ڈاکٹرامتیازعبدالقادر
خواجہ الطاف حسین حالی ؔ(۱۸۳۷ء تا ۱۹۱۴ء) کاشمار اردوادب کے عناصر خمسہ میںہوتاہے۔ سرسید اس دبستان کے امیراورسرپرست تھے۔ انہوںنے اپنی جامع الصفات شخصیت کی وجہ سے ایک محورکی حیثیت اختیارکرلی تھی جس کے گرد غلام ہندوستان میںمسلمانوں کی تقریباً تمام ہی سیاسی ،سماجی ،ادبی ،علمی، تعلیمی اور مذہبی سرگرمیاں گردش کررہی تھیں۔ان کی سعیٔ پیہم ہی کاثمرہ تھاکہ مسلم قوم میںتعلیمی ،ثقافتی ،سائنسی اورقومی شعور بیدارہوا جس کاایک زندہ مظہرعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہے۔سرسید پرحالیؔ کی تصنیف ’حیات جاوید‘ ۱۹۰۱ میںشائع ہوئی ۔ قمر رئیس کے بقول ’’حیات جاوید کاخاکہ ۱۸۷۱میںتیار ہوا اورتصنیف ۱۹۰۱ءمیںشائع ہوئی۔ اس طرح تئیس سال میںاس کا موادتیار ہوا‘‘۔ ان ہی کاخیال ہے کہ حالیؔ نے سوانح کے مغربی تصورکے زیر اثر اسے تاریخ سے الگ کرکے ایک علیحدہ اورآزادفن اورادبی صنف کادرجہ دیا۔ ڈاکٹر سیدعبداللہ کہتے ہیں: ’’حیات جاوید سوانح کے توسیعی تصور کی ایک شاہ کار ہے‘‘۔ واضح رہے کہ حالی ؔ کے معاصر علامہ شبلی ؔ نے تحقیق اوراستنادکی وہ روایت قائم کی جس نے بعد میں تحقیق کے لئے ایک شرط کادرجہ حاصل کیا۔ شبلی ؔ کے نزدیک ’حیات جاوید‘ سرسید کی یک رُخی تصویرہے۔ اس کاانداز تحریر مدلل مداحی ہے۔ لیکن مہدی افادی کے نزدیکـ: ’’حیات جاویدایک شریف انسان کے قلم سے ایک شریف تر انسان کی سرگزشت ہے‘‘۔
حالی ؔ کی تصنیف کردہ تین سوانحی تذکروں میں یاد گارغالب مختصر ترین ہے جس میں کتاب کابیش ترحصہ کلام غالب کی شرح ہے۔ ’حیات سعدی ‘کی ضخامت ’یادگارغالب‘ سے زیادہ ہے۔اس میںبھی سوانحی کم اورزیادہ حصہ تنقیدی ہے لیکن ’حیات جاوید‘کواردوزبان کی طویل ترین سوانح میںشمار کیا جاتاہے۔ سب سے پہلے اس بات کی وضاحت کی جائے کہ ’مغرب کی اثرات ‘ سے کیامرادہے؟ مغرب کے اثرات سے مراد ہے اقدارزندگی میں وہ ثقافتی ،تہذیبی ،مذہبی اورسیاسی فکر اپناناجومشرق کی اورخصوصاً مسلم اقدار اورفکرکی نفی کرتی ہوں۔ اس میںمغرب کے علمی افادات اورسائنسی ترقی وانکشافات سے فائدہ اٹھاناشامل نہیںہے جیسا کہ حالیؔ نے ’مقدمہ شعروشاعری‘ میںمغربی اندازنقد کواپنے اصول تنقید میںجگہ دی ہے اوربہت سے مغربی نقاد اورشعراء کی فکرسے استنادکیاہے۔ مغرب سے استفادہ کرتے ہوئے حالیؔ اورآزادؔ نے نظم کی صنف کواردوزبان میںمتعارف کرایا اورخود بہت سی مفید نظمیں لکھیں۔ ثابت شدہ سائنسی حقائق کی روشنی میںقرآن کی تفسیرکرنا بھی اس زمرے میں نہیںآتا کیونکہ علم اورسائنس پرکسی کی ذاتی اجارہ داری نہیںہیں ۔البتہ بلاوجہ انگریزی الفاظ کابے دریغ استعمال ، جب کہ اردزبان میںان کے مترادفات اورہم معنی الفاظ موجود اورمروج ہیں، مغرب سے اثرپزیری میںآتاہے۔ حالیؔ نے اپنی نثرمیںبے شمار انگریزی الفاظ کااستعمال کیاہے۔
حالیؔ کے نزدیک سرسیدؔ کی قوت عمل کامحرک مذہب تھا ، کیونکہ ان کاتعلق شاہ غلام علی کی خانقاہ اور شاہ عبدالعزیز اورمولوی محمداسماعیل کی علمی مجلس دونوں سے تھا۔فقہی مسلک میںوہ غیرمقلد تھے۔ حالیؔ اورسرسیدؔ نیچر، کابہت وظیفہ پڑھتے ہیں۔رفقاء سرسیدمیں علامہ شبلی واحدآدمی ہیںجوافکارمغرب سے مرعوب نہیںہوئے ،لیکن حدیث کے مسٔلے میں’درایت ‘کی انھوںنے جوتعریف کی اس میںانھوںنے بھی اقتضائے طبیعت کے مطابق ہونے کوحدیث کی صحت کی شرط قراردیاہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سرسیدؔ کی پوری زندگی مسلمانوں کی خیرخواہی اوراسلام کے دفاع میںگزری، لیکن ان کے بعض خیالات بالخصوص قرآن کی تفسیر اوربعض احکام کی تاویل صرف عوام ہی نہیں بلکہ علماء کے لئے بھی اجنبی تھے۔علماء کرام نے اس معاملے میں ان سے معارضے کیے،ان کے خلاف محاذبھی قائم ہوئے لیکن سرسیداپنی تاویلات پرڈٹ گئے۔ سرسید کے رفقاء میںبھی اکثرحضرات ان کے تجددکے شاکی رہے لیکن یہ اختلاف سرسید کے قومی کاموں میں ان کے ساتھ تعاون میں مانع نہیںہوا۔ مطالعہ اور تجربات زندگی نے سرسید کی فکر کی جوتربیت کی اس میں تعقل اور تفکیر نے اپنی جڑ مضبوطی سے جمالی ۔ وہ تقلید کے زبردست مخالف تھے ۔ ان کی تمام تحریریں ان کے اپنے ذہن کی اُپج ہیں۔ اپنی محنت شاقہ سے وہ جس نتیجہ پر پہنچے وہ حالی ؔ کی زبان میں ’’ان کی تلاش وجستجوئے حق کانتیجہ’ الاسلا ھُو الفطر ۃ والفطرۃ ُ ھُو الاسلام ‘تھا۔
معاشرتی اورتعلیمی اصلاح توان کامشن ہی تھا، لیکن اسلام پر مستشرقین کے حملوںکے جواب میںانہوںنے کتابیں لکھیں ۔ حالیؔ نے سرسید کی مذہبی خدمات کانہایت تفصیل سے ذکرکیاہے انہوںنے بطورتمہید یہ بتایا ہے کہ اس زمانہ میںمسلمان تین طرح کے خطرات میںمبتلا تھے۔ پہلاخطرہ عیسائیوں کی طرف سے آنحضرت ؐ کی سیرت مبارکہ کامسخ کرنا تھا۔اس دلیل میںحالیؔ نے بجاطور سے مولانا رحمت اللہ کیرانوی ، مولوی آل حسن اور ڈاکٹر وزیر خاں کے دفاعی مناظروں کی افادیت کااعتراف کیاہے۔ لیکن حالیؔ جیسے عالم دین کے قلم سے رسول اللہؐ کے لئے ’بانئی اسلام ‘کے لفظ کااستعمال حیرت ناک ہے ۔اس سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ حالیؔ بھی سرسیدؔ کی طرح اھل مغرب کی اس فکر سے متاثرتھے کہ حضرت محمدؐ اسلام کے بانی ہیں۔
حالی ؔ کے نزدیک دوسرا خطرہ سیاسی اسبا ب سے تھا۔ چونکہ انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اس لئے وہ خصوصیت سے مسلمانوں کے درپے آزارتھے۔ تیسراخطرہ ا ن کے نزدیک مذہب اسلام کوانگریزی تعلیم سے تھا۔سرسیدکاخیال تھا کہ مسلمانوں کوانگریزی کے بجائے عربی وفارسی ہی میں تعلیم ملنی چاہیے لیکن بعد میںوہ بھی قائل ہوگئے تھے ان کے لئے انگریزی تعلیم بھی ضروری ہے ،ورنہ دنیوی ترقی میںوہ ابنائے وطن سے پیچھے رہ جائیں گے۔یہ سوانح ہمیںبتاتی ہے کہ سرسیدنے ان تینوں خطروںکامقابلہ کیا۔سرسید کے سیاسی افکارپر الگ سے گفتگو کی گئی ہے۔ سرسید نے مسلمانوں کی متفقہ اورمسلّمہ مذہبی فکرسے اختلاف کیا ہے اورجس کا سبب مغرب سے مرعوبیت کے سوا اورکچھ نہیںہوسکتا۔ حالیؔ کاکردار اس سلسلے میں یہ ہے کہ انہوںنے سرسید کے خیالات پرصرف مثبت انداز میںگفتگو کی ہے اوراکثرجگہ اس کی تصویب میںدلائل پیش کئے ہیں۔
سرسیدجس طرح انگریزوں سے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی خاطر سینہ سپر رہے،ویسے ہی عیسائیوں کی طرف سے اسلام پرہونے والے حملے کے دفاع میںبھی وہ پیش پیش رہے لیکن ان کی اصل کوشش یہ تھی کہ عیسائیوں اورمسلمانوں میں قربت اورمؤدت پیداکی جائے۔ کیونکہ قرآن کے بیان کے مطابق یہودیوں کے مقابلے میں نصاریٰ زیادہ نرم خو ہیں(المائدہ :۸۲)۔ اسی بات کواجاگرکرنے کے لئے انھوںنے ’’تبین الکلام ‘‘تصنیف فرمائی۔ اس کامقصدقرآن اوربائبل میںمطابقت ثابت کرناتھا۔ یہ کتاب مکمل نہ ہوسکی۔ مولاناحالیؔ نے اس کتاب کاجتناتعارف کرایا اس سے یہ بات تومعلوم ہوتی ہے کہ نسخ اورتحریف لفظی کے معاملے میںسرسید تمام علمائے سابقین کی آراء کے خلاف تھے۔بائبل کی تحریف کاقائل نہ ہونا توسراسرخلاف قرآن تھا(البقرۃ: ۷۹) حالی ؔ نے خود اس کے برخلاف عیسائیوں کے عقیدۂ تثلیث ،کفارہ اورخاتم المرسلینؐ کے انکار کی بناپر عیسویت کواسلام کے مغائر قراردیاہے۔ لیکن بہرحال سرسیداپنی نیت اورجزبہ میںصادق تھے۔
سرسید ولیم میورؔ کی کتاب “Life Of Mohammad” کوپیغمبر اسلامؐ کے کردار پر زبردست حملہ تصورکرتے تھے۔ انہیں افسوس تھا کہ مسلمانوں میںکوئی اس کا جواب لکھنے کااہل نہیںتھا۔ اس لئے انہوںنے خود اس کا جوا ب لکھا،جو ’خطبات احمدیہ‘ کے نام سے انگلستان میںشائع ہوا۔ سرسید نے اس کے مواد کے حصول کے لئے اپنی کوٹھی اورکتب خانہ بیچ کرلندن کاسفرکیا اوروہیں کتاب تحریر کی ۔ حالی دوسری کتابوں کے مقابلہ میں اس کاامتیازی وصف یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کااسلوب نہ مناظراتی اور جدلیاتی ہے ، نہ الزامی کہ جومخاطب کوصرف خاموش کرنے کے لئے ہوتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا اپروچ ہرشخص کے لئے معقول اوراطمینان بخش ہے ۔انہوںنے کثرت ازدواج اورطلاق کے معاملے میںاحکام اسلامی کادفاع کیاہے ۔سرسید نے ولیم میورکے اس اعتراض کاشافی جواب دیا ہے کہ اسلام تلوار کے زورسے پھیلا ۔اس سلسلے میںانہوںنے اسلام کا بائبل میںمذکور جنگ اور غارت گری سے تقابل کیا ہے ۔سرسید کی تفسیر کے متعلق حالیؔ نے اکتالیس نکات کی نشان دہی کی ہے جو جمہور امت کی آراء کے خلاف ہیں۔حالی ؔ نے جگہ جگہ تفسیر بالرائے کے حق میںاپنے خیالات کااظہار فرمایاہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’سرسید کے مذہبی استدلالات جواس وقت مقبول نہیںہوئی وقت آنے کے ساتھ ساتھ انہیں قبولیت کادرجہ حاصل ہوتا جائے گا‘‘۔
سرسید کے قابل مواخذہ افکار پر جوعلمی اعتراضات ہوئے،حالی انہیںفقط ایک آزمائش قراردیتے ہیں اوردلیل میںیہ آیت پیش فرماتے ہیں:’’کیالوگوں نے یہ گمان کررکھاہے کہ ان کے صرف اس دعوے پرکہ ہم ایمان لائے ہیں، ہم انہیں بغیرآزمائے ہی چھوڑدیںگے‘‘۔(العنکبوت:۱)
حالی سرسیدؔ کی اصابت فکر کے نبوت میں ارشادفرماتے ہیں’’الدّین النصیحۃ‘‘یعنی دین خیرخواہی کانام ہے۔ اس کے لئے تقدس کی نہیںبلکہ راست بازی کی ضرورت ہے۔حالی نے ’حیات جاوید‘کے دیباچہ میںلکھاہے کہ :’’سرسید نے مذہبی لٹریچر میںنکتہ چینی کی بنیاد ڈالی‘‘۔ حالانکہ یہ بات حقیقت کے خلاف ہے ۔ اسلامی لٹریچر میںاختلاف آراء وافکار کی وجہ سے تواس میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔حالی نے اسلامی تاریخ کے علمی وکلامی اختلافات کوسرسید کے تفردات کی حمایت میں پیش فرمایاہے۔حالانکہ قدمائے اسلام کے فکری تفردات ،خواہ عقائد سے متعلق رہے ہوں یاعلم کلام کے اور مباحث سے، ایک یاچند مسائل میںتھے ،نہ کہ جملہ مسائل میں۔ انہوںنے افکارباطلہ کاکوئی جال نہیںبُناتھا ۔ معتزلہ اورمتکلمین کے ساتھ متاخرین فقہاء کی ایک مختصرجماعت نے صرف خبرواحدکو حجت ماننے سے اختلاف کیاہے ۔ لیکن سرسید نے قبول احادیث میں صرف ایک اصول قائم کیاکہ اسے نیچرکے خلاف نہ ہوناچاہیے ۔نیچرکاکلمہ وہ اتنی دفعہ دہراتے ہیں کہ یہ ان کاعقیدہ بن جاتاہے۔ حالیؔ بھی پوری کتاب میںنیچر ہی کے گن گاتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ احادیث متواترہ کی حجیت پرتمام امت کااجما ع ہے ،لیکن حالی لکھتے ہیں:
’’اس زمانہ میںتواتر کواس حالت میںمفید یقین ماناجاتا ہے ،جس کی روایت میں کوئی مضمون دلیل قاطع عقلی یاقانون قدرت کے خلاف مندرج نہ ہو‘‘۔
اس لئے سرسید معجزوں کی یاتو تاویل کرتے ہیں یاانکار کرتے ہیں ۔فرماتے ہیں کہ :
’’معجزوں کادلیل نبوت ہونااور بات ہے لیکن معجزات کا صدور اوربات ہے‘‘۔
ان کاکہنا ہے کہ قوانین قدرت کبھی نہیں بدلتے ۔ یہ حضرات اللہ کی قدرت کاملہ کو ، جو کائنات کی فطرت میں تصرف کرنے پر قادرہے،نہایت سہولت سے فراموش کرجاتے ہیں۔مثلاً سورۃ البقرۃ آیت ۲۵۹میںہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کومارکر سوسال بعد دوبارہ زندہ کردیا ۔ اس مدت میں اس کاکھانا تروتازہ موجودتھا لیکن گدھے کی ہڑیوں سے دوبارہ اسے کھڑا کردیا گیا، یااصحاف کہف کاواقعہ جوسورہ ٔ کہف کی ابتدائی آیتوں میںہے، مچھلی کازندہ ہوکرسمندر میںچلے جانے کاواقعہ،یاحضرت عیسی ؑ کے اوپر آسمان سے مائدہ نازل ہونے اور ان سے باذنِ الٰہی متعدد معجزات کے صاد رہونے کابیان ،حضرت عیسی ؑ کے بہت سے معجزات کاذکرتوبائبل میںبھی ہے لیکن ’نیچر‘ کے اس وظیفہ نے ان بزرگوں کی مغرب نوازی کوبھی مات دے دی ہے۔
سرسید حضرت عیسی ؑ کے دوبارہ نزول کوغلط روایات پرمحمول کرتے ہیں،حالانکہ نہ صرف اس کے بارے میںمتعدد صحیح روایات موجودہیں بلکہ قرآن میںبھی اس کے اشارے پائے جاتے ہیں۔ اوریہ امت مسلمہ کامتفقہ عقیدہ ہے۔حالی نے سرسیدکی دینی خدمات کی توصیف ان الفاظ میںکی ہے:
’’نہ وہ واعظ تھانہ مفتی، نہ فقیہ تھا نہ محدث، نہ معانی بیان کاماہرتھا نہ منطق وفلسفہ کامدعی۔باوجود اس کے زمانۂ حال کے شبہات جولوگوںکے دل میںاسلام کی نسبت پیداہوئے تھے ان کاحل کرنے والاتمام ہندوستان میںیہی ایک شخص تھا‘‘۔مزید فرماتے ہیں:
’’سرسیدکے تمام اختلافات کااصل مقصد اسلام کی طرف سے معترضین کے اعتراضات یامتشککین کے شبہات کارفع کرنا تھا ‘‘۔
حالیؔ کے نزدیک تفسیرالقرآن ،جس میںگویا نئے علم الکلام کی بنیاد قائم کی گئی ہے،سب سے عمدہ نمونہ ان کی تصنیفات کاہے۔ سرسید کی زندگی میںمولانا عبدالحق حقانی نے ‘تفسیر احمدی‘کی رد میں ’تفسیر حقانی‘ تصنیف فرمائی جوعوام میں بے انتہا مقبول ہوئی اور آج تک اس سے استفادہ کاسلسلہ جاری ہے۔ سرسید کے کلامی بحث کے جواب میں مولانا ثناء اللہ امرتسری نے’ تفسیر ثنائی‘لکھی۔ یہ تفسیربھی کئی بار شائع ہوچکی ہے اورمسلمانوں میںبہت مقبول ہے۔
تفسیر سرسیدکی حمایت میںحالیؔ کی اس مفصل تحسین وتوصیف سے قاری یہ محسوس کرتاہے کہ حالی وسرسید کے زمانہ میں سائنس نے ترقی کرلی تھی کہ اگرقرآن کی جدیدتفسیر نہ کی جاتی توشاید جدید تعلیم یافتہ لوگوںکاقرآن پرسے اعتماد اُٹھ جاتا۔یہ دراصل دبستان سرسید کی مغرب سے بے انتہا مرعوبیت کی دلیل ہے ۔یہ غلط فہمی اس لئے لاحق ہوئی کہ سرسید کاغالباً یہ گمان تھا کہ ان کے زمانہ میں علم وحکمت اس قدرعام ہے کہ دنیاکاایک بہت بڑاحصہ اس سے واقف ہوگیاہے لیکن یہ غلط خیال اورمہمل بات ہے۔سائنسی انکشافات کی جورفتار پہلے تھی اب اس سے کئی گنابڑھ گئی ہے اورسائنس دانوںکے لئے یہ بات حیران کن ہے کہ جو باتیںانہیں آج معلوم ہورہی ہیں قرآن میںچودہ صدیاں پہلے بیان کی گئی ہیں ۔چنانچہ بہت سے لوگ اب قرآن کے بیان کردہ سائنسی حقائق کی بناپرایمان لائے ہیں۔
سرسید کی تفسیر کوایک صدی گزرچکی ہے ۔علم وتحقیق اورایجادات وانکشافات کاقافلہ بہت آگے بڑھ چکاہے۔سائنس کی مزیدترقی کے ساتھ قرآن کے یہ حقائق مزید مبرہن ہوئے ہیں۔لیکن مغیبات کاانکار کہیں نہیںہوا ہے کیونکہ اس بات کایقین تو سائنس دانوں کوبھی ہے کہ علم کامل کامالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔حالیؔ کے متصلاً بعد کاپچاس سالہ دور اسی عقلی برتری کے زعم میں مبتلارہا۔ پندارکے اُس بُت کوبیسویں صدی کی ابتدا میںبہت سے علمائے کرام نے پاش پاش کردیاتھا ۔ ان میںسرفہرست مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودیؒ ہیں،جنہیںمولانا عبدالماجددریاآبادیؒ نے بجاطورسے متکلم اسلام کاخطاب دیاہے۔ اس سلسلہ میںان کامختصر ،مجموعۂ مضامین ’’تنقیحات‘‘ بہت مقبول ہواہے۔اس سے لاکھوں متجددین کے عقائد کی اصلاح ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ حالیؔ کی ادبی خدمات اور سرسید کی تعلیمی اورسماجی خدمات کوامت نے بطیب خاطر قبول کیاہے اوران بزرگوں کی قرارواقعی قدرومنزلت کی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان بزرگوں کی قدردانی میںاضافہ ہی ہورہاہے ۔ اس مضمون میںان بزرگوں کی نہ تواہانت مقصود ہے اورنہ اس سے ان کی اہانت ہی لازم آتی ہے۔ یہ تودراصل تاریخ اورتفکیر کاعمل تجزیہ ہے ،ورنہ سرسید کے معروضات مسلمانوں میںمقبول اورمنکرات مردودہوچکے ہیں۔حالیؔ کی توضیحات نے بھی اس سلسلہ میںانہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔
[email protected]