میر امتیاز آفریں
ہر دور میں پرخلوص خطباء کی ایک بڑی تعداد نے دعوت الی اللہ کے اہم کام کو انجام دینے میں اپنا کردار ادا کیا اور صبر و استقامت کے ساتھ اسلامی اقدار کے تحفظ میں کلیدی رول انجام دیا۔ ائمہ اور واعظین نے ایک عرصے تک خود فقر و فاقہ کی زندگی بسر کی مگر منبر و محراب کو قال اللہ و قال رسولؐ کی صداؤں سے معمور رکھا۔ ہمارا عوامی طبقہ آج بھی دینی رہنمائی کے لیے زیادہ تر واعظین کی طرف ہی رخ کرتا ہے اور اس سلسلے میں ان کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وعظ و تبلیغ کا یہ اہم شعبہ بھی نبوی منہج سے ہٹ کر زوال کا شکار ہوا۔ اگرچہ آج بھی ایسے علماء و خطباء کی قلت نہیں جو خلوص و للہیت کے ساتھ لوگوں کو دینِ حق کی تعلیم دیتے ہیں اور اصلاحِ معاشرہ کے کام میں دل و جان سے لگے ہوئے ہیں مگر آج کل دیکھا جاتا ہے کہ دنیا پرستی، ریاکاری، تنگ نظری اور بد اخلاقی نے واعظین کی ایک بڑی تعداد کو اپنا شکار بنا لیا ہے۔
آج جب ہم اپنے واعظین کی زبوں حالی کی طرف دیکھتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔جن سے یہ امید کی جاتی تھی کہ وہ نبیوں کے وارث بن کر کلام الہٰی اور کلامِ نبوت حکمت و دانائی کے ساتھ لوگوں تک پہنچائیں گے اور دعوت فکر و عمل دینگے، وہ نہ جانے کن گورکھ دھندوں میں کھوئے ہوئے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو فضول کاموں میں صرف کررہے ہیں۔ عام طور پر واعظین کا لب و لہجہ مناظرانہ اور مجادلانہ ہوتا ہے اور وہ شدت پسندی اور گروہ بندی کی طرف لوگوں کو دھکیلتے ہیں، جس کے نتیجے میں انتشار سماج کے ہر طبقے میں سرایت کرگیا ہے۔کچھ مخصوص نظریات کی آڑمیں کفر و شرک کے فتوے جھاڑے جاتے ہیں اور ہر دوسرے شخص کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جاتا ہے۔ نہ صرف انہوں نے عوام کو آپس میں لڑادیا ہے بلکہ وہ خود بھی ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی وہ ایک دوسرے کی تذلیل کرتے ہیں، مذاق اڑاتے ہیں، ناشائستہ ناموں سے پکارتے ہیں اور نام لے کر ایک دوسرے کے عیب اچھالتے ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔۔جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہؐ کو کسی شخص کے بارے میں کوئی ناگوار بات پہنچتی تو آپ اس طرح نہ کہتے کہ فلاں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اس طرح کہتا ہے بلکہ آپ فرماتے لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اس طرح کہتے ہیں۔(ابو داؤد: 4788)
یہ کوتاہ اندیش کبھی ایک دوسرے کو مناظروں کے چیلینج دیتے ہیں اور دین اسلام کی بنیادی تعلیمات کو چھوڑ کر لایعنی بحثوں میں الجھ جاتے ہیں ،جس کے نتیجے میں عوام میں علماء کے تئیں بد ظنی پیدا ہوگئی ہے۔کوشش تو یہ ہونی چاہئےتھی کہ وہ طرزِ تبلیغ اختیار کیا جائے کہ فکری انتشار میں مبتلا نوجوان دین کی طرف مائل ہوجائیں اور ان کے قلوب و اذہان عقائد صحیحہ پر جم جائیں مگر اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ہمارے واعظین کی تقاریر کا موضوع کچھ مخصوص اختلافی مسائل ہوتے ہیں جس سے امت کے مختلف طبقات کے درمیان اختلافات کی خلیج اور گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ ان کے غیر ذمہ دارانہ رویوں سے بستیوں میں مختلف گروہوں کے درمیان رسہ کشی پیدا ہوگئی ہے۔دینی ذہن رکھنے والے لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ دین کے بنیادی عقائد و اعمال پر زیادہ توجہ دی جائے مگر خطباء کے فرقہ وارانہ راگ الاپنے سے انہیں مایوسی ہوتی ہے۔
ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ مبلغینِ اسلام کے اخلاق و کردار کو دیکھ کر غیر مسلم اقوام بے حد متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں خوشی سے جوق در جوق داخل ہوا کرتیں تھیں لیکن آج کل کے واعظین نے جو اپنا نمونہ بنا رکھا ہے، اس سے دوسری قوموں کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ محبت کے بجائے نفرت ہونے لگتی ہے۔ دور حاضر کے مناظرہ باز واعظین کو سوچنا چاہئے کہ آج ان کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کی کیا شبیہہ (image) غیر مسلموں کے ذہنوں میں بن رہی ہے۔ وہ اس قسم کے واعظین کی حرکات کو دیکھ کر تمام مسلمانوں سے بدظن ہوتے ہیں اور ان کو تنگ نظر، بنیاد پرست اور جھگڑالو سمجھتے ہیں۔ اس طرح جانے انجانے میں دین کی دعوت دینے کے بجائے وہ لوگوں کو دین ِا سلام سے ہی متنفر کررہے ہیں۔
مولانا رومیؒ نے اپنی مثنوی میں حکایت درج کی ہے کہ ایک دفعہ صحرا میں دو قافلے قریب قریب آکر ٹھہرے۔ ایک قافلہ مسلمانوں کا تھا اور دوسرا یہودیوں کا۔ صبح کے وقت مسلمانوں نے فجر کی اذان دی اور نماز ادا کی۔ اتنے میں یہودیوں کے خیموں کی طرف سے ایک آدمی تھال میں کچھ تحفے تحائف لےکر مسلمانوں کے کیمپ میں داخل ہوا اور امیرِ قافلہ سے ملاقات کی تمنا کی۔ ملاقات ہوئی تو اس نے کہا ’’یہ حقیر سا تحفہ ہمارے امیر نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے‘‘۔مسلمان امیر نے دریافت کیا آخر کس لئے؟ اس نے کہا ،’’جناب! آج ہمارے سردار کا دیرینہ مسئلہ حل ہوگیا اور وہ بھی آپ لوگوں کی بدولت۔ دراصل ہمارے امیر کی ایک بیٹی اسلام قبول کر چکی تھی اور وہ کسی قیمت پر بھی اسلام کو چھوڑنے پر تیار نہ ہوئی، ہمارے سردار نے اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانی۔ آخر آج صبح آپ کے موذن نے اذان کہی اور وہ اتنے بُرے اور ناقابلِ برداشت لہجے میں تھی کہ ہمارے سردار کی بیٹی دین ِ اسلام سے ہی پھِر گئی اور اپنے پرانے دین پر واپس آگئی اور اسی خوشی میںہماری طرف سے یہ تحائف پیشِ خدمت ہیں۔‘‘
اس حکایت پر غور کرتے ہوئے ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس بد آواز مؤذن کی طرح دین کی طرف مائل کرنے کے بجائے ہم لوگوں کو دین ِ اسلام سے ہی برگشتہ کر رہے ہیں اور یوں تعمیر کے بجائے ہم تخریب کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ مناظرہ باز واعظین ہوش کے ناخن لیں اور اپنی ملی و سماجی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور انتشار کے بجائے اُمت کو اتحاد کی طرف لے جانے کی کوشش کریں۔
[email protected]