ماسکو//یو این آئی// روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ان کے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون نے یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹس میں سے ایک زاپوری ژیا نیوکلئر پاور پلانٹ (این پی پی ) کے تحفظ کے بارے میں بذریعہ ٹیلیفون بات چیت کی۔ یہ پاور پلانٹ اس وقت روسی فوج کے کنٹرول میں ہے ۔روسی صدارتی دفتر کریملن نے کل جاری کردہ ایک بیان میں یہ اطلاع دی۔بیان کے مطابق مسٹر پوتن نے بتایا کہ ان کی افواج یوکرینی فوج کی فائرنگ کو روکنے کے لیے این پی پی تنصیبات پر باقاعدہ حفاظتی نگرانی کر رہی ہیں، جس میں تابکار فضلہ کا ذخیرہ بھی شامل ہے ۔انہوں نے مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کی فوج کو ہتھیاروں کی فراہمی کو ڈونباس کے شہریوں کے تحفظ کے لیے تشویشناک قرار دیا۔انھوں نے روسی ماہرین کی جانب سے پلانٹ کی فزیکل سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے کئے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایٹمی بجلی گھر کے قریب گولہ باری کی وجہ سے اس کی حفاظت کو لے کر بین الاقوامی دنیا میں تشویش پائی جاتی ہے ۔