سید امجد شاہ
جموں// پولیس نے مفرور گھریلو ملازم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو پونی چک میں متوفی پولیس افسر کے دوست راجیو کھجوریا کی رہائش گاہ پر کل رات ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات ہیمنت کمار لوہیا کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعددومانہ پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آنے والا علاقہ کانا چک کے کھیتوں میں چھپا ہوا تھا۔گرفتارنوجوان کی شناخت 23سالہ یاسر احمد ولد محمد یوسف لوہار ساکن ہالہ، ضلع رام بن کے طور پر کی گئی ہے۔رات بھر جموں و کشمیر پولیس کی ایک بڑی تلاش میںہیمنت لوہیا کے قتل کیس میں ملوث ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اے ڈی جی پی جموں زون مکیش سنگھ نے کہا کہ ملزم سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی ہے۔ابتدائی تفتیش کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھریلو ملازم یاسر احمد ساکنہ رام بن مرکزی ملزم ہے۔ جائے وقوعہ سے جمع کی گئی کچھ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مشتبہ ملزم کو اس جرم کو انجام دینے کے بعد بھاگتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم گھریلو ملازم تقریباً 6 ماہ سے اس گھر میں کام کر رہا تھا اور ابتدائی تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے رویے میں کافی جارحانہ تھا اور ذرائع کے مطابق ڈپریشن کا شکار بھی تھا۔مکیش سنگھ نے کہا’’اب تک کوئی دہشت گردی کی کارروائی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ظاہر نہیں ہوئی ہے لیکن کسی بھی امکان کو مسترد کرنے کیلئے مکمل تحقیقات جاری ہے تاہم اس کی ذہنی حالت کی عکاسی کرنے والے کچھ دستاویزی ثبوتوں کے علاوہ جرم کا ہتھیار بھی ضبط کر لیا گیا ہے‘‘۔دریں اثناء ڈی جی پی جموں و کشمیر پولیس دلباغ سنگھ ،جنہوں نے قتل کی جگہ کا دورہ کیا،نے کہا’’راجیو کھجوریا ہیمنت کمار لوہیا کا دوست ہے۔ لوہیا چند دنوں سے کھجوریہ کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے۔ گزشتہ رات کھانا کھانے کے بعد ڈی جی جیل خانہ جات اپنے کمرے میں چلے گئے۔ ملزم لوہیا کے پاؤں پر دوا لگانے کے لئے کمرے کے اندر بھی تھا کیونکہ اسے معمولی چوٹ لگی تھی۔ اچانک گھریلو ملازم نے کمرے کو اندر سے بند کرنے کے بعد ڈی جی جیل خانہ جات پر تیز دھار ہتھیار سے بار بار حملہ کیا‘‘۔انہوںنے کہا کہ لوہیا کے ساتھ کمرے میں کچھ گڑبڑ ہونے کا خاندان کو شبہ ہوا اور وہ دروازہ توڑنے کیلئے دوڑ پڑے جسے گھریلو ملازم نے اندر سے بند کر دیا تھا۔انہوں نے ابتدائی تفتیش کے حوالے سے مزید کہا’’انہیں زخمی کرنے کے بعدملزم نے تکیے کو آگ لگانے کی کوشش کی اور جلتا ہوا تکیہ ان پر پھینک دیا‘‘۔انہوں نے کہا کہ افراتفری کی صورتحال کے درمیان خاندان کے افراد نے ڈی جی جیل خانہ جات کی جان بچانے کیلئے بار بار دروازہ توڑنے کی کوشش کی لیکن اس وقت تک وہ شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔ڈی جی پی نے کہا’’”یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے خاص طور پر جب آپ کسی قابل اعتماد آدمی کو گھریلو ملازم یا باورچی کے طور پر شامل کرتے ہیں جو ایسی (سفاکانہ) حرکت کرتا ہے‘‘۔ انہوں نے تفتیشی پولیس ٹیموں کے ذریعے حاصل کئے گئے کچھ متعلقہ سراغوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’ملزم کی واقعہ کے وقت ذہنی حالت مختلف تھی۔ ان کی پرانی تاریخ (خاندانی تاریخ) ان کی بہت جارحانہ فطرت کو ظاہر کرتی ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔کچھ دہشت گرد تنظیموں کے دعوؤں پر انہوں نے کہا ’’دہشت گرد تنظیمیں اکثر ایسے واقعات کا کریڈٹ لیتی ہیں حالانکہ ہمارے پاس پولیس کی تفتیش میں اس قسم کا کوئی سراغ نہیں ہے۔ فی الحال،ہم اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں لیکن اگر یہ بات تحقیقات کے دوران سامنے آئی تو ہم اس کا جائزہ لیں گے‘‘۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک اور گھریلو ملازم (عینی شاہد) موہندر سنگھ نے کہا ’’میں کمرے میں تھا اور پانی کی بوتل بھر کر واپس آنے ہی والا تھا کہ راجیو سر (گھر کے مالک) نے مجھے فون کرنا شروع کیا۔ اس کی آواز سن کر میں گھبرا گیا۔ میں اچانک نیچے آگیا۔ ہم نے دیکھا کہ کمرہ بند تھا اور ہم نے دروازہ توڑنے کی کوشش کی۔ رات کے دس بجے کے قریب یا اس سے زیادہ کا وقت تھا‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم گزشتہ چھ ماہ سے مذکورہ گھر میں کام کر رہا تھا۔اس دوران ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے ایک مجسٹریٹ کی موجودگی میں ڈی جی جیل خانہ جات کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا اور اس کی ویڈیو گرافی کی گئی۔لوہیا کی آخری رسومات جموں کے جوگی گیٹ میں دوپہر 3 بجے کے قریب اداکی گئیں اور اس سے قبل ان کی لاش کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ پولیس لائنز جموں منتقل کیا گیا۔دریں اثناء پولیس نے یاسر احمد ولد محمد یوسف ساکن ضلع رام بن کے خلاف دفعہ302 آئی پی سی، 4/25 آرمزایکٹ پولیس اسٹیشن دومانہ میں ایف آئی آر نمبر 345 آف 2022 درج کی گئی ہے۔
بہترین پولیس افسر اور ایک عظیم انسان تھے: ایل جی
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کو ایچ کے لوہیا کے قتل پر صدمے اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بڑے اعزاز اور لگن کے ساتھ ملک کی خدمت کی۔ منوج سنہا نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ ہیمنت لوہیا ایک بہترین پولیس افسر اور ایک عظیم انسان تھے۔ انہوں نے بڑی جانفشانی اور لگن سے ملک کی خدمت کی۔ ان کے انتقال پر صدمے اور گہرے رنج و غم میں مبتلا ہیں۔ سوگوار خاندان اور دوستوں کے ساتھ میری تعزیت۔
’’پیاری موت پلیز میری زندگی میں آؤ‘‘
ملزم کی ڈائری اس کی مایوسی اور انتہائی خراب ذہنی حالات کی عکاس
جموں/ سید امجد شاہ/ڈی جی جیل خانہ جات قتل کے مرکزی ملزم رام بن ضلع کے یاسر احمد،جو جی ڈی کے گھر میں چھ ماہ سے گھریلو نوکر تھے ،کی ہاتھ سے لکھی گئی ڈائری کے کچھ صفحات اُن کی مایوسی اور زندگی میں غیر یقینی مستقبل کی نشاندہی کرتے ہیں کیونکہ وہ ڈپریشن کا شکار تھا۔یاسراحمدسکول سے تعلیم ادھوری چھوڑ کرنکلاتھا اور کافی عرصے سے کام کی تلاش میں اپنے گھر سے باہر تھا، حالانکہ اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ وہ گھریلو ملازم کے طور پر راجیو کھجوریا کے گھر کیسے آیا۔کشمیر عظمیٰ کو اُس ڈائری کے کچھ صفحات تک رسائی ملی جن سے کچھ ایسی باتیں سامنے آئی ہیں جس سے ملزم کی ذہنی کیفیت کو سمجھنا آسان ہو جائے گا کیونکہ اس نے اپنے دنوں کو اس طرح بیان کیا ہے’’ہر دن ایک امیدسے شروع ہوتا ہے لیکن ایک تجربے پر ختم ہوتا ہے۔ یہ زندگی ہے‘‘۔وہ اپنی زندگی کے بارے میں کچھ اس طرح لکھتے ہیں “میری زندگی ،10فیصدخوش، محبت 0فیصد، 90فیصد تناؤ، 99فیصد اداسی اور 100فیصدجعلی مسکراہٹ‘‘۔ وہ اپنی زندگی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’میں جیسی زندگی جی رہا ہوں، مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے‘‘۔اگلے پیراگراف میں وہ پھر وضاحت کے ساتھ لکھتے ہیں ’’مسئلہ اس بات سے ہے کہ آگے ہمارا کیا ہوگا ‘‘۔ ایک سینئر پولیس افسر نے تصدیق کی کہ قتل کے ملزم نے ایک اور صفحہ ہندی زبان میں لکھا ہے جس میں شاعرانہ انداز میں انہوںنے اپنی موجودہ صورتحال کو بیان کیا ہے۔ اپنی شاعری کے آخری پیراگراف میں انھوں نے اچھی زندگی گزارنے کی خواہش کا اظہارکیا ہے لیکن انھوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ ہی کر لیا ہے۔ڈی جی جیل خانہ جات کے قتل کے ملزم کی تحریر کردہ المناک ڈائری کے ایک اور صفحہ میں لکھاگیا ہے’’”مجھے اپنی زندگی سے نفرت ہے‘‘ ۔ اس نے اپنی زندگی کے مسائل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے”زندگی تو بس تکلیف دیتی ہے، سکون تو اب موت ہی دیتی‘‘۔ایک بار پھر وہ اپنی موت کو مخاطب کرتا ہے’’پیاری موت، پلیز میری زندگی میں آؤ۔ میں ہمیشہ آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ مجھے برے دن، ہفتے، مہینے، سال اور زندگی گزرنے پر افسوس ہے‘‘۔اس نے آخر میں لکھا کہ وہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں’’میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہوں”۔ اسی ڈائری کے ایک اور صفحے پر، جسے پولیس نے ضبط کیا ہے ،میں کچھ لکھا ہے جس کا عنوان ہے ’’بھلا دینا مجھے‘‘۔لکھا ہے’’تجھے جینا ہے میرے بنا، بھلا دینا مجھے، ہے الوداع تجھے جینا ہے میرے بنا‘‘۔