نیویارک// اقوام متحدہ کے جوائنٹ سکریٹری انتونیو گوٹیرس نے دنیا کے صنعتی ممالک کو 80 فیصد تک ماحولیات کو تباہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی ناانصافی کے سنگین حساب کتاب‘ کا شکار ہے اور ایسی صورتحال میں یہ ذمہ داری دنیا کے صنعتی ممالک پر عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کی مدد کرے۔انہوں نے اْن صنعتی ممالک پر پاکستان کی مدد کے لیے زور دیا جو آب و ہوا کو تباہ کرنے والا 80فیصد اخراج کرتے ہیں، تاکہ ملک کی بحالی، موافقت اور آفات سے لچک پیدا کرنے میں مدد ملے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی پر بحث کا اختتام کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سربراہ نے پاکستان کی مدد کو صنعتی ممالک کی ’اخلاقی ذمہ داری‘ قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بار یہ پاکستان ہے، کل یہ ہمارے ملک اور ہماری کمیونٹیز میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں عطیہ دینے والے ممالک اور اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں میں مکمل تعاون فراہم کریں۔ حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے یو این جی اے کو بتایا کہ سیلاب کے پانی نے ان کے اپنے ملک پرتگال کے کل رقبے سے 3 گنا زیادہ رقبے کو ڈبو دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’پاکستان صحت عامہ کی تباہی کے دہانے پر ہے اور اب ہیضہ، ملیریا اور ڈینگی بخار سیلاب سے کہیں زیادہ جانیں لے سکتا ہے۔اس مدد کے لیے ایک اور اپیل میں، اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے ہفتے کے روز کہا کہ اسے 6لاکھ 50ہزار سے زائد افراد کے لیے فوری طور پر امدادی سامان کی ضرورت ہے۔ (یو این آئی)