محمد مزمل حق ندوی
آج سادہ لوح اور دین دار علماء و فقہاء کی ایک بہت بڑی جماعت ایسی ہے جو کہ نصف صدی سے تقریباً مدارس و مکاتب میں قال اللہ و قال الرسولؐ کی خوشنما صدائیں بلند کرتی چلی آرہی ہے، اس کے عوض انہیں کیا ملا، صرف اور صرف وقت گزاری کے لیے کچھ رقومات، جن سے ان کے خانوادے کی مکمل کفالت تو دور کی بات رہی بلکہ جزوی کفالت بھی ناکافی ہے۔ان علمائے بوریہ نشینوں کی محنت اور اس پر ملنے والی قلیل تنخواہوں کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اہل مدارس اور مکاتب کے ذمہ داروں کے وجدان اور قلوب کے اندر کی مثبت سوچ اور فکر یکسر مردہ ہوچکی ہے ، معلمین و معلمات کی تنخواہیں دن بدن قلیل سے قلیل تر ہوتی چلی جارہی ہیں اور اونچے اونچے عالیشان مکانات مدارس کی زینت بنتے جارہے ہیں، لیکن بدقسمتی سے علماء و فقہاء اور خدام مدارس کے حالات ِزار کی طرف توجہ دینے والا کوئی نہیں ہے، وہ چند ہزار روپے کے عوض دن رات خدمات انجام دیتے چلے آرہے ہیں، بعض علماء کی عمریں پچاس سے متجاوز ہوچکی ہیں، بعض حضرات معلمین کے گھروں میں دو دو، تین تین، معصوم کنواری لڑکیاں بیٹھی ہوئی ہیں ، نہ ان کے والدین کے پاس اتنی خطیر رقم موجود ہوتی ہے اور نہ ہی وہ ان کو دان جہیز دے کر اچھی طرح سے ان کے ہاتھ پیلے کرپاتے ہیں۔ خدارا! اس مسئلے پر غور و تدبر فرمائیے کہ اس کو کس طریقے سے حل کیا جائے یا یہ کہ علماء حضرات کے گھروں میں بچیاں سسک سسک کر بلک بلک کر ہمیشہ روتی رہیں اور ان کی جوانیاں برباد ہوتی رہیں اور ان کے والدین کی آنکھیں اشک بار ہی رہیں ، نہ ان علماء کو تعلیم و تعلم میں لطف ، نہ ہی ان کو عبادت و ریاضت میں مزہ، نہ ہی ان کو دعوت و تبلیغ میں دلچسپی، دنیا میں وہ یوں ہی وقت گزارتے رہیں اور ان کی اولاد و احفاد و اسباط روتے بلکتے رہیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ مقتدر علماء اور سرمایہ دار حضرات کا ایک طبقہ ایسا ہے کہ ان کے پاس دولت و ثروت کی ریل پیل ہے ، ہر طرح کی فراوانی ہے کہ وہ اپنی ضروریات سے زائد دولت اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور یہ دولت و ثروت بھی یتیموں ، بے کسوں اور محتاجوں کی ہے، ان پر اللہ نے ان کو نگراں اور ذمہ دار بنایا ہے، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ نادار علماء و فقہاء کی بچیاں اور بیٹیاں سسک رہی ہیں ، اگر اس طرف ارباب حل و عقد اور مقتدر و سرمایہ دار علماء کرام نے دھیان نہیں دیا تو اس کے بہت ہی بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، بقولہ تعالیٰ ’’تلک الایام نداولہا بین الناس‘‘ (آل عمران 140) کے تحت اللہ عرش والے کا فیصلہ ان کے خلاف بھی آسکتا ہے اور قارون ملعون کی طرح ان کی دولت و ثروت برباد و ضائع ہوسکتی ہے۔اس مسئلے کا ایک حل میری ناقص رائے میں یہ ہے کہ مقتدر و سرمایہ دار علمائے کرام میٹنگ کرکے ایک کمیٹی تشکیل دیں کہ علماء میں سے کتنے ایسے علمائے کرام ہیں جوکہ بہت دنوں سے تعلیمی و تربیتی خدمات مدرسوں میں سر انجام دیتے چلے آرہے ہیں اور وہ واقعی اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی بھرپور اشک سوئی کی جائے ، سروے کرکے للہ فی اللہ ان کی محدود کفالت کریں تاکہ ان کی بچیوں اور بیٹیوں کا نکاح بآسانی و بسہولت ہوسکے۔ اور ان کو کسی حد تک راحت و سکون میسر آسکے۔ جو حضرات گرامی میری اس ناقص و ناچیز رائے سے متفق ہوں گے ،خدارا اس پر عملی اقدام کے لیے اکابر علمائے کرام کو آمادہ کریں گے اور اپنے اپنے علاقے سے اس کام کی شروعات کریں گے۔
(رابطہ نمبر 9973106618)
[email protected]>