اسد مرزا
انڈونیشیا کے شہر بالی میں ہونے والے حالیہ G-20وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران یہ بات ابھر کر سامنے آئی ہے کہ امریکی قیادت میں دیگر مغربی یوروپی ممالک اور ان کے ساتھ نہ شامل مشرقی اور دیگر ملکوں کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ وزارتِ خارجہ اجلاس کے دوران جو کچھ بھی رونما ہوا اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ G-20، دوسرے اتحادوں جیسے کہ G-7 سے کتنا مختلف ہے۔ G-7اتحاد میں ایک ہی ذہانت اور مطالبات اور وسائل کے ہم فکر ملک شامل ہیں، جن کے درمیان اتفاقِ رائے قائم کرنا بہت آسان تھا، لیکن G-20ایسا نہیں ہے۔
G-7 ایک یکساں اتحاد ہے،جس میں شامل ملک ایک خاص مشترکہ عالمی نظریہ کے حامل ہیں۔G-7 نے سخت ترین ممکنہ الفاظ میں، ’’یوکرین میں روس کی جنگ‘‘ کی مذمت کی تھی اور ایک ایسے اقتصادی ایجنڈے کو آگے بڑھایا تھا جو مغربی ممالک کو وبائی امراض کے بعد کی معیشت اور تیل اور گیس کی بلند قیمتوں کے مشترکہ اثرات سے بازیافت کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس، G-20 میں اختلافات اتنے ہیں کہ یہ اختلافات حقیقت بن کر سب کے سامنے آگئے۔
G-20 کے اندر ایک اہم پاور بلاک ایک ہی نقطہ نظر رکھتا ہے: روس کی مذمت کیے بغیر امن کی خواہش، اور اقتصادی پابندیوں کو مسترد کرنا۔ بیجنگ اور نئی دہلی دونوں کی جانب سے اس پوزیشن میں تبدیلی کے ساتھ، چین کو جغرافیائی سیاسی تبدیلی کا احساس بھی ہے۔ جنوبی افریقہ اور سعودی عرب جیسی متنوع ملک ایک زیادہ لچکدار پوزیشن کی طرف ”مغرب” کے ساتھ سابقہ سیاسی صف بندی سے نہیں ہٹ سکتے۔
دراصل انڈونیشیا کے صدر کی ایک نظر نومبر میں ہونے والے G-20 کے مکمل سربراہی اجلاس پر ہے۔ وزرائے خارجہ کی ملاقاتیں اہم تھیں لیکن یہ وہ مکمل سربراہی اجلاس ہوگا جو اس سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک ایسے بلاک میں کچھ حد تک ہم آہنگی قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھے، جس میں اتحاد کے لیے کسی چیز کی کمی نہیں ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ یوکرین میں جنگ ختم ہونے کے امکانات فی الحال بہت کم ہیں۔ کیونکہ جنگ ایک ایسے ہٹ دھرمی کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جس میں روس آہستہ آہستہ لیکن بتدریج زمین پر قبضہ کرتا چلا جارہا ہے۔ اور اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں کامیاب نظر آرہا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ G-20 میٹنگ سے بہت کچھ حاصل ہونے کا امکانات نہیں تھے۔ بدعنوانی کے خاتمے پر کچھ معمولی معاہدہ ہونے کی کچھ امید تھی، لیکن پابندیوں اور روس پر ہونے والی بات چیت کے درمیان اسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ زیادہ تر ملک مثبت کامیابیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے مزید اہم مسائل پیدا کیے بغیر میٹنگ ختم ہونے کی خواہش رکھتے نظر آرہے تھے۔
اجلاس اور بات چیت کا زیادہ تر حصہ بحیرۂ اسود میں ایک آزادانہ طور پر نگرانی کیے جانے والی محفوظ بحری راہداری کے ذریعے روس کو یوکرائنی اناج کے ذخیرے کی برآمد کی اجازت دینے کے لیے قائل کرنے کی کوششوں کے ساتھ کیا گیاتھا۔ لیکن اس ضمن میں ترکی اور اقوام متحدہ کی قیادت میں مذاکرات کئی ہفتوں سے جاری ہیں جس میں ابھی تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
اس منصوبے کے تحت روس اور ترکی مال بردار بحری جہازوں کی حفاظت کو یوکرین کے خود مختار علاقے سے باہر یقینی بنائیں گے تاکہ وہ بحیرۂ روم میں مزید آگے بڑھ سکیں۔ لیکن لاوروف اور ترک وزیر خارجہ Mevlüt Çavusoglu کے درمیان بالی میں ہونے والی ملاقات میں کوئی فوری پیش رفت نہیں ہوئی۔اس کے بجائے اجلاس کے دوران ایسی کئی باتیں ہوئیں جنھیں سفارتی اور سیاسی حلقوں میں بالکل قبول نہیں کیا جاسکتا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاگروف پہلی مرتبہ یوکرین پر حملہ کیے جانے کے بعد ایک ہی کمرے میں ایک ہی میزپر موجود تھے لیکن دونوں نے ایک دوسرے کو نظر انداز کیا اور دو مرتبہ جب بات چیت کے دوران یوکرین کا ذکر آیا تو لاگروف کمرے سے باہر آگئے۔ امید یہی کی جارہی تھی کہ شاید دونوں وزرائے خارجہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر یوکرین جنگ کی بابت کچھ معنیٰ خیز مذاکرات کریں لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ یہ پہلا اجلاس ہوا جس کے ختم ہونے کے بعد نہ تو اس میں شامل وزرائے خارجہ کا کوئی گروپ فوٹو لیا گیا اور نہ ہی میٹنگ کے بعد کوئی مشترکہ اعلانیہ جاری کیا گیا، جو اس بات کے مظہر ہیں کہ اجلاس کتنی کدورتوں کے دوران مکمل ہوا۔
ان سب کے درمیان انڈونیشیا کا ثالثی کردار بہت اہم ہوجاتا تھا اور اس ضمن میں انڈونیشیا کی وزیر خارجہ Retno Marsudi نے ہر ممکنہ کوشش کرکے اس اجلاس کو بامعنیٰ بنانے کی کوشش کی۔ دریں اثنا روسی حکام نے حال ہی میں الاسکا پر دوبارہ دعویٰ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے بیانات دیے ہیں کہ الاسکا جسے امریکہ نے 1867 میں روس سے خریدا تھا، روس اس پر اپنا دعویٰ پھر پیش کرسکتا ہے، جبکہ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پتن نے اس ضمن میں پوچھے گئے ایک سوا ل کے جواب میں کہا تھا آپ کو الاسکا کی ضرورت کیوں ہے؟ تاہم موجودہ حالات میں الاسکا پر اپنا دوبارہ دعویٰ پیش کرکے روس مغربی دنیا کو ایک اور دھمکی دے رہا ہے کہ اگر وہ اس کے خلاف جائیں گے تو وہ ایسے مزید اقدامات کرسکتا ہے جس سے کہ مغربی دنیا ہل جائے گی۔الاسکا کی سابق گورنر سارہ پیلن نے روس کی ان تجاویز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یوکرین پر روسی حملے کے دوران روس الاسکا پر’’واپس دعویٰ‘‘ کیسے پیش کر سکتا ہے۔پیلن، جو ایوانِ نمائندگان میں الاسکا کی واحد نشست کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں، نے جمعہ کے روز نیوز میکس کو بتایا کہ روس ان وسائل پر دعویٰ کر رہا ہے جن کا تعلق امریکہ سے ہونا چاہیے اور ”ایسی چیزیں ہیں جو ہم اس کے بارے میں کر سکتے ہیں۔’پیلن نے کہا کہ انہوں نے یہ مسئلہ گورنر کے طور پر اپنے دور میں اٹھایا تھا۔ 2007 میں، روس نے علامتی طور پر قطب شمالی کے ایک بڑے علاقے پر دعویٰ کیا جو کہ تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال ہے اور سمندر کی تہہ پر جھنڈا لگا کر۔
روس کے ساتھ بیجنگ کی خارجہ پالیسی کی صف بندی کے پیش نظر چین کی یہ کہ انڈو نیشیا G-20 سربراہی اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے اجلاس کے دوران معاشی مسائل پر زیادہ زور دے اور روس-یوکرین جنگ کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرے، زیادہ حیران کن نہیں ہے، حالانکہ انڈونیشیا پر واضح طور پر وانگ یی کی خواہشات کو پورا کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ لیکن چین کا اثر انڈونیشیا میں اپنے بڑے تجارتی سرپلس اور بڑھتی ہوئی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو 2020 میں 2 بلین امریکی ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی۔ 150 کلومیٹر طویل جکارتہ ۔بانڈونگ ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبہ انڈونیشیا میں چین کا سب سے اہم بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو منصوبہ ہے، اگر جنوب مشرقی ایشیا نہیں ہے، حالانکہ غلط منصوبہ بندی اور لاگت میں اضافے نے اس منصوبے کے بل کو 6 بلین امریکی ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔
انڈونیشیا کے پوتن کو بھی مدعو کرنے کے فیصلے کے تناظر میں ریاستہائے متحدہ کی قیادت میں مغربی ممالک نے انڈونیشیا کے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ زیلنسکی کو بھی مدعو کریں، جس نے تصدیق کی ہے کہ وہ اجلاس میں ضرور شرکت کرسکتے ہیں۔ مغربی ممالک نے 24 فروری کو یوکرین پر حملے کے بعد جی 20 کے رکن روس کو اس سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن انڈونیشیا کا کہنا تھا کہ اسے ”غیر جانبدار” رہنا چاہیے۔
امریکہ بظاہر اب اس بات کا فیصلہ نہیں کرپا رہا ہے کہ وہG-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کرے گا یا نہیں۔ واشنگٹن نے اس سے قبل انڈونیشیا کے اعلانات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا روس کے ساتھ اس طرح تعلقات نہیں بنائے رکھ سکتی جیسا کہیوکرین حملے سے پہلے تھا۔
مخالف ملک جو بھی موقف اختیار کریں، سیشن میں گڑبڑ ہونے کا امکانات ہیں۔ جب انڈونیشیا نے گزشتہ دسمبر میں قیادت سنبھالی تھی تو G-20 کی سالانہ بات چیت کو زیادہ تر دنیا کے حکومتی رہنماؤں کے لیے ایک خوشگوار وقفہ کے طور پر سمجھا جاتا تھا کہ وہ ایک خوشگوار مقام پر پائیدار ترقی اور مالیاتی استحکام جیسے عالمی معیشت سے متعلق مسائل کے بارے میں بات کرنے کے لیے بلائے جائیں۔ درحقیقت، انڈونیشی حکام ’’گلوبل ہیلتھ آرکیٹیکچر، پائیدار توانائی کی منتقلی، اور ڈیجیٹل تبدیلی‘‘ پر ایک ایجنڈے کے منتظر ہیں۔جبکہ وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد اب یہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ اولین ترجیح G-20 ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے قائم کرنے پر مرکوز ہوسکتی ہے۔
مجموعی طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ تاثر یہی قائم ہورہا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے مغربی اور مشرقی ممالک کے درمیان خلیج بڑھتی چلی جارہی ہے اور امریکی قیادت میں مغربی ممالک کی کوششیں کسی بھی طریقے سے کارگر یا کامیابی ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں کیونکہ ان سب کے دوران امریکی صدر جوئے بائڈن کی اولین ترجیح امریکی شہریوں کو کم قیمتوں پرپٹرول مہیا کرانا اور ساتھ ہی امریکہ میں افراطِ زر کو زیادہ نہ بڑھنے دینا ہے اور اس کے لیے وہ بجائے روس سے دست بدست مذاکرات کرنے کے اور دوسرے راستے نکالنے اور دوسری تدابیر پر عمل پیرا ہونے کو زیادہ ترجیح دے رہا ہے، جو کہ آنے والے وقتوں میں پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔
مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔
ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور
خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔
www.asad-mirza.blogspot.com
جی-20 کا وزرا ئےخارجہ کا ناکام اجلاس