مہتاؔب منیر
نام کتاب : اندر کی باتیں
مصنف : ڈاکٹر مشتاق احمد وانی
صفحات؛ 218
قیمت؛ 350
ڈکٹر مشتاق احمد وانی علمی و ادبی حلقے میں تعارف و تعریف کے محتاج نہیں۔ وہ اپنی تخلیقی و تحقیقی صلاحیت کی بنا پر اس صدی کے اہم ترین محقق، نقاد اور مبصر ہونے کے ساتھ ساتھ مقبول ترین افسانہ نگار ہیں۔ اب تک ان کے زرخیز قلم سے کئی نثری کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ “اندر کی باتیں” ان کا تیسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ جس میں کل بارہ افسانے شامل ہیں، جن میں” جسم خور کیڑا”، “سرگوشی”، “باغی”، “چھپا سانپ”، ” چہرہ چھپائے لوگ”، “آنکھوں کی عصمت دری”، “اندر کی باتیں” کتاب میں شامل چند افسانوں کے عنوانات ہیں اور سارے افسانے عصری مسائل و معاملات پر لکھے گئے ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب” اندر کی باتیں” میں ڈاکٹر مشتاق احمد وانی نے پہلا افسانہ “جسم خور کیڑا” کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ جس میں انہوں نے دومتوازی کہانیوں ایک غلام عباس اور نوری جو نہایت ہی خوبصورت ہیں اور دوسری شہر کے امیر ترین آدمی مدن گوپال اور ان کی بیوی کملاوتی جو گزر چکی ہے کی کہانی کے ذریعے فلسفہ حیات کو نہایت سنجیدہ، خوبصورت اور ہمدردانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ اس افسانے میں شامل کردار مدن گوپال کے تین بیٹے ہوتے ہیں، بڑے والے دو بیٹے شادی کے بعد باپ سے الگ ہوتے ہیں اور تیسرا بیٹا شادی کے تین سال بعد محض اس بات پر اپنے والد کو تنہا چھوڑتا ہے کہ بڑھاپے میں باپ کی کھانسی کی وجہ سے ان کے بچوں کی نیند میں خلل پڑھتا ہے۔ مدن گوپال ایک دن بے سروسامانی کی حالت میں غلام عباس کو اپنی دکھ بھری کہانی سناتے ہوئے کہتا ہے، “بیٹا میری کروڑوں روپے کی پراپرٹی پر جب میرے بیٹے لڑنے جھگڑنے لگے تو میں نے سب کچھ ان میں تقسیم کردیا۔ انہوں نے میری ہر چیز کو سنبھال لیا لیکن ہم بوڑھوں کو انہوں نے نہیں سنبھالا! وہ ہمیں تقسیم نہیں کرسکے”۔
“سرگوشی” اس مجموعے میں شامل دوسرا افسانہ ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ‘شک رشتوں کو کھا جاتا ہے اور محبت دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ افسانے میں دو محبت کرنے والے لڑکا اور لڑکی پارک میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی باتیں کررہے ہوتے ہیں کہ گوپال نامی شرارتی اور مفسد شخص ان کو حسد کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور عاشق مزاج نوجوان سے کہتا ہے کہ بھائی صاحب میں آپ سے ایک ضروری بات کہنا چاہتا ہوں۔ گوپال نے اس خوبصورت نوجوان کو چند گز کے فاصلے پر ایک طرف لیا اور اس کے کان میں آہستہ سے ہنستے ہوئےکہا” اچھا اب نہیں کہوں گا” بس اتنی سی بات کہہ کے گوپال چلا گیا اور جب عاشق مزاج لڑکا اپنی معشوقہ کے پاس آیا تو لڑکی نے پوچھا یہ لڑکا آپ سے کیا کہہ رہا تھا، لڑکے نے جواب دیا کچھ نہیں، یہ کوئی پاگل لگتا ہے۔ لیکن لڑکی کا لہجہ تلخ ہوجاتا ہے کہ آخر آپ مجھ سے کیا اور کیوں چھپا رہے ہو۔۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کی تذلیل کرتے ہوئے خاندانوں تک پہنچ جاتے ہیں اور لڑکی اپنے پرس سے عاشق کا فوٹو نکال کر اس کے سامنے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے اس کی طرف پھینک دیتی ہے اور اسطرح دو محبت کرنے والے ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔ افسانہ”باغی”میں ایک خاص سماجی مسئلہ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ ایک تعلیم یافتہ جیون داس برہمن کی کہانی ہے جو بچپن ہی سے آزاد خیال اور باغیانہ طبیعت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ کرم دھرم اور ذات پات پہ بالکل یقین نہیں رکھتا اور برہمن ہونے کے باوجود ایک نیچ ذات کی حسین و جمیل لڑکی کومل داسی سے خاندانی و سماجی بندھنوں، رسموں رواجوں اور عقیدوں کی پرواہ کئے بغیر کورٹ میرج کرکے ترقی پسند خیالات کی اشاعت کرنا چاہتا ہے۔ لیکن جیون داس کے والدین اپنے بیٹے کے اس انوکھے کارنامے پر بہت دکھی ہوتے ہیں اور انہیں گھر سے دور چلے جانے کو کہتے ہیں۔ “فتنہ” اس مجموعے کا ایک اہم افسانہ ہے جس میں موبائل فون کے غلط استعمال سے انسانیت کی اخلاقی قدریں ختم ہوتی ہوئی دکھائی گئی ہیں۔ افسانے میں جمعہ کے دن باجماعت نماز پڑھاتے وقت جب امام صاحب کے موبائل پر ایک فلمی گانا بجنے لگتا ہے تو مقتدیوں کے دو گروہوں کے درمیان ہاتھا پائی ہونے کی وجہ سے مسجد کے اندر ہنگامہ بپا ہوجاتا ہے اور امام صاحب کی تین برسوں کی محنت سے بنی بنائی عزت خاک میں مل جاتی ہے۔
“پانچ سال کا بن باس”زیر تبصرہ کتاب میں شامل سب سے طویل افسانہ ہے۔ اس افسانے میں مصنف نے جہاں مجموعی طور پر ملک میں اعلٰی تعلیم یافتہ بے روزگاروں کے مصائب ومشکلات کو موضوع بنایا ہے وہیں ایک سماج کی ذہین بیٹی کے ذریعے ہمیں اس بات سے بھی خبردار کرتے ہیں کہ کس طرح ایک تعلیم یافتہ باکردار عورت گھر سے دور رہ کر بھی ایمانداری سے اپنا فریضہ انجام دے سکتی ہے۔ ذلفاں بی بی عام تعلیمی تحریک کے تحت مسلسل پانچ سال تک ایک سرکاری پرائمری اسکول کے بچوں کو پڑھانے جاتی ہے جہاں انہیں بدمعاشوں اور ان پڑھ لوگوں سے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ سکول کی ترقی اور بچوں کی تعلیم میں بڑی دلچسپی لیتی ہے اور جب وہ اسکول سے رخصت ہوتی ہے تو گاؤں کے تمام لوگوں نے انہیں پھول مالائیں پہنا کر رخصت کیا۔ “ایک اہم سوال”مجموعے میں شامل ایک اور افسانہ ہے جس میں مذہب کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کہ جب انسان حرام کمائی سے دولت جمع کرتا ہے اور ﷲ کے عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے تو عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے توبہ کرنے کے بجائے وہ بے شرمی سے اس فعل میں خدا ہی کو درمیان میں لاتا ہے کہ جو ہوتا ہے ﷲ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اُس سے اِس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ اﷲ کی طرف سے پھٹکار کی وجہ دراصل ہمارے ان گنت گناہ ہیں۔ “چُھپا سانپ”جنسی مسئلے پر مبنی کہانی ہے جس میں ایک شہوت پرست بوڑھا پنڈت رتن شاستری جنسی ہوس کی آگ میں اتنا اندھا ہوچکا ہوتا ہے کہ اپنی جنسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اپنی بہو میناکشی کو نشانہ بناتا ہے۔ بہو جو ایک پاک باز عورت ہوتی ہے، یہ صدمہ برداشت نہیں کرپاتی اور خودکشی کرتی ہے اور مرنے کے بعد بہو کے پاس سے جو خط ملتا ہے تو اس میں رتن شاستری کے کالے کرتوتوں کے بارے میں سب کچھ لکھا ہوتا ہے۔ “چہرہ چھپائے لوگ” دور حاضر کے نہایت ہی پیچیدہ مسئلے پر لکھا گیا افسانہ ہے۔ جس میں یہ بتانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کس طرح بے حیائی اور جنسی بے راہ روی کے دلدل میں پھنس رہے ہیں اور گھر سے قدم نکالتے ہی گھر کی اخلاقی تعلیم اور آدابِ معاشرت کو طاق پر رکھ کر اخلاق سوز اور بے غیرتی کے ماحول میں رنگ جاتے ہیں۔ اس کہانی میں کالج کی تین لڑکیاں پونم، ہرپریت کور اور فوزیہ بانو اپنے چہروں کو چھپاکر سڑک چھاپ عاشقوں کے ساتھ موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر شہر کی آبادی سے دور گھنے جنگل کے اندھیرے میں روپوش ہوکر جنس مخالف کی قربتوں کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ “آنکھوں کی عصمت دری” میں معاشرے میں بڑھتے ہوئے بےحیائی کے ناسور کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کہانی میں یہ دکھانے کی بہترین کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح ایک پاک دامن انسان بھی گندے معاشرے میں رہ کر اپنی پاکدامنی کو نہ چاہتے ہوئے بھی ناپاک کرجاتا ہے۔ کہانی کچھ اس طرح ہے کہ پنڈت میگھ ناتھ جو عہد حاضر کی جنسی شدت اور بے حیائی سے نہ صرف بے زار نظر آتے ہیں بلکہ خود کو ایک عرصہ تک سنبھالے بھی رہتے ہیں، پرائی عورت پر نظر ڈالنا مہاپاپ سمجھتے ہیں۔ لیکن جس دفتر میں وہ کام کررہے ہوتے ہیں وہاں کا ماحول بالکل اس کے مزاج کے مخالف ہوتا ہے۔ وہاں کام کررہے باقی ملازم دن بھر اخبار میں عریاں عورتوں کی تصویریں اور موبائل پر نہ جانے کیا کیا بے حیائی کی چیزیں دیکھتے رہتے ہیں۔ پنڈت میگھ ناتھ بھی ایک دن دفتر سے نکلتے وقت گاندھی میموریل پارک اور قومی وراثت ہاؤس گھومنے جاتے ہیں اور بعد میں سنیماہال میں فلم دیکھنے چلے جاتے ہیں، جہاں فلم کے پہلے منظر میں ایک شادی شدہ عورت کو ایک غیر شادی شدہ نوجوان سے محبت کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے، دوسرے منظر میں ایک تالاب میں ان دونوں کو بالکل عریاں حالت میں دکھایا اور پھر تیسرا منظر ناقابل بیان ہے ۔۔۔۔پورے ڈیڑھ گھنٹے فلم دیکھنے کے بعد جب وہ ہال سے باہر آتے ہیں تو انتہائی مایوس ہوتے ہیں کیونکہ ان کی آنکھوں نے آج جو کچھ دیکھا وہ انہوں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا اور وہ اپنی قیمتی چیز بھی لُٹا چکے ہوتے ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ان کی آنکھوں نے بدکاری کی ہے۔ “بابا کو کچھ ہوگیا ہے” ایک مختصر افسانہ ہے جس میں ڈھونگی باباؤں اور نام نہاد سادھوؤں کا پردہ فاش کیا گیا ہے کہ کس طرح یہ لوگ مذہبی ہونے کا جھوٹا لباس پہن کر لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ اس کہانی میں بابا بے سدھ جن کی عمر تقریباً ساٹھ سال ہے، ریلوےاسٹیشن کے قریب اوندھے منہ پڑا ہوتا ہے۔ جب لوگ اسے اٹھا کر افسوس کررہے ہوتے ہیں کہ بابا کو کسی نے مارا ہے تو اسی دوران ناگپال نامی ایک شرابی بابا کو دیکھ کر ہنستے ہوئے کہتا ہے کہ چھوڑو اس بابا کو اس نے فروٹی پی ہے! “اندر اور باہر کا منظر” ایک ایسا افسانہ ہے جس میں سیواناتھ کی مٹھائیوں کی دکان’’دین دھرم سویٹ شاپ‘‘ کو موضوع بناکر ان مشہور دکانداروں اور تاجروں کی شیطانی اور بے ایمانی کو بے پردہ کیا گیا ہے جن کی چیزیں بظاہر جتنی اصلی، عمدہ اور نفیس معلوم ہوتی ہیں اتنی ہی ان میں ملاوٹ اور گندگی کے جراثیم ہوتے ہیں۔
“اندر کی باتیں” اس مجموعے کا آخری اور اہم افسانہ ہے۔ اس افسانے کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ افسانہ اصل واقعہ پر مبنی ہے۔ افسانےمیں جہاں دورِ حاضر کے تعلیمی اداروں میں جاری بدعنوانیوں اور نا انصافیوں کی کہانی بیان کی گئی ہے وہیں یہ افسانہ ایک قابل شخص ‘کمل کانت کی ناقدری اور استحصال کی دلدوذ داستان کو پیش کرتا ہے۔ یہ کہانی صرف کمل کانت کے ساتھ کی گئی ناانصافی کا المیہ نہیں بلکہ ان جیسے کئی باصلاحیت، ذہین اور قابل لوگوں کے ساتھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ ان کے پاس رشوت دینے کے لیے لاکھوں روپے نہیں ہوتے بلکہ اپنی ذہانت کی بنا پر سرکاری نوکری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مصنف اندر کی باتیں میں ایک جگہ لکھتے ہیں؛
‘جب دکاندار اپنے گاہک کو ماچس کی ڈبیہ یا صابن کی ٹکیہ مفت میں نہیں یتا ہے تو تجھے کیا اتنی بڑی اسسٹنٹ پروفیسری محض تیری ذہانت اور قابلیت کی بنیاد پر مل جاتی، تجھےپتا ہونا چاہیے دولاکھ روپے سے یہ سودا شروع ہوا تھا اور پانچ لاکھ پہ ختم ہوا ہے۔
متذکرہ کہانی تعلیمی مافیا پر ایک گہرا طنز ہے۔ درج بالا اقتباس کرپشن کے کھیل کو پوری طرح بے نقاب کرکے قاری کے ذہن میں ایک سلگتا ہوا سوال پیدا کردیتا ہے جس نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کے یہاں کہانی لکھنے کا ایک اچھا سلیقہ موجود ہے۔ ان کے افسانوں میں تسلسل اور جاذبیت اس طرح برقرار رہتی ہے کہ قاری ان کی تحریر کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ زیر تبصرہ مجموعے میں شامل افسانوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے جنسی استحصال، ضعیف اعتقادی، مذہبی دکھاوا، رشوت، معاشرے کی بے بسی اور آج کے نظام کی بے حسی اور دیگر سماجی برائیوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ دوران مطالعہ کچھ الفاظ یا جملے ایسے مل جاتے ہیں جن میں جنس زدگی کا احساس ہوتا ہے لیکن جب ہم ان کی گہرائی میں جاتے ہیں تو وہ واقعی حقیقتِ حال اور تقاضائے کردار نظر آتے ہیں۔ کتاب کے ٹائٹل سے لے کر طباعت تک ساری چیزیں عمدہ اور جازبِ نظر ہیں البتہ مجموعے میں شامل ستائیس مختلف مضامین جو کہ مجموعے کے متعلق تو ہیں لیکن ان مضامین کا افسانوی مجموعے میں شامل کرنے سے کتاب کی صفحات غیر ضروری طور پر بڑھا دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ زیر تبصرہ مجموعے میں دوسو گیارہ (٢١١) صفحات پر صرف مختلف مضامین ہیں اور صرف نوے(٩٠) صفات پر بارہ افسانے شامل ہیں۔ کتاب کی قیمت معقول نہیں اور قیمت کے حوالے سے ایک لغزش یہ ہے کہ کتاب کی اصل قیمت کی جگہ پر ترمیم کرکے ٹکٹ پر تین سو پچاس روپے لکھ کر چپکانا مبصر کی نظر میں درست عمل نہیں ہے۔ بلاشبہ یہ تصنیف اردو ادبی سرمائے میں ایک عمدہ اضافہ ہے اور بلا مبالغہ نووارد افسانہ نگاروں کے لیے ڈاکٹر مشتاق احمد وانی مشعل راہ ہیں۔ قوی امید ہے کہ کتاب کی علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی کی جائے گی۔
���
لولاب کپوارہ، کشمیر
موبائل نمبر؛ 9682350870