جموں// جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور سینئر کشمیری پنڈت رہنما وجے بکایا نے کہا ہے کہ حکومت کو اْن کشمیری نوجوانوں، جنہیں وزیر اعظم خصوصی پیکیج کے تحت نوکریاں فراہم کرکے سال 2010 سے وادی میں تعینات کیا گیا ہے، کے مسائل اور مصائب کا تدارک کرنے کے لئے انسانی پہلو کو مد نظر رکھنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اب تک اس سکیم کے تحت 4200 افراد کو ملازمت فراہم کی گئی ہے، جو وادی کے مختلف علاقوں میں ڈسٹرکٹ کیڈر پوسٹس جیسے اساتذہ، جونیئر انجینئرز، اسسٹنٹ اکاونٹنٹس، سوشل ویلفیئر سپر وائزرز اور کمپورٹر آپریٹرز وغیرہ کے بطور اپنی خدمات فراہم کررہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ سارے لوگ اس سال کے پانچ مئی تک جانفشانی کے ساتھ اپنا کام کررہے تھے، جب راہل بٹ کو چاڈورہ تحصیل آفس میں دن دہاڑے ہلاک کردیا گیا اور اس واقعہ کی وجہ سے ان پنڈت ملازمین میں خوف و دہشت کی لہر پھیل گئی۔‘‘وجے بکایا نے مزید کہا، اس واقعہ کے بعد پنڈت ملازمین جموں صوبے میں چلے آئے اور وہ خوف و دہشت کی وجہ سے اسی صوبے میں اپنی ملازمتوں کی بحالی چاہتے ہیں”۔انہوں نے کہا، ’’حکومت نے ان ملازمین کا یہ مطالبہ مسترد کردیا ہے اور اب ان کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں۔ حالانکہ ان کے مطالبات جائز ہیں کیونکہ یہ لوگ واپس وادی جانے سے خوف محسوس کررہے ہیں۔
ظاہر ہے کہ اس طرح کی آزمائشی صورتحال میں یہ ملازمین نوکریوں پر اپنی زندگیوں کو ترجیح دیں گے‘‘۔اْنہوں نے انتظامیہ سے اس معاملے میں ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے پر زور دیا اور کہا کہ انتظامیہ کو اس مسلئے کا حقیقت پسندانہ حل تلاش کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ان ملازمین کو عارضی طور پر ریلیف آرگنائزیشنز یا سیکرٹریٹ یا الیکشن دفتر میں تعینات کردیا جانا چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر چھ ہزار فلیٹس تعمیر کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات کرنے چاہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’وادی میں حالات سازگار ہوجانے تک شادی شدہ جوڑوں کا اپنی جگہ پر رہ کر ہی کام کرنے یا پھر گھر سے کام کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے بھی غور کیا جانا چاہیے ‘‘۔وجے بکایا نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی کیلئے ماحول سازگار بنانے کے حوالے سیبھی موثر اقدامات کئے جانے چاہیں تاکہ کشمیری پنڈت وادی لوٹنے کے لئے نفسیاتی طور آمادہ ہوں۔وجے بکایا نے نگروٹہ مائگرنٹ کیمپ میں پانی کی قلت کے مسئلے پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا اور حکومت کو یہ مسئلہ حل کرنے کیلئے مطلوبہ اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مائیگرنٹس مسلسل ان کی امدادی رقم میں اضافے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن حکومت اس ضمن میں کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ گزشتہ 32 سال کے دوران حکومت نے مائیگرنٹ کنبوں کی ریلیف رقم کو ایک ہزار روپے سے محض تیرہ سو روپے کردیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ مائیگرنٹس کی ریلیف رقم میں اضافہ کرے کیونکہ ان کنبوں کی کفالت کا اسی پر دارمدار ہے۔پریس کانفرنس میں فقر ناتھ، ارن چپر، ڈاکٹر روہت، ابھے بکایا، وپل بالی، وائبیو متو، چاند جی بٹ، وویک سپرو، بھارت بھوشن، روہن لال بٹ، گی ایل پنڈتا، ارچانا کول، دیپک برادو، سہیل کھجوریہ، ابھہنو گپتا، انکش ڈوگرا، بنسی لعل بٹ موجود تھے۔