تعلق سے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ پیدا ہو سکے۔ وقت آگیا ہے کہ وہ اس رنگا رنگی پر چونکنے کے بجائے اس پر خوش ہوں۔ وقت آگیا ہے کہ وہ اس بات کو محسوس کریں کہ رنگا رنگی ہمارے ملک کی طاقت ہے۔ انھوں نے ہائی کورٹ کی اس بات سے عدم اتفاق کیا کہ عرضی گزار یعنی مسلم طالبات کلاس رومز کے اند راپنے بنیادی حقوق پر اصرار نہیں کر سکتے کیونکہ بقول ان کے کلاس رومز ’کوالیفائڈ پبلک پلیس‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ہائی کورٹ نے عدالت ، وار رومز اور دفاعی کیمپوں وغیرہ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان مقامات پر بقدر ضرورت انفرادی آزادی کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اس پر جسٹس دھولیا نے کہا کہ اسکول ایک عوامی جگہ ہے۔ جیل یا فوجی کیمپوں سے اس کا موازنہ کرنا غلط ہے۔ ہاں ہائی کورٹ نے جو کچھ کہا ہے وہ اگر نظم و ضبط کے حوالے سے ہے تو اسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن نظم و ضبط کا قیام آزادی اور وقار کی قیمت پر نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے بہت واضح انداز میں کہا کہ کسی پری یونیورسٹی کالج کی طالبہ سے یہ کہنا کہ وہ اسکول کے گیٹ پر اپنا حجاب اتار دے، اس کی پرائیویسی یعنی اس کی نجی آزادی اور وقار پر حملہ ہے۔ یہ قدم ہندوستان کے دستور کی دفعات 19 ایک اور 21 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ ایک طالبہ کے وقار اور پرائیویسی کا حق اسکول کے گیٹ پر بھی ہے اور کلاس روم میں بھی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حجاب پر پابندی کی وجہ سے بہت سے اسٹوڈنٹس بورڈ کے امتحان میں نہیں بیٹھ سکے۔ جبکہ بہت سی طالبات نے اسکولوں سے ٹرانسفر سرٹی فکیٹ (ٹی سی) حاصل کیا تاکہ وہ دوسرے اداروں اور شاید مدارس میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ حالانکہ مدارس میں ان کو وہ معیاری تعلیم نہیں مل سکتی جو اسکولوں میں ملتی ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ اسکولوں کے انتظامیہ اور ریاستی حکومت کو اس سوال کا جواب دینا ہے کہ ان کے نزدیک تعلیم کی اہمیت ہے یا ڈریس کوڈ یعنی یونیفارم کے نفاذ کی۔ انھوں نے ایک بہت پیاری بات کہی کہ جب ایک بچی صبح کے وقت اپنی پشت پر اپنا بیگ لٹکائے اسکول جاتی ہے تو وہ سب سے خوبصورت منظر ہوتا ہے۔ اسکول جانے والی وہ بچی ہماری امید اور ہمارا مستقبل ہے۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک لڑکی کو اپنے بھائی کے مقابلے میں تعلیم کا حصول کہیں دشوار ہے۔ ہندوستان کے دیہات و قصبات میں لڑکی کے بیگ اٹھا کر اسکول جانے سے قبل برتن اور کپڑے دھونے میں اپنی ماں کی مدد کرنا عام بات ہے۔ لہٰذا اس کیس کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک لڑکی کو اسکول جانے کے لیے کتنے چیلنجوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھوں نے کرناٹک ہائی کورٹ کی جانب سے اسلام میں حجاب کی لازمیت دیکھنے سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ حجاب اسلام کا لازمی جزو ہو سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ ضمیر، عقیدہ اور اظہار کا معاملہ ہے۔ اگر کوئی طالبہ کلاس روم کے اندر بھی حجاب پہننا چاہتی ہے تو اسے نہیں روکا جا سکتا۔ اگر اس کے قدامت پسند خاندان نے حجاب پہننے کی شرط ہی پر اسے اسکول جانے کی اجازت دی ہے تو حجاب اس کے لیے اسکول جانے کا ٹکٹ ہے۔ یہاں جسٹس ہیمنت گپتا کا ایک جملہ بھی نقل کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اپنے فیصلے میں حجاب پر پابندی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اس کا مقصد اسکول میں یکسانیت اور سیکولرزم کو فروغ دینا ہے۔ حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکولرزم کا مطلب یہ ہے کہ تمام مذاہب کا احترام کیا جائے کسی مذہب کو برا بھلا نہ کہا جائے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اسٹیٹ کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہے۔ تمام مذاہب اس کے اپنے ہیں۔ لہٰذا سیکولرزم کا فروغ تو دیگر مذاہب کی اقدار اور شناخت کے احترام سے ہوگا نہ کہ ان کی مخالفت سے۔
قانون دانوں کے بہت بڑے حلقے نے جسٹس دھولیا کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ انصاف میں تاخیر تو ہو سکتی ہے لیکن انصاف ہو کر رہتا ہے۔ ان کے مطابق جسٹس دھولیا نے اظہار اور پسند کی آزادی کا، جو کہ بالآخر ایک شہری کا بنیادی حق ہے، تحفظ کیا ہے۔ اس فیصلے کی روشنی میں ریاستی حکومت کو چاہیے کہ وہ حجاب پر عاید پابندی اٹھا لے اور باحجاب طالبات کو تعلیم حاصل کرنے سے نہ روکے۔ بہرحال سپریم کورٹ کے اس اختلافی فیصلے سے امید کی کرن نمودار ہوئی ہے اور اب یہ توقع کی جانی چاہیے کہ جب بڑی بینچ اس معاملے پر سماعت کرے گی تو وہ طالبات کے دلائل پر غور کرے گی ،جس کے نتیجے میں اس معاملے کا وہ پہلو جو اب تک دب رہا تھا واضح ہو کر سامنے آئے گا۔ اب ہونا یہ چاہیے کہ اس تنازع کے پیدا ہونے سے قبل جو صورت حال تھی، اس کو قائم رکھا جائے یعنی حجاب پر پابندی نہ لگائی جائے۔ جب تک لارجر بینچ اس معاملے پر اپنا فیصلہ نہ سنا دے حجاب پر پابندی درست نہیں۔ ہاں اگر بڑی بینچ کرناٹک حکومت اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتی ہے تو پھر اس صورت میں پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ لیکن اس وقت بھی جسٹس دھولیا کے نکات کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ حکومت تعلیم کو اولیت دیتی ہے یا ڈریس کوڈ کو۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت سیاسی مصلحتو ںکی اسیر بنی رہتی ہے یا آئینی ضوابط کا احترام کرتی ہے۔
[email protected]