ڈاکٹر فیاض الدین طیب
اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دے کر اسے ایک الگ قسم کا شر ف عطا کیا ہے۔ اب یہ انسان پہ منحصر ہے کہ وہ بُرا سوچے یا اچھا ،البتہ عقلِ سلیم رکھنے والے ہمیشہ اچھا ہی سوچتے ہیں اور اچھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایک اہم چیز جو زمانوں سے چلی آرہی ہے اور جس کو سمجھنے میں اکثر لوگ غلط فہمی کے شکار ہوگئے ہیں۔ وہ چیز تصوف ہے۔ چنانچہ حضورِ پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس ’’دین ِ حق‘‘ کی طرف پوری دنیا کو دعوت دی ہے ۔اس کا مکمل نمونہ خود حضورؐ کی حیات مبارکہ ہے۔ حضوراقدسؐ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق زندگی گزارنا باعثِ رحمت وفائزالمرامی ہے۔ اس لیے دین کے داعی ایسے ہوں کہ ان کی نیت صاف اور صحیح ہو۔ اس لیے اللہ کے نزدیک ازحد انکساری کے ساتھ عبدیت اور اللہ کی رضا مندی کو مقصود بنانے کی سعی کریں ۔ مجدد الف ثانیؒ حاجی محمد لاہوری کو تحریراً فرمایا تھا۔
’’ شریعت کے تین حصے ہیں :علم، عمل اور اخلاص،جب تک یہ تینوں اجزاء متحقق نہ ہوں ، شریعت متحقق نہیں ہوتی ہے۔جب شریعت متحقق ہوجاتی ہے، حق تعالیٰ کی رضا حاصل ہوجاتی ہے جوکہ تمام دنیاوی اور اخروی سعادتوں سے بالا تر ہے۔طریقت وحقیقت جس سے کہ صوفیہ ممتاز ہوئے ہیں ۔ دونوں (شریعت کے تیسرے حصے )یعنی اخلاص کی تکمیل میں شریعت کے خادم ہیں ۔ان سب سے گزر کر مقدم رضا تک پہنچنا چاہیے جو کہ سلوک کا آخری مقام ہے۔ اس لیے طریقت وحقیقت کی منزلوں کو طے کرنے کا مقصد تحصیلِ اخلاص کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اخلاص ہی سے مقامِ رضاخاص ہوتا ہے۔ ‘‘ (مکتوب سہ وششم ۔ ج ۱)
تصوف ،سلوک ،طریقت اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور فکر کو اس لائق بنانے کانام ہے کہ فرائض کو خلوصِ نیت سے انجام دیا جائے اور کثرت سے ذکراللہ و فکراللہ میں اپنی زندگی گزارنے کی انتھک کوشش کی جائے تاکہ گناہوں سے نجات مل سکے۔ اس قسم کے تمام اقوال شریعت میں موجود ہیں۔ اس بات کو سمجھنا ہمارے لیے نہایت ہی ضروری ہے کہ کسی شیخ سے مرید ہونے کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے کیونکہ وہ اپنے نفس کی شرارتوں سے بخوبی واقف اور تجربہ کار ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے مرید کو ایسی حکمت بھری باتیں سناتا ہے جن پر مرید عمل کرکے نیکیاں کرنے لگتا ہے اور گناہوں سے گریز کرنے کی جدوجہد کرتا ہے ۔اسی سے پھر وہ اخلاص کے ساتھ اپنے اعمال بجا لاتا ہے اور اللہ کی ہر عبادت میں خشوع وخضوع پیدا ہونے لگتا ہے۔تصوف کی جان اخلاق حسنہ اور ایمان کا کمال ہے۔ اس کے لیے شریعت اسلامی اس کی اساس اور قرآن وحدیث اس کا سرچشمہ ہونا چاہیے۔
تعلیماتِ اسلامی میں محبت الٰہی ،مکارم اخلاق اور خدمت خلق بنیادی چیزیں ہیں ۔تصوف کی بنیاد بھی انہیں ارکان پر مبنی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے صوفیاء کرام ومشائخ عظام نے جدوجہد کرکے اخلاقی وروحانی نظام کو قائم رکھا۔علامہ سر محمد اقبال ایک مولوی صاحب کی کہانی سنانے کے حوالے سے اپنی ایک نظم’’ زہداور رندی‘‘ میں کہتے ہیں :
شہرہ تھا بہت آپ کی صو فی منشی کا
کرتے تھے ادب ا ن کا اعالی و ادنی
کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعت
جس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانی
اب جو شخص ایسا نہیں کرتا ہے ،مثلاََ نماز نہیں پڑھتاہے، اخلاق رذیلہ کا عادی ہوجاتا ہے، خلاف شریعت لباس پہنتا ہے،ایسے مذاق کرتا ہے جن کا اسلام میں منع کیا گیا ہے ،اسی طرح جھوٹے مزاق بھی سناتا ہے، اپنے نفس کو بار بار گندگیوں کی طرف مائل کرتا ہے،اسلامی چال ڈال جیسے داڈھی مونڈتا ہے، نامحرم عورتوں میں جاکر رقص کرنے لگتا ہے اور پردے کا اہتمام نہیں کرتا ہے۔ کئی لوگوں سے کہتا ہے کہ مجھ میں یہ طاقت ہے کہ سب کو بخشوا دوں گا،پھر اپنے مریدوں سے کہتا ہے کہ بغیر عمل کے مرید ہونے کی حیثیت سے بخش دئے جائوگے۔ اس طرح کا انسان ایسا شیطان ہوتا ہے جو لوگوں کو باربار گمراہ کرتا ہے، لیکن لوگ بھی ایسے بے علم بن گئے ہیں کہ ان جیسے نام نہاد شیخوں کی طرف زیادہ مائل ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ یہاں عمل کا کوئی تقاضا نہیں ہے۔ اس لیے ان جیسے ابلیس اور دجا ل سے بچنے کی انتہائی کوشش کرنی چاہیے۔
آج کل بہت سارے ایسے نام نہاد پیر اور مرشد سرگرم ہیں جو اپنے آپ کو اسلامی احکامات سے بھی بالاتر سمجھ کر بہت سے ناجائز کاموں کو جائز بتا کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔اس طرح کے لوگ اسلامی فرائض اور واجبات سے اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھ بیٹھے ہیں اور عام لوگوں کے گھروں میں گھس کر نامحرم عورتوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور طرح طرح واہیات سناتے ہیں ،جس کی قطعی اسلام اجازت نہیں دیتا، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ان کی قدر کی جاتی ہے جبکہ اللہ اور رسول ؐ کی قدر نہیں کی جاتی ہے۔ ایسے مریدوںکو سوچنا چاہیے کہ آج کل کثیر تعداد میں پیر مرشد اندر سے شیطان ہوتے ہیں جو اپنی ابلیسیت کا پرچار کرکے زنا کاری تک پہنچ جاتے ہیں ۔جو لوگ گدّیاں سنبھالے ہوئے ہیں ،قبروں کے پجاری یا مجاور بنے ہیں ،خانقاہوں پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں ، دھوکے اور فریب سے اپنے مریدوں سے رقمیں وصول کرنے میں مصروف ہیں ،زیارت کی شرط نذرانہ دینا مقرر کر رکھا ہے،تعویذوں کو باعثِ شفا ء مقرر کررکھا ہے۔ایسے لوگ وقت کے مکار اور دجال تصور کیے جاتے ہیں ۔ اصل میں یہی لوگ تصوف اور تزکیہ سے خالی اور عاری ہیں ، طالبِ دنیا ،جاہ وحشمت ہیں ، ان میں فکر ِ آخرت نہیں ہے، اللہ کا خوف وخشیت نہیں ہے، بغیر تقویٰ کے مرشد بیٹھے ہیں ،پیر بابا بنے ہوئے ہیں اور اپنے ناموں کو لوگوں کومتاثر کرنے کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہتے ہیں ۔ ان کا نہ باطن پاک اور نہ ہی ان کا ظاہرپاک ہوتا ہے ۔ آج کل کے اکثر پیر یا جنہوں نے اپنے آپ کو شیوخ میں داخل کر رکھا ہے ۔یہ اکثر لوگوں کو غلط فہمی میں رکھتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ آپ سب ہمارے مرید ہیں ، اس لیے آپ نذرانہ دو اور ہم آپ کے بدلے نماز اور وظیفے ادا کریں گے۔ گلزار ٹھگ اور کئی اور نام نہاد کی طرح لوگوں کو اپنے بہکاوے میں لاکر ان سے جھوٹی بیعت کروا کرکہتے ہیں کہ قیامت کے دن آپ ہمارے جھنڈے کے نیچے ہوں گے،ان سے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم تمہاری نجات اور مغفرت کے ذمہ دار ہیں ۔
اب خدارا ذرا یہ بتائے !کیا یہ محمد ؐ کے دین کی باتیں ہیں اور کیا یہ حضورؐ ، صحابیوںؓ ، تابعین ، تبع تابعین ، ائمہ کرام اور اولیاء کرام کا طریقہ تھا ؟ ہمیں چاہیے کہ شریعت کے ماتحت زندگی گزاریں ۔ یہ نذرانے دینا اور فضول میں اپنے مال وجائداد کسی کو سونپنا اور اللہ کے سوا کسی اورنام پر نیاز وغیرہ یا رقوم ادا کرنا فضول ، شرک اور افعالِ ناشائستہ ہے۔ چنانچہ امام غزالیؒ احیاء العلوم میں رقم طراز ہیں :
’’وما یعطی لدینہ وصلاحہ لا یحل لہ أن یاخذ ان کان فاسقا فی الباطن لو علمہ المعطی ماأعطاہ‘‘(احیا ء العلوم ۔ج ۲۔ص ۱۰۴)
(ترجمہ: اور جو کچھ (کسی کو) اس کے دین دار اور صالح ہونے کی وجہ سے دیا جائے۔ اس کا لینا حلال نہیں ہے ، اگر لینے والا اندر سے فاسق ہو۔ اگر دینے ولاے کو اس کا (اندرونی ) حال معلوم ہوجائے تو نہ دے)
یہی طریقہ جو جھوٹے پیروں اور جھوٹے دعویداروں نے روارکھا ہے۔ خدارا، اس سے احتراز کریں اور خود مطالعہ کرکے اصلیت جان لیں ۔ حال ہی میں کشمیر کے ایک نام نہاد جھوٹے پیر نے ایک عورت کو بے رحمی سے یہ بتا کر کہ اس کے اندر جِن ہے، مار مار کر اس دنیا سے ہی رخصت کردیا ۔کیا یہی تعلیم اور تربیت ہمیں اسلام دیتا ہے۔ اس لیے ہمیں بیدار ہونا چاہیے تاکہ اصل اور غلط میں فرق کرسکیں ۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے پیر کے اوصاف کے متعلق فرمایا :
۱۔ پیر ،کتاب وسنت کا علم رکھتا ہو ،خود پڑھ کر علم حاصل کیا ہو یا کسی بزرگ کی صحبت حاصل کی ہو۔ بہرحال اس کے پاس کتاب وسنت کا علم ہونا چاہیے۔
۲۔کبائر سے مجتنب ہو اور صغائر پر اصرا ر نہ کرے ۔کبائر کا مرتکب بیعت کا اہل نہیں ہوتا ،کیونکہ وہ فساق میں شمار ہوتا ہے۔
۳۔بیعت لینے والا دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف رغبت رکھتا ہو۔
۴۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عامل ہو ۔اپنے متعلقین کو اچھی بات کا حکم دے اور اگر ان میں کوئی بری بات دیکھے تو فوراََ روک دے۔
۵۔پیر خود رَو نہ ہو بلکہ یہ طریقہ اس نے بزرگوں سے سیکھا ہو یا ان کی صحبت اختیار کی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ باپ کی وفات کے بعد بیٹا جیسا کیسا بھی ہو ،گدی نشین ہوگیا۔ نہ کسی سے سیکھا ،نہ کسی کی صحبت اختیار کی اور نہ علم حاصل کیا ۔یہ سلسلہ جو آج کل رائج ہے ،تباہ کن ہے۔
مذکورہ بالا ان تمام شرائط کو پورا کرنے والا کوئی بزرگ اور کامل آدمی مل جائے ۔ایسے ہی شیخ کی ضرورت ہے اور اسے اپنا پیر تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ خود مطالعہ کریں اور اصلیت کو جان لیں ۔اللہ ہم سب کو علم حاصل کرنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین
(سویہ بگ بڈگام )