افتخار احمد قادری
مہنگائی کے اس دور میں پریشان حال لوگوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، کوئی حال مست ہے تو کوئی مالِ مست ،کسی کو دوسرے کا کوئی خیال نہیں، کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں۔ خود غرضی کا عالم یہ ہے کہ دوسروں کی مدد کے نام پر آدمی بات سننے تک کو تیار نہیں، خود غرضی نے ملک کے ایثار و ہمدردی کے جذبات کو ختم کر رکھا ہے۔ شاید اس قوم کو نہیں معلوم کہ خود غرضی کی یہ بیماری ایثار و ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات کو دل سے مٹا دیتی ہے، دوسروں کے دکھ درد سے بے خبر کرکے رکھ دیتی ہے۔ خود غرضی سے صرف لاتعلقی فروغ پاتی ہےاورسماج میں امتیازی صورتحال حال بڑھاوا دیتی ہے۔ سماج کاایک حصہ شاہانہ زندگی گزارتا رہتا ہے اور دوسرا حصہ غربت کی چکی میں پستا جاتا ہے۔ ایک حصہ عالی شان عمارت میں نرم و گداز بستر پر ٹھنڈی ٹھنڈی نیند لیتا ہے اور دوسرا فٹ پاتھ پر اخبار بچھا کر جیسے تیسے اپنی زندگی کی گاڑی کھینچتا رہتاہے۔ اسی امتیاز کو ختم کرنے اور معاشرے کو یک رنگی بنانے کے لیے الله رب العزت نے مسلمانوں کو رشتۂ اخوت میں جوڑ دیا ہے۔ آیات اور احادیث مبارکہ میں اس سلسلے میں ہدایات کی گئی ہیں۔ صحابہ کرام کی حیات طیبات ہمیں اس بات کا درس دیتی ہیں کہ معاشرے میں زندگی کیسے گزاری جائے۔ ان حضراتِ طیبات کی زندگی کی سب سے عظیم الشان مثال وہ مواخات ہے جو حضور اکرم صلی الله تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہجرت کے بعد ان کے درمیان قائم فرمائی ہے۔ دنیا اس ہمدردی کی اس سے بہتر مثال کبھی نہ پیش کر سکے گی۔ معاشرتی زندگی کا اس دینی رشتہ اخوت کو دلی طور پر محسوس کرنے کے سبب تعمیر و ترقی کے میدان میں ان کے درمیان امتیازات کی دیوار حائل نہ ہوسکی اور انہوں نے دنیا کے سامنے اسلامی سماج کی اصل تصویر پیش کر کے اسلام کا بہترین تعارف کرایا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ برسوں سے تعصب، حسد جلن، بغض و کینہ، قتل و فساد کے تاریک زدہ ماحول میں زندگی بسر کرنے والے قبائل اسلامی طرزِ حیات سے متاثر ہو کر جوق در جوق داخل اسلام ہوئے۔ لیکن آج مسلمان بڑا خود غرض ہوگیا ہے، صرف اپنی دنیا آباد کرنے میں مگن نظر آتا ہے، دوسروں کی خیر و خواہی کی بات سن کر اَن سُنی کر دیتا ہے بلکہ بسا اوقات بھڑک بھی اٹھتا ہے۔ بڑے فخریہ انداز میں بہت سارے لوگوں کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ اپنا کام بنتا ،بھاڑ میں جائے جنتا۔ ہر ادنی و اعلیٰ بلکہ دینی حلقہ بھی اس مہلک وبا کی زد میں آچکا ہے، ہر شخص جانتا ہے کہ قوم اپنے رہنما سے بڑی والہانہ عقیدت رکھتی ہے ،ان کے لئے جان تک کی قربانی دینا اپنے لیے خوش بختی سمجھتی ہے، ان کے رُخ ِ زیبا کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ترستی ہے لیکن راہ نما صاحب اپنی غریب جانثاروں کا کتنا خیال رکھتے ہیں ،یہ بھی کسی پر مخفی نہیں۔ موقع دیکھ کر قدم بڑھاتے ہیں، نذرانوں کی کثرت کو مدنظر رکھ کر دعوت قبول کرتے ہیں، دینی ضرورت پر اپنی ضرورت کو مقدم رکھتے ہیں ، کسی دیہی علاقے میں خدمت دین کی بات آجاتی ہے تو یہ جملے دہراتے ہیں کہ اتنا دور کیسے جائیں، آنے جانے کے لیے کوئی سہولت نہیں۔ ویسے بھی ایسے علاقوں میں رہنے سہنے کے لیے معقول انتظام نہیں ہوتا، کیا یہ جملے اس بات کے شاہد نہیں کہ رہنما حضرات فطری تقاضوں کو دینی تقاضوں سے زیادہ اہمیت دیتےہیں۔ یہ مانا کہ سبھی ایسے نہیں لیکن حالات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ ہندوستان کے طول و عرض میں اکثریت ایسے ہی رہنماؤں کی ہے۔جو شائد اس بات کو بھول بیٹھے ہیں کہ خودغرضی میں اچھائیاں اس طرح مدغم ہوجاتی ہیں جیسے سمندر میں ندیاں۔حالانکہ خودغرض کی غرض کبھی پوری نہیں ہوتی کیونکہ خودغرضی ہی وہ قید خانہ ہے جو روح کو قید کرسکتا ہے ،انسان کو پاگل بنا سکتا ہے ۔بلاشبہ جو خودغرض ہے ،وہ مُردہ ہے۔
[email protected]>
خود غرضی نےایثا ر و ہمدردی کے جذبات ختم کردیئے