واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے چین کے ساتھ سیکیورٹی معاہدہ کرنے والے بحرالکاہل جزیرے کے 12 ممالک کا اجلاس واشنگٹن میں بلالیا۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر جو بائیڈن 28-29 ستمبر کو واشنگٹن میں ایک اجلاس کی میزبانی کریں گے جس میں پیسفک جزیرے کے ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سربراہی اجلاس میں موسمیاتی تبدیلیوں، وبائی امراض، اقتصادی بحالی، بحری سلامتی، ماحولیاتی تحفظ سمیت بحرالکاہل کو تجارتی قافلوں کے لیے آزاد اور محفوظ بنانے جیسے اہم امور پر تعاون کو وسیع اور مضبوط کرنے کے لیے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔خیال رہے کہ امریکی صدر نے پیسیفک جزیرے کے ان ممالک کا اجلاس اس وقت بلایا ہے جب ان ممالک نے رواں برس اپریل میں چین کے ساتھ سیکیورٹی معاہد کیا ہے اور امریکا کو خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر شدید تشویش ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ جن ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا گیا ہے کہ ان میں سولومن جزائر، مائیکرونیشیا، کریباتی، پاپوا نیو گنی، وانواتو، ساموا، ٹونگا، اور فجی کی وفاقی ریاستوں کے ساتھ ساتھ مارشل جزائر، ناورو، پلاؤ اور تووالو بھی شامل ہیں۔وائٹ ہاؤس نے ابھی یہ تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ مدعو کیے گئے ممالک میں سے کتنوں نے دعوت قبول کرکے اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ چین کی جانب سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔چین اور تائیوان کے تنازعے میں اب امریکہ کے کردار میں نئی صورتحال پیدا کردی ہے _معاملہ امریکہ اور چین کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کا پیدا ہو گیا ہے _ امریکہ کا یوں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چین کو سخت ناگوار گزرا ہے اب جبکہ امریکہ نے طالبان کو ہتھیار مہیا کرانے کا اعلان کیا ہے کہ چین نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بڑے صاف لفظوں میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے -امریکی وزارت خارجہ نے تائیوان کو ممکنہ طور پر 1.1 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ چین نے اس امریکی اعلان کے بعد جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔
ان ہتھیاروں میں 60 بحری جہاز شکن میزائل اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے 100 میزائل شامل ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تائیوان کے اردگرد کے علاقے میں چین کی جارحانہ فوجی مشقوں کے پیش نظر جمعے کو تائیوان کو اسلحے کی فروخت کے پیکج کا اعلان کیا۔اس سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تھا۔ ان کا یہ دورہ حالیہ سالوں میں کسی اعلیٰ امریکی عہدے دار کا پہلا دورہ تھا۔ پینٹاگون کی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے ) کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو فروخت کیے جانے والے اسلحے میں سائیڈ وائینڈر میزائل بھی شامل ہیں، جو فضا سے فضا اور زمین پر حملے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ان میزائلوں کی قیمت تقریباً آٹھ کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار ڈالر ہے۔ اینٹی شپ ہاروپون میزائل کی قیمت تقریباً 35 کروڑ 50 لاکھ ہے جبکہ تائیوان کے ریڈار نظام میں معاونت کی مالیت 66 کروڑ 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیوپنگیو نے کہا ہے کہ تائیوان کو امریکی اسلحے کی ممکنہ فروخت کے نتیجے میں امریکہ اور چین کے تعلقات کو ’سنگین خطرہ لاحق ہو جائے گا۔