غازی سہیل خان
کشمیر میں ایک بات مشہور ہے کہ یہاں لوگ دو چیزوں پر اپنی پوری جمع پونجی خرچ کرتے ہیں ،ایک مکا ن بنانے پر اور دوسرا شادی پر۔ بلکہ ان دو چیزوں پر اسراف کے لئے سود پر بینکوں سے قرضہ لینے اور اپنی زمین و جائداد کوڑی کے دام پر فروخت کرنے میں بھی کو ئی عار محسوس نہیں کرتے ۔گھر اور شادی، زندگی کی دو اہم ضرورتیں ضرورہیںلیکن ان پر ہمارے معاشرہ میں لاکھوں اور کروڑوں روپے غیر ضروری طریقے سے پھونکے جاتے ہیں ۔گویایہ ضرورت ہمارا مقصد ِ وجود بن گئی ہے، جس چیز کو ضرورت کے تحت ہی رہنا چاہئےتھا، وہ چیز اب ہماری زندگی کا واحد مقصد بلکہ نصب العین بن گیا ہے ۔اس مقصد کے لئے کیا کچھ نہ کرنا پڑے،ہم وہ کرگذرتے ہیں۔حق و ناحق ،حلال و حرام ،جائز و ناجائز ،سچ و جھوٹ میں کوئی امتیاز نہیں رکھتے ہیں۔دینی ،دُنیوی ،اخلاقی اور معاشرتی اقدار کی دھجیاں اُڑاتے پھرتے رہتےہیں اور پھر بھی اپنے آپ کو اسلام کے سچے پیروکار ،پیغمبر اسلامؐ کے اُمتّی اورعاشقِ رسولؐ کہتے ہیں۔گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک افسوس ناک بلکہ میری رائے کے مطابق شرمناک ویڈیو وائرل ہو ئی، جس کو سوشل میڈیا صارفین نے اپنی شدید تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔مذکورہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مہمانوں کےکھانے کے لئے وازوان کی مختلف ضیافتوں سے بھری ہر ترامی( چار آدمیوں کے لئےکھانے کی پلیٹ)کا جب سَرپوش(ڈکن) اٹھایا جاتاہے تو ترامی پر سجائی گئی ضیافتوں کو ڈھانپنے کے لئے ،گوشت اور دیگرچیزوں سے ہی تیار کی گئی ایک بڑی سی چپاتی یا’’ لواس‘‘ رکھی گئی تھی۔ جس کو دیکھتے ہوئے باراتی بھی پریشان ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
کچھ کہہ رہے ہیںکہ یہ سرپوش کے نیچے ترامی پر جو بڑے سائز کاغذ رکھاجاتا ہے ،اب اُس کی جگہ اس نئی لواس نُماڈِش نےلے لی ہے ۔جس میں آدھ کلو سے زائد گوشت استعمال کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ پُرانے زمانے میں میدہ سے بنی ’’لواس ‘‘کو نئی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔گویا جہاں اب وازوان میں بیس سے زائد ڈِشز ہوا کرتی ہیں وہاں اس میں ایک اور ڈِش کا اضافہ ہوگیا ہے۔لیکن اب اس نئی ڈِش کے وائرل ہونے پر سوشل میڈیا صارفین اسے نئی بدعت اور اسراف قرار دے کر شدید تنقید بھی کر ر ہے ہیں ۔اس سلسلے میں جب ہم اسلام سے راہنمائی لیتے ہیں تو ہمیں اس طرح کے دکھاوے اور فضول خرچی کی قطعاً اجازت نہیں ملتی ہے ۔دکھاوے اور ریا کے متعلق قرآن کی سورہ النساء کی آیت ۳۸ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’جو لوگ اپنا مال لوگوں کے دکھاوئے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو ،وہ بدترین ساتھی ہے ‘‘۔صاحب معارف القرآن مفتی محمد شفعی ؒاس آیت کی تشریح میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح حقوق واجبہ میں کوتاہی کرنا یابخل کرنا معیوب ہے، اسی طرح لوگوں کو دِکھانے کے لئے اخراجات کا بے مقصد مصارف بھی بہت بڑی بُرائی ہے۔وہ لوگ جو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کے دکھانے کو نیکی کرتے ہیں ،ان کا وہ عمل عنداللہ مقبول نہیں ہوتا اور حدیث میں اِسے شرک قرارا دیا گیا ہے ۔وہیں صاحب تدبر القرآن مولانا امین احسن اصلاحی ؒ اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’دکھاوے کا انفاق کاروباری خرچ ہے :یہ بھی اسی سلسلے کی بات ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ۔یعنی یہ اگر خرچ کرتے ہیں تو محض دِکھاوے کے لئے ۔دِکھاوے کا خرچ ایک کاروباری خرچ ہوتا ہے۔اول تو اس کا فائدہ شاذ و نادر ہی اُن لوگوں کو پہنچتا ہے جو اصلی حقدار ہوتے ہیں،اس لئے کہ اصلی حقداروں کے معاملے میں نمائش اور دکھاوے کا کچھ زیادہ موقع نہیں ہوتا ۔پھر منافق کی نماز کی طرح نمائش کے انفاق کا بھی کوئی تعلق اللہ سے نہیں ہوتا ۔اس طرح کے لوگ خدا اور آخرت پر ایمان کے مدعی ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں نہ اُن کا ایمان خدا پر ہوتا ہے نہ آخرت پر ۔اور انفاق اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف وہی معتبر ہوتا ہے جو اللہ اورآخرت پر ایمان کے ساتھ ہو ۔
وہی انفاق اس دنیا کے لئے بھی باعثِ خیر و برکت ہے اور وہی آخرت میں بھی موجب ِخیر و برکت ہوگا ۔جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان سے خالی ہوتے ہیں ،اُن کا ساتھی شیطان بن جاتا ہے ، جس کا ساتھی شیطان بن جائے ،اُس کے لئے خیر و برکت کا کوئی کام کرنے کا امکان باقی نہیں رہ جاتا ۔‘‘ قرآن ہمیں اس طرح کے شیطانی کام کے متعلق راہنمائی کرتا ہے ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ جن کاموں میں اسراف ہوتا ہے، اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ میں سماج میں بڑوں میں شمار کیا جائوں، مجھے لوگ بڑا کہیں بلکہ سب سے زیادہ پیسے والا سمجھے ،سب سے آگے چلا جائوںتاکہ لوگوں پر میرا رعب اور دبدبہ رہے ۔اس طرح کی ریا کاری ان شیطانی اعمال کی مدد سے ہمارے سماج میں انجام دی جاتی ہے ۔اس ریاکاری اور اسراف کے انتہائی مضر اثرات ہمارے سماج کے غریب اور نادار طبقے پر پڑتے ہیں۔جس کے نتیجے میں ہمارے سماج میںبیشتر نادار بہنیں ہاتھوں پر مہندی کے لئے ترس رہی ہیں ۔ہمارے معاشرے میں آج ایسی بہت ساری خواتین ہیں، جن کی شادیوں کی عمریں ڈھل گئی ہیں ،اِسی اسراف کی وجہ سے وہ شادی نہیں کر پاتی ہیں ۔اس سارے منظر نامے کے متعلق سماجی رابطہ کی ویب سائٹس پر اس اسراف کو لیکر خاصی تنقید کی گئی۔ چند صارفین کا کچھ یوں کہنا تھا ۔
سماجی کارکن طاہر پیرزادہ نے ایک ٹوئٹ میں اس ویڈیو کو شئیرکرتے ہوئے لکھا،’’ یہ کیسا اضافہ ہے وازوان میں ؟آپ غیر مراعات یافتہ لوگوں کیلئے زندگی کو مزید مشکل کیوں بنا رہے ہیں، برائے مہربانی اس طرح کے عمل سے پرہیز کریں ‘‘۔اسراف کو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کرتے ہیں ۔ ایک اور صارف طاہر محی الدین لکھتے ہیں ،’’یہ شادیوںمیں رکاوٹ کی وجہ ہو سکتی ہے۔ پنتیس ہزار سے زائدکشمیری لڑکیاں شادی کی منتظر ہیں ‘‘۔ڈاکٹر طارق ترمبو لکھتے ہیں،’’ ایسا پہلے نہیں دیکھا آ پ کس کو متاثر کرنا چاہتے ہیں ۔‘‘ اسکے علاوہ کچھ صارفین کہتے ہیں کہ عام لوگوں کوچاہیے تھا کہ اس طرح سے شادی کرنے والوں کے خلاف عوامی سطح پر ایک مہم چلائی جائے تاکہ ایسے خودغرض لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو۔
وادی کشمیر میں انہیں بے جا خرافات ، بدعات اور رسومات کی وجہ ایک بڑی تعداد ایسی خواتین کی موجود ہے جو شادی کی عمر پار کرنے کے باوجود شادی نہیں کر پا رہی ہیں ۔ایسی رسومات جو کشمیر کے سماج میں پہلے موجود نہیں تھیں ،اب ان کو عملانے کی وجہ سے وادی میں ایسی غیر شادی شدہ خواتین کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔گزشتہ سال تحریک فلاح المسلمین نامی تنظیم نے اعدادشمار پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ایسی غیر شاددی شدہ خواتین کی تعداد پچاس ہزارتک پہنچ گئی ہے، جن میں سے دس ہزار سے زائدکا تعلق سرینگر سے ہے ۔جبکہ شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت کی جانب سے رواں سال چونکا دینے والے اعدادو شمارشائع ہوچکے ہیں ۔ جن کے مطابق ۲۰۱۱میں جموں کشمیرمیں۱۵ سے ۲۹ سال کے درمیان،۲۵ عشاریہ تین فیصد نوجوان لڑکیاں اور لڑکے غیرشادی شدہ تھے ۔ جن کی تعداد ۲۰۱۹ ء میں ۲۹فیصد تک پہنچ گئی ۔ نیشنل یوتھ پالیسی کے مطابق ۱۵ سے ۲۹ سال کے درمیان افراد کو یوتھ(نوجوان) تصور کیاجاتا ہے ۔ ۲۰۱۹ میں اعدادوشمار کے مطابق جموں کشمیر میں تیس فیصد مرداور ۲۸فیصد خواتین اس عمر کے درمیان غیر شادی شدہ پائے گئے ہیں ۔جبکہ اسکے مقابلے میں قومی سطح ۲۵ فیصدی ہی ہے۔ جموں وکشمیر میں اس عمر میں غیر شادی شدہ افراد کی تعداد پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے ۔جس کی وجوہات دن بہ دن بڑھتی ہوئی نِت نئی بدعات،بے تحاشا اسراف ،جہیز کی لعنت اور دِکھاوے کا عالَم ہے ،جس کی وجہ سے وادی میں ۵۰ ہزار سے زائد شادی کی عمریں پار کر گئی خواتین اپنے ہاتھ پیلے کرنے کی منتظر ہیں ۔اس سارے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے سماج کے حساس طبقےاور مذہنی پیشوائوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی قبیح حرکات کا فی الفور نوٹس لیںاوراس کے خلاف سختی سے مقابلہ کریں ۔ ایسے لوگ جو شادیوں میں اسراف اور فضول خرچی کر کے غریب عوام کی زندگیوں کو جہنم بنا رہے ہیں، کے خلاف ایک منظم تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے حکومتی سطح پر کوئی روک یا لایحہ عمل ابھی ترتیب نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اُمید نظر آ رہی ہے ۔کبھی سُننے میں آیا تھا کہ اس کے متعلق حکومت نے کچھ اقدامات اُٹھائے ہیں تاکہ شادیوں میںبے جا اسراف اور فضول خرچی پر قدغن ہو۔ لیکن عملی طور پر آج تک ایسا کچھ کشمیری معاشرے میں کہیں بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ سوشل میڈیا کی مدد سے اِس لعنت کے خلاف ایک منظم تحریک شروع کریں اور وہ نمونے کے طور اپنے ہی گھروں سے ایسےبدعات و شیطانی کام کو روکنے کی پہل کریں ،پھر سماج میں بھی اس طرح کی بدعات اور خرافات کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی کوشش کریں تاکہ کوئی گھر اُجاڑ نہ رہےاور ہر کسی گھر کی بہن اور بیٹی کے ہاتھ پیلے ہونے کے لئے نہ ترستے رہیں۔
(رابطہ۔ 9906664012)
[email protected]>