امیت شاہ
دروپدی مرمو جی کا ہندوستان کا صدر منتخب ہونا ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک تاریخ ہے۔ اوڈیسہ کے انتہائی غریب قبائلی پس منظر سے، وہ بھی انتہائی پسماندہ سنتھالی برادری سے، اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا ان کا شاندار سفر ان کی جدوجہد، ہمت اور عزم سے نمایاں ہے۔ ’خاتون اول‘ کے بطور ان کی ترقی پورے ملک کی طرف سے بہت ہی خوشی اور اطمینان کا باعث ہے، اس سے بھی زیادہ قبائلی برادری کے لیے۔ قوم کو ایک قبائلی خاتون کو وطن کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچنے کے لیے 70 سال تک کا لمبا انتظار کرنا پڑا۔ یہ ہماری جمہوریت اور ہمارے آئین کی ایک اور فتح ہے۔
ہندوستان کی قبائلی آبادی ہماری آبادی کا 9فیصد ہے۔ ہماری جدوجہد آزادی میں ان کی جدوجہد اور قربانیاں انمول اور ناقابل فراموش ہیں۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد کسی بھی حکومت نے ہماری قبائلی برادریوں کی ترقی اور بہتری کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کئے۔ ان کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بناتے ہوئے انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی جبکہ وہ مناسب سیاسی نمائندگی سے بھی محروم رہے۔
یہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی قیادت کا ہی نتیجہ تھا کہ ہمارے قبائلی سماج کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے پہلی بار سنجیدہ اقدامات کیے گئے۔ 1999 میں اٹل جی نے ہمارے قبائلی معاشرے کو بااختیار بنانے اور ترقی کے لیے قبائلی امور کی ایک علیحدہ وزارت بنائی جس کے بعد 2003 میں 89ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قومی کمیشن برائے شیڈولڈ ٹرائب کا قیام عمل میں آیا۔ اٹل بہاری واجپائی کی جانب سے شروع کی گئی ہماری قبائیلی برادریوں کی تبدیلی کو وزیر اعظم نریندر مودی نے آگے بڑھایا ہے۔
’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پرایاس‘ کے اپنے حلف کی رہنمائی میں، نریندر مودی حکومت نے قبائلی آبادی کی امنگوں اور امیدوں کو پورا کرنے کے لیے بے پناہ اقدامات کیے ہیں۔ پچھلے آٹھ سالوں میں، قبائلی برادریوں کی فلاح و بہبود اور ترقی سے جڑے منصوبوں کے لیے بجٹ مختص کرنے میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ قبائلی ذیلی منصوبہ کے بجٹ کو 2021-22 میں چار گنا بڑھا کر 21,000 کروڑ روپے سے 86,000 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔
آج جل جیون مشن کے تحت 1.28 کروڑ قبائلی گھروں کو نلوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے، پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت 38 لاکھ گھر اور 1.45 کروڑ بیت الخلاء تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ 82 لاکھ آیوشمان بھارت ہیلتھ کارڈ قبائلی لوگوں میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح قبائلی طلباء کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے ایکلویہ ماڈل اسکولوں کا بجٹ 278 کروڑ روپے سے بڑھا کر 1,418 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ قبائلی طلباء کے لیے وظائف کے لیے مختص فنڈ بھی 978 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2,546 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پہل کے ایک حصے کے طور پر، 3,110 ون دھن وکاس کیندر اور 53,000 وان دھن سیلف ہیلپ گروپس قائم کیے گئے ہیں جن پر 327 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
ہمارے قبائلی علاقے کان کنی کی سرگرمیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لیکن ان کان کنی کی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کو ہماری قبائلی آبادی کے ساتھ کبھی شریک نہیں کیا گیا۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے نریندر مودی حکومت نے ایک ڈسٹرکٹ منرل فنڈ بنایاتاکہ کان کنی کی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی 30 فیصد آمدنی قبائلی علاقوں کی ترقی میں خرچ کی جا سکے۔ اب تک 57,000 کروڑ روپے جمع ہو چکے ہیں اور مختلف ترقیاتی کاموں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اسی طرح، ٹی آر آئی ایف ای ڈی کے ذریعے چلائے جانے والے ٹرائیبز انڈیا آوٹ لیٹس کی تعداد جو ہماری قبائلی برادریوں کے ذریعہ تیار کردہ مصنوعات کی مارکیٹنگ اور فروخت کا خیال رکھتی ہے، کو 29 سے بڑھا کر 116 کردیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی بھرپور قبائلی ثقافت اور ورثے کو قومی روشنی میں لایا ہے۔ قبائلی فنون، ادب، روایتی علم اور ہنر کو مختلف نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ کے ایک حصے کے طور پر، ہماری جدوجہد آزادی میں ہمارے عظیم قبائلی رہنماو ¿ں کی شراکت کو اجاگر کرنے کے لیے پروگراموں کا ایک ملک گیر سلسلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔
ملک اب جنجاتیہ گورو دیوس کے طور پر 15نومبر کو بھگوان برسا منڈا کے یوم پیدائش کو منا رہاہے۔ نریندر مودی کی سربراہی والی حکومت 200 کروڑ روپے کی لاگت سے ملک بھر میں قبائلی فریڈم فائٹر میوزیم تیار کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اپنی تقریروں میں ہمارے عظیم قبائلی رہنمائوں کو یاد کرتے ہیں اور آج کی نسل کو متاثر کرنے کے لیے ان کے تعاون کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح نریندر مودی حکومت ہمارے قبائلی معاشرے کی عزت اور بااختیار بنانے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔
کشمیر سے شمال مشرق تک، ہماری قبائلی آبادی کا ایک بڑا حصہ جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اڈیسہ، راجستھان اور گجرات میں ہمارے دیہی منظر نامے پر حاوی ہے۔ آزادی کے بعد کانگریس پارٹی نے اپنے ووٹ بینک کے طور پر ان کا استحصال کیا اور قبائلی اکثریت والے شمال مشرق کو نظر انداز کیا۔ یہ وزیر اعظم نریندر مودی ہی تھے جنہوں نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ہمارے قبائلی علاقوں کی تبدیلی کا آغاز صحیح معنوں میں کیا۔ قبائلی اکثریت والے شمال مشرق کی تعمیر و ترقی کو شروع کرنے کے لیے، انہوں نے ایکٹ ایسٹ پالیسی بنائی۔ پچھلے آٹھ سالوں میں ہماری شمال مشرقی ریاستیں تعمیر و ترقی میں شراکت دار بننے کے لیے کامیابی کے ساتھ قومی دھارے میں شامل ہو گئی ہیں۔
دہائیوں سے غربت اور سماجی عدم تحفظ ہماری قبائلی برادریوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج رہا ہے۔ اس خوف اور غیریقینی صورتحال کو بائیں بازو کی انتہا پسندی نے کچھ ریاستوں میں استعمال کیا جس کی وجہ سے قبائلی نوجوان بنیاد پرست ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں ہمارے کچھ قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی مکمل طور پر متاثر ہوئی۔ دہشت گردی کے تئیں نریندر مودی حکومت کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی نے نکسل ازم کا مکمل خاتمہ کیا ہے۔ آج ہمارے قبائلی علاقوں میں تشدد اور بدامنی کی جگہ ترقی اور امن نے لے لی ہے۔
ہمارے قبائلی سماج کی سماجی و اقتصادی ترقی اور بااختیار بنانا، ان کی سیاسی نمائندگی ہمیشہ سے بی جے پی کے نظریے کا لازمی حصہ رہی ہے۔ اور، آج وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے دروپدی مرمو کو اپنی پہلی قبائلی خاتون صدر کے طور پر منتخب کیا ہے۔ یہ ہمارے قبائلی معاشرے کو بااختیار بنانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کے پختہ عزم کی روشن مثال بھی ہے۔
(مضمون نگار ملک کے وزیر داخلہ ہیں)
دروپدی مرمو کا بحیثیت صدرمملکت انتخاب | قبائلی طبقوں کو بااختیار بنانے کے عزم کی روشن مثال