جنید احمد بٹ
ربیع الاول کے مہینہ میں عام طور پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے حوالہ سے ان کے حالات اور تعلیمات کے تذکرہ کیلئے باقی سال کی بہ نسبت زیادہ اہتمام کے ساتھ مجالس ومحافل کا انعقاد ہوتا ہے جس کا کسی شرعی ضابطہ اور اصول سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن چونکہ دوسری اقوام میں اپنے پیشواؤں کے دن منانے اور مخصوص ایام میں انہیں اہتمام کے ساتھ یاد کرنے کا سلسلہ موجود ہے، اس لیے ان کی دیکھا دیکھی میں ہمارے ہاں بھی یہ رسم عام ہوتی جارہی ہے اور کچھ حلقوں کی بے جا ضد کے باعث رسم و روایت سے بڑھ کر اس حوالہ سے بہت سے امور اجر و ثواب کے نام پر بدعات کی شکل بھی اختیار کرگئے ہیں جن سے علمائے حق نے نہ صرف ہمیشہ خود گریز کیا ہے بلکہ عام مسلمانوں کو بھی وہ اس کے نقصانات و مضمرات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
ان مجالس ومحافل کا سلسلہ ربیع الاول کے بعد ربیع الثانی میں بھی جاری رہتا ہے اور اصطلاحات کے فرق کے ساتھ کم و بیش سبھی مکاتب فکر کسی نہ کسی عنوان کے ساتھ اس عمل میں شریک ہیں ،جہاں تک جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات مبارکہ، سیرت طیبہ، سنن مقدسہ اور شمائل وخصائل کا تعلق ہے اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ان کا تذکرہ نہ صرف اجر و ثواب اور برکت و رحمت کا باعث ہے بلکہ یہ ہماری دینی ضروریات میں سے ہے کیونکہ ہم ’’اسوہ حسنہ‘‘ کے طور پر زندگی کے ہر لمحہ اور ہر کام میں جناب نبی اکرمؐ کو یاد کرنے اور ان کا طریقہ و سنت معلوم کرکے اس کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہیں لیکن اگر سرور کائنات ؐ کی یہ یاد اور ان کے حالات وفضائل کا تذکرہ مروجہ خود ساختہ طریقوں کے بجائے حضرات صحابہ کرام ؓاور تابعین عظام کے سادہ اور بے تکلفانہ طریقوں کے مطابق ہوتو یقیناًکہیں زیادہ برکات و فیوض اور اجر و ثواب کا باعث ہوگا، اس کے ساتھ ہی اگر آج کے حالات کے تناظر میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اْن ارشادات و تعلیمات اور احوال مبارکہ کو زیادہ اہمیت کے ساتھ اُجاگر کیا جائے جن کا ہمارے موجودہ احوال و ظروف اور مشکلات و مسائل کے ساتھ تعلق ہے تو اس سے برکات و فیوض اور اجر و ثواب کے ساتھ ساتھ راہنمائی کے نئے افق بھی سامنے آئیں گے اور مغرب کی فکری اور تہذیبی یلغار کے اس دور میں سب سے زیادہ ضرورت بھی اسی بات کی ہے کہ جناب نبی اکرمؐ کی سیرت طیبہ اور حضرات صحابہ کرام بالخصوص خلفاء راشدین کے حالات مبارکہ کا موجودہ عالمی صورت حال کے تناظر میں از سر نو مطالعہ کرکے آج کے ملی، قومی اور عالمی مسائل کا ان کی روشنی میں حل پیش کیا جائے اور سیرت طیبہ اور تعامل صحابہ ؓکے دائرہ میں امت کی نئی نسل کی فکری راہنمائی کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔ مثال کے طور پر آج کی عالمی تہذیب کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نئی تہذیب اور ترقی یافتہ ثقافت ہے ،لیکن جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اس میں نئی بات کون سی ہے ؟ تو اس کا کہیں سے کوئی جواب سامنے نہیں آتا کیونکہ اس تہذیب کی بنیاد سماج کی آزاد خواہشات پر ہے اور اس کے ثمرات ونتائج کے طور پر رقص و سرور، عریانی و فحاشی، زنا و لواطت، سود، نسلی برتری، مذہب بیزاری ،خدا فراموشی، جبر واستحصال اور معاشی بالادستی کے جو عملی مظاہر ومناظر انسانی سماج میں عام ہورہے ہیں، ان میں سے کوئی بات بھی ایسی نہیں ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل موجود نہیں تھی اور جسے جناب نبی اکرمؐ حج الوداع کے خطبہ میں ’’کل مر الجاھلی تحت قدمی‘‘ کے باطل شکن اعلان کے ساتھ ختم کرنے کا اعلان نہیں کردیا تھا۔مگر یہ آج کی مغربی تہذیب و ثقافت کے دجل و فریب کی انتہا ہے کہ اُسی پرانی جاہلی ثقافت کو ایک بار پھر جھاڑ پھونک کر کے اور اس کا از سر نو میک اَپ کرکے اسے نئی تہذیب کے عنوان کے ساتھ نمائش میں لگا دیا گیا ہے۔ اس قسم کے بہت سارے موضوعات ہیں، جن کے حوالہ سے مغربی فکر وفلسفہ کی فریب کاریوں کو جناب نبی اکرمؐ کی سیرت طیبہ اور سنت مبارکہ کی روشنی میں بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارے نزدیک آج کے دور میں سیرت نبوی ؐکے ضمن میں یہ ہمارے علمی و دینی حلقوں اور مراکز کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔
ہم سیرت نبویؐ کے تذکرہ و بیان سے دلچسپی رکھنے والے دوستوں سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اس طرف خصوصی توجہ دیں اور آقا ئے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و سیرت کی روشنی میں آج کی نئی نسل کی فکری اور تہذیبی راہنمائی کے تقاضوں کو باقی تمام معاملات پر ترجیح دیں۔
( رابطہ۔7006474903)
[email protected]