لندن //دنیا بھر سے 500 سے زائد سربراہان مملکت آنجہانی ملکہ الزبتھ دوئم کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ملکہ برطانیہ کے تابوت کے آخری دیدار کے لیے لندن کی سڑکوں پر لاکھوں افراد کی قطاریں لگی ہوئی تھیں جبکہ ویسٹ منسٹر ایبے کے اطراف سڑکوں کو بند کردیا گیا ۔دنیا بھر سے سربراہان مملکت ملکہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے لندن میں موجودرہے ان میں امریکی صدر جو بائیڈن، چین کے نائب صدر وینگ کیشان، کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو، جاپان کے بادشاہ ناروہیٹو سے لے کر جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا، کوک آئی لینڈ کے وزیر اعظم مارک براؤن ،بھارت کی صدراور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت متعدد اہم رہنما شامل ہیں۔البتہ چند اہم سربراہان مملکت جیسے چین کے صدر شی جن پنگ، عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت چند اہم رہنما دعوت نامہ ملنے کے باوجود تقریب میں شرکت نہیں کر رہے جبکہ وینزویلا، شام اور افغانستان کو دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا کیونکہ ان ممالک کے برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔امریکی صدر جو بائیڈن بھی برطانیہ میں سب سے طویل حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لندن پہنچے، انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ کے لوگ خوش قسمت ہیں کہ ان کو 70 سال حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ کا ساتھ ملا‘۔ملکہ کے جنازے کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور آخری رسومات کو سرکاری درجہ دیا گیا ہے۔ ملکہ کی آخری رسومات کو ٹی وی چینلز پر بھی براہ راست دکھایا کیا، جہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ پہلی بار برطانیہ کی ملکہ کی آخری رسومات ٹی وی پر دیکھی۔ملکہ کا تابوت ویسٹ منسٹر ہال سے ایک جلوس کی صورت میں روانہ ہوا اور مقامی وقت کے مطابق دن 11 بجے دعائیہ تقریب منعقد ہوئی۔برطانیہ کے نئے بادشاہ اور آنجہانی ملکہ الزبتھ کے بیٹے شاہ چارلس کا کہنا تھا کہ ’والدہ کی آخری رسومات کے لمحات میں شرکت کے لیے آئے لاکھوں لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس غم کے وقت میں ہمارا ساتھ دیا۔‘یاد رہے ملکہ الزبتھ کا انتقال 8 ستمبر کو اسکاٹ لینڈ میں واقع بالمورل میں ہوا تھا۔مؤرخ انتھونی سیلڈن نے رائٹرز کو بتایا کہ ’ملکہ الزبتھ دوم دنیا کی سب سے مشہور شخصیت، تاریخ میں سب سے زیادہ تصاویر کھنچوانے والی، سب سے زیادہ پہچانی جانے والی شخصیت تھیں‘۔ٹرانسپورٹ کے سربراہان کا کہنا ہے کہ جنازے کے لیے وسطی لندن میں 10 لاکھ افراد کی آمد متوقع ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں سب سے بڑی سیکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔اس اہم موقع پر ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے فوجی دستوں نے پولیس کے ساتھ سیکیورٹی سنبھال لی ہے۔ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے آنے والے عالمی رہنمائوں کے اعزاز میں بادشاہ چارلس کی جانب سے بکنگھم پیلس میں استقبالیہ دیا گیا۔امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ جل بائیڈن نے بھی استقبالیہ میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو ، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور عرب ملکوں سمیت دنیا بھر سے آ ئے سربراہان مملکت نے شرکت کی اور ملکہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔آخری رسومات سے قبل شاہی خاندان نے ملکہ الزبتھ کی نئی تصویر جاری کردی دوسری جانب ملکہ الزبتھ کی رسومات برطانیہ بھر کے 125 سنیما گھروں سمیت عوامی مقامات پر دکھائی گئی۔ برطانوی حکومت کے مطابق آنجہانی ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات پارکس، چوک، گرجا گھروں میں بھی دیکھنے کے لیے اسکرینز لگائی گئی۔