مشرف شمسی
راہول گاندھی کی ’’بھارت جوڑو یاترا‘‘تاحال جاری ہے۔کانگریس کو امید ہے کہ اس یاترا سے تنظیم مضبوط ہوگی اور راہول گاندھی کو بطور رہنما پورے ملک میں قبولیت حاصل ہوگی۔اس یاتراپر کہا تو یہ جا رہا تھا کہ یاترا میں سبی یاتریوں کے ہاتھ میں قومی ترنگا ہوگا، لیکن بیشتر یاتریوں کے ہاتھ میں کانگریس کا ہی جھنڈا نظر آ رہا ہے۔تاہم اس یاترا میں ایسے کچھ تنظیموں کے لوگ بھی نظر آ رہے ہیں جن کا تعلق کانگریس سے نہیں رہا تھا۔اس یاترا کا اب تک کا میڈیا منیجمنٹ اچھا رہا ہے ۔کانگریس کے میڈیا انچارج جے رام رمیش اب تک بھارت جوڑو یاترا کو ہیڈ لائن میں بنائے رکھنے میں کامیاب نظر آ رہے ہیں ۔نوئیڈا کی میڈیا جو حزب اختلاف کی خبروں کو اپنی ٹی وی چینلوں پر جگہ دینے سے گریز کرتے رہے ہیں،یاترا میں اُلجھائو پیدا کرنے کے غرض سے اِس یاترا کی سرخیوں میں رہی ہیں ۔یہ یاترا اِسی طرح اپنے اختتامی دن تک سرخی میں رہے گی، یہ کہنا مشکل ہے ۔کیونکہ کیا مخالف گروہ کی حکمت عملی بنانے والے چاہیں گے کہ کانگریس غریبی،مہنگائی ،بے روزگاری جیسے موضوعات کو عوامی بحث کا حصہ بنانے میں کامیاب ہو اور نوئیڈا کی ٹی وی چینلوں پر کانگریس پارٹی ،موجودہ حکمران پارٹی کے برابری پر نظر آنے لگے ۔بھارت جوڑو یاترا ایک لمبی یاترا ہے،لیکن اس یاترا کو کیرل میں انیس دنوں تک رکھنے کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا ہے ۔راہول گاندھی اور اس یاترا کے دوسرے رہنماؤں کا کہنا رہا ہے کہ یاترا کے ذریعے اس ملک میں موجود جمہوری سوچ اور بھارت کے آئین میں یقین رکھنے والے لوگوں، تنظیموںاور سیاسی جماعتوں کو متحدہوکر اس ملک کی موجودہ حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا کام کرنا ہے ۔ایسے میں کیرل جیسی چھوٹی سی ریاست میں بھارت جوڑو یاترا کا قیام انیس دنوں تک رکھنے کا کیا مقصد ہے؟کیرل جہاں لیفٹ کی حکومت ہے اور کانگریس حزب اختلاف میں ہے۔پچھلے لوک سبھا چناؤ میں کیرل کی بیس لوک سبھا سیٹوں میں کانگریس نے انیس سیٹیں حاصل کی تھیں ۔کیرل میں انیس دنوں تک رُکنے کا مطلب یہ نکالا جا رہا ہے کہ کیرل میں کانگریس اپنی پوزیشن مضبوط بنائے رکھنا چاہتی ہے، اس سے لیفٹ کے رہنماؤں میں ناراضگی نظر آ رہی ہے۔لیفٹ کے رہنما ٹی وی چینلوں پر کھل کر کانگریس پر حملہ کرتے نظر آ رہے ہیں،جبکہ بھارت جوڑو یاترا شروع کرنے میں پردے کے پیچھے لیفٹ کا ضرور ہاتھ ہو سکتاہے۔کیرل سے جب یہ یاترا باہر آئیگی، تب اس یاترا میں لیفٹ کی کہانی سمجھ میں آئے گی ۔مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی اپنی سینٹرل کمیٹی میں باضابطہ ریزولیوشن پاس کر چکی ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت سے چھٹکارا پانے اور اسے ہرانے کے لئے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ اتحاد بنانے پر زور دیا ہے۔ لیفٹ کا ماننا ہے کہ کانگریس جیسی کارپوریٹ پارٹی سے ہم بعد میں بھی نمٹ سکتے ہیں لیکن اس وقت مرکز میں جو حکومت ہے، اُسے ہٹانا ضروری ہے۔ لیفٹ کے بقول اگر موجودہ حکومت کو تبدیل نہیں کیا گیا تو آئین ختم ہو گا اور ملک تباہ ہو جائے گا۔چنانچہ جو راستہ یاترا کے لئے طے کیا گیا ہے، اُس پر لیفٹ کے رہنما ضرور سوال اٹھا رہے ہیں ۔’بھارت جوڑو یاترا‘ بی جے پی حکومت والی ریاست مدھیہ پردیش ، گجرات اور اُتر پردیش میں بہت کم وقت کے لئے رُکے گی۔جہاں تک میری جانکاری ہے گجرات کو یہ یاترا ٹچ بھی نہیں کر رہی ہے، جہاں اسی سال کے آخر میں ریاستی اسمبلی کا چناؤ ہورہے ہیں۔لیکن اس سب کے باوجود بھارت جوڑو یاترا کانگریس کا حوصلہ افزا قدم ہے۔ٹی وی چینلوں میں جن کانگریس رہنماؤں کو دکھایا نہیں جا رہا تھا، اب اس ٹی وی چینل نے اپنے اپنے نمائندوں کو اس بھارت جوڑو یاترا کے ساتھ چھوڑ رکھا ہے اور وہ لوگ اس یاترا کی لائیو رپورٹنگ دکھانے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔حالانکہ آغاز سے تاحال تک ،جس طرح سے یہ یاترا کامیاب ہوئی ہے، اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کا کہیں اس یاترا کو اڈاني ،امبانی اور بابا رام دیو کو چھوڑ کر دوسرے کارپوریٹ کا ساتھ کانگریس کو تو نہیں مل رہا ہے ۔راہول گاندھی اور سونیا گاندھی کو جب ای ڈی نے بلایا اور اسکے بعد کانگریس جس طرح سے سڑک اور ٹی وی پر حملہ آور نظر آ رہی ہے ،اس سے سیکنڈ لائن کے کارپوریٹ کو لگتا ہے کہ کانگریس ہی ،بی جے پی کو مرکز سےباہر کر سکتی ہے ۔سیکنڈ لائن کے کارپوریٹ کو مودی سرکار میں کچھ نہیں مل رہا ہے، اس لئےوہ لوگ سرکار سے ناراض ہیں۔سیاسی مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ بنا کارپوریٹ کی مدد سے راہل گاندھی اتنی بڑی بھارت جوڑو یاترا نکال نہیں سکتے ہیں ۔سیکنڈ لائن کے کارپوریٹ نے اگر راہول گاندھی کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ہے تو 2024 کی صورت حال موجودہ حکومت کے لئے مختلف ہوسکتی ہے۔
(رابطہ۔ 9322674787) <[email protected]>
راہل کے سَر پر کارپوریٹ کا ہاتھ ہے ؟