طارق شبنم
وہ دانائے سُبل ختم الرُسل،مولائے کُل جس نے
غُبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاہ ِ عشق مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قُران وہی فُرقان وہی یٰسین وہی طٰہٰ
و ہ شام کیا شام دلنواز تھی جو اس صبح کے آمد کی خبر دے رہی تھی، جس میں نبیوں کا امام اور رسولوں کا سرتاج پیغمبرآخرالزمان محمد مصطفی ﷺ پیدا ہونے والا تھا ۔وہ صبح کیا صبح جانفزا تھی جو نوید بہار لے آئی کہ غریبوں کا والی ،روشنی کا پیامبر ،ظلمتوں کا پردہ در یعنی خاتم الانبیاؑحضرت محمد مصطفٰیﷺتولد ہو چکے ہیں ،با اتفاق رائے ۱۲ ربیع الاو ل وہ تاریخ تھی جو دنیا میں ایک نئے انقلاب کا پیش خیمہ تھی ،جو اعلان کر رہی تھی کہ کفر و شرک اور ظلمتوں کا دور ختم ہونے والا ہے ،ہدایت و انسانیت کا آفتاب روشن ہو چکا ہے اور ساری دنیا نور الٰہی سے جگمگانے والی ہے۔ سسکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کو حیات نو ملنے والی ہے ۔
انسانوں کی ہدایت کے لئے کم وبیش دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر تشریف لائے ،جو سب اللہ تبا رک و تعالیٰ کے بر گزیدہ اور منتخب بندے تھے لیکن انبیائے کرام میں مراتب کا فرق ہے ،لیکن ہمارے لئے تمام انبیائے کرام لائق احترام ہیں اور ہم پر واجب ہے کہ ہم ان سب انبیائے کرام پر ایمان لائیں ۔لیکن تمام نبیوں میں سب سے افضل و اعلیٰ سید الاولین و آخرین حضرت محمد مصطفٰی ﷺکی مبارک ذات گرامی ہے ۔آپ ﷺکا درجہ سب سے بلند ہے ،آپ ﷺ اولین و آخرین کے سردار ہیں اور تمام دنیا کے لئے سراپا رحمت ہی رحمت ہیں ،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ترجمہ’’ اے محمدﷺ ہم نے آپ کو ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا‘‘۔ آپ ﷺ کی نبوت عام تھی ۔آپ ﷺ کسی مخصوس خطے یا کسی مخصوس علاقے کے نبی نہیں تھے بلکہ آپ ﷺ کو ساری دنیا کے انسانوں کے لئے معبوث کیا گیا تھا اور آپ ﷺ جن و انس سب کے نبی ہیں۔ جس صدی میں آپ کی ولادت با سعادت ہوئی وہ صدی انسانی تاریخ میں سب سے اہم صدی تھی۔ چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے صدی در صدی گزری یہاں تک کہ وہ صدی آگئی جس سے میں ہوں اور میں بنی آدم کی سب سے بہتر صدی میں معبوث کیا گیا ہوں ۔
حضور ﷺ کی حیات طیبہ اور اخلاق کریمانہ قرانی تعلیما ت کا کامل نمونہ ہیں ۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کے اخلاق قران تھے ،آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ میں اس لئے معبوث کیا گیا ہوں تاکہ حسنِ اخلاق کی تعمیل کر سکوں ۔آپ ﷺ سب سے زیادہ غیرت مند ،سب سے زیادہ عابد و زاہد ،سب سے زیادہ با حیاء و با اخلاق اور با کردار ہیں ۔سادگی کی مثال اور قناعت پسند ،سب پر شفیق اور انتہائی رحم دل ۔ مظلوموں ،بے کسوں ،کمزوروں یتیموں اور لاچاروں کے محسن اعلیٰ تھے۔آپ ﷺ عہد کے پابند ،امانت و دیانت میں یکتا ،سب سے اعلیٰ منتظم،سب سے بڑے مدبر ،سب کے حقوق ادا کرنے والے اور ساری دنیا کے انسانوں کی بھلائی کے لئے بے چین و بے قرار تھے ۔آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ’’میں تمہارے لئے ایسا ہوں جیسے باپ اپنی اولاد کے لئے ‘‘۔باپ اپنی اولاد کے لئے سب سے زیادہ شفیق ہوتا ہے لیکن نبی کی شفقت باپ کی شفقت سے بڑھ کر ہوتی ہے کیوںکہ نبی دنیا و آخرت ہر جگہ اپنی امت کی کامیاب و کامران بنانا چاہتا ہے۔ آپ ﷺ نے جو کچھ فرمایا اس پر خود عمل کرکے دکھایا ،فتح مکہ کا واقع ہمارے لئے اسکی جیتی جاگتی مثال ہے ۔جب آپ ﷺ ایک فاتح کی حیثیت سے اپنے لشکر سمیت مکہ شریف میں داخل ہو گئے تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کے ساتھ کیا سلوک فرمایا جنہوںنے آپ ﷺ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ے تھے اور انسانیت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ان کو ستانے کے لئے بر بریت کے سارے حربے استعمال کئے تھے ،اتنا ستایا تھا کہ مکہ میں رہنا بھی دو بھر کر دیا تھا ،لیکن آپ ﷺ کا مکہ میں داخل ہونے کا عالم بھی عجیب تھا۔بڑی تواضع و انکساری کے ساتھ آپﷺ مکہ میں داخل ہوئے ،آپ ﷺ کے سامنے وہ سب سرداران مکہ موجود تھے جو آپ ﷺ کے بد ترین دشمن اور اسلام کی راہ میں میں سخت رکاوٹیں ڈالنے والے تھے ،جنہوںنے مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کر دیا تھا ۔ حضور پر نور ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا ،اے مکہ کے سردارو آج میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں،ان سب دشمنان اسلام کے سر جھک گئے لیکن آپ ﷺ نے فرمایا ،آج تم پر کوئی الزام نہیں جائو تم آزاد ہو ۔کتنا خلاف توقع اعلان تھا یہ ،کفار مکہ اس لائیق تھے کہ انہیں جو بھی سزا دی جاتی کم تھی لیکن اس تاریخی اعلان کے بعد وہی اسلام کے دشمن اسلام کے دامن میں پناہ لینے کے لئے بے تاب ہو گئے اور کفار کی بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا ۔وہ ذات اقدسﷺ جس کے احسانات و انعامات کا کوئی ٹھکانہ نہ ہو ،جس کے احسانات سب پر عام ہو ں،نہ امیر غریب کی تقسیم،نہ حاکم و محکوم کا امتیاز ۔مرد ،عورتیں،بچے اوربزرگ سب احسانات سے فیض یاب ہوں،کوئی بھی مخلوق جن کی بے پناہ احسانات سے خالی نہ ہو اس ذات اقدس سے ہمیں کتنی محبت ہونی چاہیے۔کتنے عظیم الشان اور جلیل القدر نبیؐ کی امت ہونے کا ہم کو شرف حاصل ہے ،ہم اپنی خوش قسمتی پر جتنا بھی ناز کریں کم ہے۔آپ ﷺ کے حقوق کی ادائیگی کی علامت یہ ہے کہ ہماری ساری خواہشات اور مرضیات حضورﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کے عین مطابق ہو جائیںاسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی مضمر ہے ۔اللہ تبا رک و تعالیٰ دنیا کے تمام مسلمانوں کو اپنے حبیب کا سچا حق ادا کرنے والا اور سچی اتباع کرنے والا بنائے۔۔۔ آمین
بلغ العلی بکمالہ
وہ پہنچے بلندیوں پراپنے کمال کے ساتھ
کشف الدجی بجمالہ
آپ کے جمال سے تمام اندھیرے دور ہو گئے
حسنت جمیع خصالہ
آپ کی تمام عادتیں ہی بہت اچھی ہیں
صلو اعلیہ و آلہ
آپ اور آپ کی آل پاک پر درود اور سلام
٭٭٭
اجس بانڈی پورہ، کشمیر،موبائل نمبر؛ نمبر9906526432