بلال احمد پرے
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے روئے زمین کو نورِ محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے روشن کر کے سب سے بڑا احسان فرما دیا اور دین ِ اسلام کو مکمل کر کے انبیاء و رسل کا یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ۔ اس طرح حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کو خاتم النبیین کا سہرا باندھا کر تا قیامت تمام جہاں کو اُسی نور سے منور کر دیا گیا ۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت دیکھئے! آپؐ امت مسلمہ کے لئے سب سے بہترین خیر خواہ ملے ۔ آپؐ کو ایمان نہ لانے والوں کا اتنا رنج و غم کہ خالقِ کائنات، مالکِ حقیقی، رب ذوالجلال اپنے محبوب نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلی، دلاسہ، ہمت و حوصلہ دے رہیں ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’اے حبیبِ مکرّم! پس اگر یہ لوگ اس بات (قرآن) پر ایمان نہ لائے تو کیا آپ ان کے پیچھے شدتِ غم میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے ؟ ‘‘۔ (الکہف :6)
اپنی اس کیفیت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم خود ایک حدیث میں اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ’’میری اور تم لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے روشنی کے لئے آگ جلائی، مگر پروانے ہیں کہ اس پر جل جانے کے لئے ٹوٹے پڑتے ہیں ۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں، مگر پروانے اس کی ایک نہیں چلنے دیتے ۔ ایسا ہی حال میرا ہے، کہ میں تمہیں دامن پکڑ پکڑ کر کھینچ رہا ہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑتے ہو ۔‘‘ ( بخاری و مسلم)
ایسے عظیم الشان پیغمبر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا شیدائی ہونا لازم بن جاتا ہے ۔ آپؐ کے محبین ابتداء نبوت سے ہی ملتے ہیں ۔ جنہوں نے قدم قدم پر اپنے اس دعویٰ کا سچا اور پکا ثبوت ہی پیش نہیں کیا بلکہ محبوب پیغمبر ؐ سے دور ہوتے ہی انہیں بے تابی، بے قراری و بے چینی سی کیفیت پیدا ہوتی تھی ۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے دیوانے تو آپؐ کے وضو کے پانی کے قطروں کو بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے ۔ اس طرح سے انہوں نے مُحِبین نبیؐ کے لئے محبت کا ایسا معیار (Standard) و طریقہ کار (Road Map) سامنے رکھ دیا ہیں ۔ جس پر ہم سب کو چل کر اپنانے کی ضرورت ہیں ۔
تاریخِ اسلام کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خاطر بے پناہ محبت کرنے والے صحابہ کبارؓ کے بے شمار سنہرے واقعات سے کُتب سیرت لافانی عشق کے سرورق سے بھری پڑی ہیں ۔
عہد نبوی ؐ کے ابتدائی مبارک دور میں اسلام کی دعوت خاموشی سے چُھپ کر دی جاتی تھی ۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جب علی الاعلان اعلائے کلمتہ اللہ کی صدا دی ۔ تو مشرکین مکہ آپؓ پر ٹوٹ پڑے، گرا کر آپ کو پاؤں سے روندا گیا، چہرہ مبارک پر مارا اور بے ہوش ہو گئے ۔ اپنے قبیلے یعنی بنو تمیم کے لوگوں نے آپ کو نیم مردہ حالت میں دیکھ کر ان ظالم کفاروں سے چھڑا لایا ۔ ہوش آتے ہی آپ نے پہلا کلام یوں فرمایا کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا کیا حال ہے؟ ‘‘ اس پر بنو تمیم کے لوگوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا، برہم ہوئے اور ملامت کرنے لگے کہ آپ پھر سے اس شخص کا نام لیتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کا یہ حال بنا دیا گیا ۔ اس پر عشق میں ڈوبے مُحِب رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا صبر نہ رہا اور مخاطب ہو کر فرمایا ’’اے نادانو! تمہیں کیا خبر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خاطر سختیاں جھیلنے میں جو لذّت ملتی ہے وہ دنیاداروں کو پھولوں کے بستر پر بھی حاصل نہیں ہوتی ہوگی ۔ حضرت عمر فاروق ؓنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ناپسندی پر اپنے پہنے ہوئے ریشمی جبہ کو دہکتے تنور میں جھونک کر جلانا پسند کیا، جو بے انتہا مُحِب ہونے کی عکاسی کرتا ہے ۔ حالانکہ اس قسم کا کپڑا عورتوں کے لئے جائز قرار دیا گیا تھا ۔ لیکن اللہ کے آخری نبیؐ کو جو چیز پسند نہیں ،اس سے آپؐ کے مُحِبین کیسے پسند کرتے ۔
اسی طرح ایک اور صحابیؓ نے رحمت للعالمین ؐ کی ناپسندگی پر اپنی ایک سونے کی انگوٹھی پھینک دی اور اس سے دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم سے دوبارہ اٹھانے کی خواہش ظاہر نہ کی ۔ یہ واقع بھی اپنے آپ میں بے انتہا محبت سِکھاتا ہے ۔ محبین ِ نبیؐ کو یہ بھی گوارا نہیں کہ جو چیز مُحب اور محبوب کے درمیان محبت میں رکاوٹ پیدا کرے، وہ بے قیمت چیز کس کام کی ہے ۔ اور آج امت مسلمہ کے مرد خصوصاً انہی چیزوں کے استعمال میں بڑی فخریہ انداز میں گرفتار ہو چکی ہے ۔ شادی بیاہ کے موقع پہ نہ صرف اسراف و تبذیر بلکہ دولہے کے ساتھ ساتھ باراتیوں کو بھی سونے کے مختلف زیورات بطور تحفہ بڑے ہی فخر کے ساتھ دئے جاتے ہیں اور مسلمان اس سے فخر سے پہنتے ہیں ،جب کہ دعویٰ ہے کہ ہم بھی شیدائی اور محبین ؐ ہیں ۔
حضرت عبداللہ زوالبجادینؓ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کے محبت کے خاطر اپنے چچے کا مال و دولت، غلام، رہائش و آسائش غرض سب کچھ چھوڑ دیا ۔ جس پر آپ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خوشنودی حاصل ہوئی اور ایمان جیسی بے لوث دولت سے بھی مالا مال ہو گئے ۔
حضرت عبداللہ بن حذیفہؓ کا حکومت، دولت اور شہزادی کو ٹھکرانا کوئی عام بات نہیں ۔ یہ صرف ایک مُحِب کے بس کی بات ہے ۔ آپؓ کا وہ اذیتیں اور تکالیف برداشت کرنا صرف اور صرف اس غیر معمولی محبت ہی کا تقاضا ہے ۔ حضرت اویس قرنی ؒ کے محبت کا کیا کہنا، اللہ اکبر! یہ واقعات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سچے اور پکے غلاموں کا ہی شیوہ ہو سکتا ہے ۔
دل ہوا جب سے آقا غلام آپ کا
میرے لب ہے اور آقا ہے نام آپ کا
الغرض اس طرح کمالِ محبت و عظمت، ایثار و قربانی اور لافانی عشق کے ان بے شمار مثالی واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا اصل تقاضا یہی ہے جو صحابہ کبار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے پیش کیا ۔ جنہوں نے تمام طبعی اسباب کے ہونے کے باوجود بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر اپنی محبت ہر حال میں بھاری رہنے دی اور اپنی مبارک جان سے بھی زیادہ محبوب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو رکھا ۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے محبوب نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ و سلم کے محبت سے سرشار فرمائے ۔ آمین
(ہاری پاری گام ترال،رابطہ ۔ 9858109109)
[email protected]