عبدالرحمان پاشا
لمپی وائرس یا لمپی وائرس اسکین ڈیزیز (LSD) مویشیوں اور خاص کر بڑے جانوروں کو کس طرح متاثر کررہا ہے۔ کیا یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتاہے؟ کیا آپ جو دودھ پیتے ہیں وہ محفوظ ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں، جو کہ ان دنوں بار بار پوچھے جارہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں گزشتہ کئی ماہ سے بڑے جانوروں گائے اور بھینسوں میں گانٹھ کی بیماری لمپی وائرس کے کیس سامنے آرہے ہیں۔ ابھی پوری دنیا میں کورونا وائرس اور منگی پاکس جیسی وبائی بیماریوں سے انسان اپنے آپ کو سنبھالنے کے لیے تیار ہو ہی رہے تھے کہ اب بڑے جانوروں میں لمپی وائرس کی اطلاعات آرہی ہیں۔اخبار دی ہندومیں 25ستمبر 2022کوشائع ایک رپورٹ کے مطابق سب سے پہلے لپمی وائرس کی بیماری 1929میں آفریقی ملک زامبیا میں پائی گئی، جس کے بعد وہ کئی دیگر آفریقی میں پھیلنے لگی۔ آفریقی ممالک سے ہٹ کر پہلی بار یہ کیس 1989میں اسرائیل میں پایا گیا۔ ہندوستان میں پہلی بار یہ کیس 2019میں اڈیشہ میں رپورٹ کیا گیا۔جولائی 2022میں یہ وائرس گجرات اور راجستھان میں تیزی سے پھیلنے لگا،اس کے بعد یہ کیس پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش، اترکھنڈ، جموں و کشمیر، اترپردیش ، مدھیہ پردیش، گوا اور آندھراپریش میں بھی پائے گئے۔ اس کی وجہ سے تقریباً 80ہزار مویشی ہلاک ہوگئے۔
ہندوستان میں بیشتر دیہی آبادی کی ذرائع آمدنی مویشیوں اور ان سے متعلقہ سامان سے وابستہ ہے۔ زراعت اور گاشت کاری کے دوران گائے کا استعمال عام ہے۔ اسی وجہ سے لمپی وائرس کے منظر عام پر آتے ہی خاص کر دیہی عوام میں تشویش پیدا ہوئی اور شہری عوام گائے کے گوشت اور دودھ کے استعمال کے سلسلے میں تذبذب کا شکار ہیں۔دودھ اور دودھ سے بنی دیگر اشیاء کی ڈیری صنعت کی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) کے سائنسدان یہ جاننے کے لیے مطالعہ کر رہے ہیں کہ کیا گانٹھ والی جلد یعنی لمپی وائرس کے انسانی آبادی میں منتقل ہونے کا کوئی امکان موجود ہے؟ خطرناک لمپی وائرس سے متاثرہ مویشیوں کے سروں کے نمونے ٹیسٹ کے لیے جمع کر لیے گئے ہیں۔ ٹیسٹ سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ اگر آپ متاثرہ مویشیوں کا دودھ پیتے ہیں تو کیا آپ کو انفیکشن ہوگا یا آپ اس سے محفوظ رہیں گے۔ اب تک ہندوستان کی 18 ریاستوں میں 1.5 ملین کے گانٹھ والے وائرس کے رپورٹ ہونے کے باوجود مویشیوں سے انسانوں میں منتقل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ایسا ابھی تک ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔مویشوں میں یہ بیماری جانوروں میں پھیلنے والی متعدد ی بیماری ہے ۔اس کی علامات میں تیز بخار، دودھ میں کمی، جلد کی گٹھلیاں، بھوک میں کمی، ناک سے پانی کے اخراج میں اضافہ، آنکھوں اور ناک سے بہت زیادہ تھوک اور پانی کا اخراج اور جسم پر گٹھوں کا بننا شامل ہیں۔
کیا دودھ محفوظ ہے؟:۔ سینٹر فار ون ہیلتھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جسبیر سنگھ بیدی نے نشاندہی کی کہ یہ وائرس براہ راست رابطے سے یا متاثرہ جانوروں کا دودھ پینے سے انسانوں کو متاثر نہیں کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دودھ پینے سے پہلے اسے ابال کر پینا چاہیے۔ تو کیا پاسچرائزڈ(ابلا ہوا) دودھ،غیر پاسچرائزڈ دودھ سے بہتر ہے؟ انڈین ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی وی آر آئی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر اشوک کمار موہنتی نے بتایا کہ متاثرہ مویشیوں کا دودھ پینے سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دودھ کے معیار میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ آپ ابالنے کے بعد یا ابالے بغیر ہی لیں۔لیکن گوشت کو 100ڈگری کی درجہ حرارت پر پکانے سے نقصان دہ مادے مرجاتے ہیں۔کیونکہ لمپی وائرس بیماری زونوٹک یعنی جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماری نہیں ہے، اسی لیے اب تک انسانوں میں یہ بیمیر منتقل نہیں ہوئی ہے۔روزنامہ سیاست میں 12اکتوبرکو شائع رپورٹ میںبتایا گیاہے کہ ’ڈاکٹرس بالخصوص ماہر مویشاں کا کہنا ہے کہ جانوروں میں پائی جانے والی اس بیماری کے انسانوں میں منتقل ہونے کا امکان نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بطور احتیاط کچھ وقت کے لیے گوشت کے استعمال کو ترک کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اس بیماری کا شکار ہونے سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے‘۔
لمپی وائرس کے خلاف ویکسین:۔مرکزی وزیر برائے زراعت و بہبودی کسان نریندر سنگھ تومر نے مویشیوں کو جلد کی بیماری سے بچانے کے لیے Lumpi-ProVacInd نامی ایک ویکسین کی تیاری کا اعلان کیا۔ یہ ویکسین نیشنل ایکوائن ریسرچ سینٹر، حصار (ہریانہ) نے آئی وی آر آئی، عزت نگر (بریلی) کے تعاون سے تیار کی ہے۔ اس سے قبل بکرے کی پاکس کی ویکسین مویشیوں کو لگائی جاتی تھی۔تجزیہ نگاروں کے مطابق آنے والا مہینہ مذکورہ ویکسین کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔ جب اسے بازار میں متعارف کیا جاسکتا ہے، جو کہ لمپنی وائرس پر قابو پانے میں مدد دے گا۔
دنیا کے لوگ کیا کھاتے ہیں؟:۔ ہم یہاں جدول میں دیئے گئے اعداد و شمار کی مدد سے یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ دنیا بھر کے لوگ اور خاص کر چین، امریکہ، ہندوستان اور سعودی عرب میں لوگ کیا کیا کھاتے ہیں، یہ اعداد و شمار نیشنل جیو گرافک ڈاٹ کام سے ماخوذ ہے۔جسے’ گوا میٹ کامپلیکس لمیٹیڈ‘ کے سابقہ منیجنگ ڈائرکٹر ڈاکٹر عبدالسمیع صوفی نے اپنی حالیہ کتاب ’’گوشت خوری سے گلابی انقلاب تک‘‘ میں صفحہ نمبر 47اور 48میں نقل کیا ہے۔