محمد محسن قادری
حضرت سید ناعثمانؓ قریش کی ایک شاخ بنو امیہ میں پیدا ہوئے۔ والد عفان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ سلسلہ نسب عبد مناف پر رسول اللہؐ سے ملتا ہے۔ حضرت عثمان کی نانی نبی پاکؐکی پھوپھی تھیں۔آپ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں چوتھے نمبرپر ہیں۔ آپ اللہ کی راہ میں دولت دل کھول کر خرچ کرتے۔ اسی بنا ء پر حضورؐنے آپ کو غنی کا خطاب دیا۔
اللہ تعالیٰ نے جس طرح منصبِ نبوت کے لیے حضرت سیدنامحمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتخاب فرمایا، بالکل اسی طرح نبی کریم ؐکی رفاقت و مصاحبت کیلئے بھی زمانے کے بہترین اصحاب کا انتخاب فرمایا، اس لحاظ سے یہ کہنا بجا ہو گا کہ صحابہ کرامؓ دہرا انتخاب تھے،اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور انتہائی اعلیٰ،منفرد اور یکتا اعزاز بھی اصحاب رسولؐ کے حصے آیا کہ جس طرح حضرت آدم ؑ سے لے کر رسول کریم ؐکی بعثت سے پہلے تک مبعوث کیے جانے والے لاکھوں انبیاء کرام پر نبی کریم ؐ کو برتری اور فضیلت حاصل ہے،اسی طرح آپؐکے صحابہ کرام کو بھی ان لاکھوں انبیاء کرام علیہم السلام کے مصاحبین پر برتری اور فضیلت حاصل ہے۔یعنی جو رتبہ،مقام اور شان اللہ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام کو دی،وہ پہلے کسی اورنبی اور ان کے مصاحبین کو نصیب نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ آج یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ماسوائے انبیاء کرامؑ، صحابہ کرامؓ کائنات کے تمام انسانوں سے عظیم المرتب،سیرت میں اعلیٰ و ارفع ترین اور خود خالقِ کائنات کے انتخاب تھے۔
’’وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کانیک ’انعام ‘اُن کے رب کے پاس ہے اورانہیں نہ کچھ اندیشہ ہونہ کچھ غم ‘‘(سورۂ بقرہ:آیت 262)۔
حضرت سیدناعثمان غنی ؓنے غزوہ ٔ تبوک میں ایک ہزار اُونٹ مع سامان کے بارگاہ ِ نبویؐ میں پیش کئے تو یہ آیت نازل ہوئی ۔’’کیاوہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں ،سجود میں اورقیام میں آخرت سے ڈرتا،اوراپنے رب کی رحمت کی آس لگائے کیاوہ نافرمانوں جیسا ہوجائے گا،تم فرمائوکیابرابرہیں جاننے والے اورانجان ،نصیحت تووہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں ۔‘‘(سورۃ الزمر:آیت 9)
حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ یہ آیت حضرت سیدناعثمان غنی ؓکے حق میں نازل ہوئی ۔حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا’’جو شخص بیئررومہ خرید کرراہ خدامیں دے گا،اللہ اس کی مغفرت فرمادے گا‘‘۔حضرت سیدناعثمان غنی ؓنے اسے خرید لیاتوحضورؐنے فرمایا:’’کیاتمہاری نیت یہ ہے کہ اسے لوگوں کی سیرابی کاذریعہ بنائو؟توحضرت عثمان غنی ؓنےعرض کی ،ہاں ! اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان غنی ؓکے حق میں یہ آیات نازل فرمائیں ۔’’اے اطمینان والی جان،اپنے رب کی طرف واپس ہو،یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ،پھرمیرے خاص بندوں میں داخل ہو،اورمیری جنت میںآ۔‘‘(سورۃ الفجر:آیت 27/30)’’مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں،جنہوں نے سچاکردیاجو عہد اللہ سے کیاتھاتوان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکااورکوئی راہ دیکھ رہاہے اوروہ ذرانہ بدلے۔‘‘(سورۃالحزاب:آیت23)۔یہ آیت حضرت سیدناعثمان غنی ؓاوران جلیل القدرصحابہ ؓ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیاتھاکہ اگرہمیں جہاد کاموقع ملاتوہم ثابت قدم رہیں گے اورانہوں نے اپناوعدہ سچاکردکھایا۔حضرت حمزہ ؓومصعبؓشہید ہوگئے اورحضرت سیدناعثمان غنی ؓوطلحہ ؓشہادت کاانتظار کررہے ہیں ۔(تفسیر خزائن العرفان)’’بیشک اللہ راضی ہواایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جاناجوان کے دلوں میں ہے توان پر اطمینان اتارااورانہیں جلد آنے والی فتح کاانعام دیا۔‘‘(سورۃ الفتح:آیت 18)۔اس آیت مبارکہ میں حدیبیہ میں نبی کریمؐ سے بیعت کرنے والوں کو رضائے الٰہی ،سکون واطمینان اورفتح ونصرت کی بشارت دی گئی ۔بیعت رضوان اوراس سے متعلق آیات کے نزول کاسبب حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت کی افواہ تھی جب وہ حضور اکرمؐ کے سفیر بن کر مکہ مکرمہ گئے اورانہیں کافروں نے روک لیا۔اس پرحضور ؐ نے صحابہ ؓسے کفارکے مقابل جہاد میں ثابت قدم رہنے پر بیعت لی ۔علامہ اسماعیل حقی ؒ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک منافق کادرخت تھاجو اس کے انصاری پڑوسی کے مکان پر جھکاہواتھا،اس لیے اس کاپھل اس انصاری کے مکان میں گرتاتھا۔انصاری نے اس کاذکر نبی کریمؐ سے کیاتوحضور اکرم ؐ نے اس منافق سے (جس کانفاق ابھی ظاہر نہ ہواتھا)فرمایا،تم وہ درخت انصاری کوبیچ دو،اس کے عوض تمہیں جنت کادرخت ملے گا۔اس منافق نے انکار کردیا۔جب اس بات کی خبر حضرت عثمان غنی ؓکو ہوئی تو آپ نے پوراباغ دے کر اس کے عوض میں منافق سے وہ درخت خرید لیااورانصاری کو دے دیا۔اس پر آپ کی شان میں اوراُس منافق کی مذمت میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔’’عنقریب نصیحت مانے گاجوڈرتاہے ،اوراس سے وہ بڑابدبخت دور رہے گا،جو سب سے بڑی آگ میں جائے گا‘‘۔(سورۃ الاعلیٰ:آیت10/12تفسیر روح البیان)۔’’حضور ؐ نے فرمایا:جورومہ کنوئیں کوخرید ے ،اس کے لیے جنت ہے ،اسے حضرت عثمان غنی ؓ نے خرید ا اورمزید کھدوایا۔نبی کریم ؐ نے تبوک کے موقع پر فرمایا:جو تنگی والے لشکرکاسامان مہیاکردے اس کے لیے جنت ہے توحضرت عثمان غنی ؓسے سامان فراہم کردیا‘‘۔(بخاری )’’حضرت انسؓ نے فرمایاکہ جب رسول اللہؐ نے بیعت ِ رضوان کے لیے حکم فرمایاتوحضرت عثمان غنی ؓکورسول کریمؐ نے مکہ مکرمہ بھیجاہواتھا۔پس صحابہ ؓ نے بیعت کی ۔رسول اللہؐ نے فرمایاکہ بے شک عثمانؓ ،اللہ اوراس کے رسول ؐ کے کا سے گئے ہوئے ہیں ۔چنانچہ آپ نے اپنے ایک دستِ اقدس کودوسرے پر رکھ کران کی طرف سے بیعت کی ۔پس حضرت عثمان غنی ؓکے لیے رسول اللہؐ کا دستِ مبارک لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے بہتر رہا۔‘‘(ترمذی)’’حضرت سیدتناعائشہ صدیقہؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؐ اپنے کاشانۂ اقدس میں لیٹے ہوئے تھے اورآپ کی پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیںپس حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اجازت مانگی اورآپ نے انہیں اجازت دے دی اورآپ اسی حالت میں رہے ۔پھر حضرت عمر ؓ نے اجازت طلب کی توانہیں بھی اجازت دے دی اوراسی حالت میں رہے اورانہوں نے گفتگوکی ۔پھرحضرت عثمان غنی ؓنے اجازت طلب کی تورسول کریمؐ بیٹھ گئے اوراپنے کپڑے درست کرلیے۔جب وہ چلے گئے تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عرض کی ،حضرت ابوبکرؓ حاضر ہوئے توآپ ؐ نے ان کی کوئی پرواہ نہ کی ۔پھرحضرت عمرؓ حاضر ہوئے توآپؐ نے ان کی بھی پرواہ نہ کی ۔پھرحضرت عثمان غنی ؓ حاضر ہوئے توآپؐ بیٹھ گئے اوراپنے کپڑے درست فرمالیے۔حضور ؐ نے فرمایا:کیامیں اس شخص سے حیانہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاکرتے ہیں ‘‘۔دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا،حضرت عثمان غنی ؓبہت زیادہ حیاوالے ہیں، لہٰذامجھے خدشہ تھاکہ اگرمیں نے انہیں ایسی حالت میں اجازت دے دی، تووہ مجھ سے اپنی حاجت بیان نہیں کرسکیں گے‘‘۔(صحیح مسلم باب من فضائل عثمانؓ)’’حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میرے صحابہ میںمجھ سے مشابہہ عثمان ؓ ہیں ۔(تاریخ الخلفاء )’’حضرت عبدالرحمن بن سمرہ ؓ نے فرمایاکہ حضرت عثمان غنی ؓنبی کریمؐ کی بارگاہ میں ایک ہزاردیناراپنی آستین میں لے کر حاضر ہوئے جب کہ لشکرتبوک کابندوبست کیاجارہاتھااوروہ حضورؐکی گود میں ڈال دیے۔پس میں نے نبی کریمؐ کو دیکھاکہ انہیں اپنی گود میں الٹ پلٹ رہے تھے اوردومرتبہ آپ نے فرمایا،آج کے بعد عثمان ؓ جوبھی عمل کریں وہ انہیں نقصان نہیں دے گا‘‘۔(مسنداحمد) ’’حضرت سیدناعلی مر تضیٰؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریمؐ کو یہ ارشاد فرماتے سنا،جو آپ حضرت عثمان غنی ؓ سے (اُن کی زوجہ اورنبی کریمؐ کی دوسری بیٹی حضرت امّ کلثومؓ کے انتقال پر) فرمارہے تھے کہ اگرمیری چالیس بیٹیاں ہوتیں توبھی میں یکے بعد دیگرے اُن سب کا نکاح تم سے کردیتا۔(تاریخ الخلفا۔ابن عساکر)’’حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمؐ کوہِ اُحد پر تشریف لے گئے اورآپؐ کے ساتھ حضرت ابوبکرصدیقؓ ،حضرت عمرؓ اورحضرت عثمان غنی ؓبھی تھے تواُحد پہاڑ ہلنے لگا۔حضورؐ نے اسے ٹھوکرلگاکرفرمایا:ٹھہرجااُحد !تجھ پر ایک نبی،ایک صدیق اوردوشہیدہیں ۔(صحیح البخاری)
آج کے موجودہ دور میں دنیا کی محبت دل و دماغ پر مسلط ہوچکی ہے، اپنی زندگیوں کو رسول کریمؐاور آپ کے صحابہ کرامؓ کے طرزِ زندگی کے سانچے میں ڈھالا جائے،اور ایک ایسا نظامِ زندگی بنایاجائے جو ہماری آنے والی نسلوں کو اس پرفتن،پرآشوب دورسے نجات دلائے، جس طرح صحابہ نے قرآن اور صاحب قرآن حضورؐکی تعلیمات کو ضابطہ حیات بنایا، بالکل اسی طرح ہمیں بھی اپنے نظام حیات کو بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تاریخ انسانی میں خیر و بھلائی کا اگر کوئی حسین باب ہے تو وہ حیاۃ الصحابہ کا ہی باب ہے ۔
ایک موقعہ پر حضوراکرمؐ نے فرمایا تھا کہ! اے عثمان! اللہ تعالیٰ تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اس خلافت کی قمیص کو اتارنے کی کوشش کریں تو اس کو مت اتارنا یہاں تک کہ مجھے آملو (شہید ہو جاؤ) چنانچہ آخری وقت میں جب باغیوں اور منافقوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کیا تو آپؓ نے فرمایا کہ! مجھ سے حضور اقدس ؐ نے عہد لیا تھا(منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اُتارنا) چنانچہ میں اس عہد پرقائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں، 35ھ ذیقعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کیا۔محاصرہ دوران باغیوں نے چالیس روز تک آپؓ کا کھانا اور پانی بند کر دیا اور 18ذوالحجہ کو چالیس روز سے بھوکے پیاسے82 سال کی عمرمیں خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی ؓ کو جمعہ کے دن، قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے روزہ کی حالت میں انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے12دن کم 12سال نظام خلافت کو چلانے کے بعد جام شہادت نوش کیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
(رابطہ ۔8977864279)
[email protected]
حضرت سیدنا عثمان ِ ذوالنورینؓ