ڈاکٹر عریف جامعی
آدم علیہ السلام سے لیکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک توحید پر مبنی ضابطہ حیات کا اگر کوئی مخصوص عنوان رہا ہے تو وہ ’’اسلام ‘‘ہی ہے، یعنی خدائے بزرگ و برتر کے سامنے ’’سر تسلیم خم کرنا‘‘ تاہم مرحلہ ’’تسلیم‘‘ تک پہنچنے کے لئے انسان کی طرف سے جس جذبے کی بدرجہ اتم ضرورت ہوتی ہے وہ ’’رضا‘‘کا وہ مقام ہے جہاں انسان اللہ تبارک و تعالی کے عنایت کردہ ’’اختیار‘‘کو اسی کی ’’رضا‘‘کے تابع کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ دراصل ’’تسلیم ‘‘اور ’’رضا‘‘کا ایک دوسرے کے ساتھ اسی طرح کا تعلق ہے جو ’’محب ‘‘اور ’’محبوب‘‘ کے درمیان ہوتا ہے۔ خداوند قدوس کمال محبت کے ساتھ اپنی مخلوق (انسان) کے سامنے اسلام پیش کرتا ہے اور بندہ دل کی کامل یکسوئی کے ساتھ اس کو تسلیم کرتا ہے۔
اس طرح سے خدا اور بندے کے درمیان ایک ایسا رشتہ استوار ہوجاتا ہے جس میں خدا کی طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی جبر داخل نہیں ہوتا اور بندے کی طرف سے بھی والہانہ محبت کے سوا کوئی اور غرض و غایت نہیں ہوتی۔ یعنی بفحوائے الفاظ قرآنی خدا بندے کا ’’ولی‘‘ (یعنی کارساز، البقرہ: 257) بن جاتا ہے اور بندہ خدا کی ’’شدید محبت‘‘ (البقرہ: 165) میں اپنی جبین نیاز جھکاکر خدا کے سامنے راز و نیاز کرتا ہے۔ اس طرح دنیائے رنگ و بو کا یہ راز بھی کھل جاتا ہے کہ خدا نے کسی بھی صورت میں انسان سے اپنی بادشاہی بالجبر ’’تسلیم ‘‘کروائی (جو وہ کروا سکتا تھا) اور نہ ہی اپنی ’’رضا‘‘اور ’’مشیت ‘‘کو آپس میں خلط ملط کیا۔ یہ بات کہ خدا بندے کی جانب سے ’’برضا و رغبت‘‘ شکر کو ہی پسند فرماتا ہے، قرآن میں اس طرح بیان کی گئی ہے: ’’اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تم (سب) سے بے نیاز ہے، اور وہ اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرے گا۔‘‘ (الزمر: 07) اللہ تعالی نے بڑے ہی محبت بھرے انداز میں یہ بات بھی بیان کی ہے کہ وہ بندے کو مبتلائے عذاب نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس کے لئے راہ شکر اور ایمان کے کشادہ رکھنا چاہتا ہے۔ بفحوائے الفاظ قرآنی: ’’اللہ تمہیں سزا دیکر کیا کرے گا؟‘‘ اگر تم شکر گزاری کرتے رہو اور با ایمان رہو (تو) اللہ بہت قدر کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔ (النساء: 147)
تاہم مقام شکر و ایمان تک پہنچنے کے لئے انسان کو وہی قوی (قوتیں) استعمال میں لانا پڑتے ہیں جن کے ساتھ رب تعالی نے اسے پیدا فرمایا ہے اور جن صلاحیتوں کا اسے حامل بنایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ سمع و بصر سے لیکر نطق و بیان اور عقل و فکر تک سبھی قوتوں کو بروئے کار لاکر ہی انسان خدا کی معرفت سے سرشار ہوسکتا ہے اور انہی امتیازی صلاحیتوں (جن پر انسان بہرحال خود اختیار رکھتا ہے) کو استعمال میں لاکر یا صحیح تر الفاظ میں خدا کو سپرد کرکے وہ ’’تسلیم و رضا‘‘ کے مقام کو پہنچ سکتا ہے۔ اور جب انسان خدا کے آگے جھکتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ جھکنا فقط ترہیب اور تخویف کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ جھکنا انسانوں کے ایک حلقے کے لئے ضرور خدا کی ہیبت اور خوف کا منطقی نتیجہ ہوسکتا ہے، لیکن انسانوں کی ایک خاص جمعیت ہمیشہ ایسی بھی موجود رہی ہے جو تعقل اور تفکر کے تحت خدا کی ایسی معرفت حاصل کرتے ہیں کہ وہ عرفان حق کے بحر ناپیدا کنار میں غوطہ زن ہونے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ خدا کے مجرد فلسفیانہ تصور کے خول سے باہر آکر خدا کے ساتھ والہانہ انداز میں وابستہ ہوجاتے ہیں۔
سیدنا ابراہیمؑ کو انبیائی تاریخ میں یہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ آنجناب عقل و فکر کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف خود معرفت حق حاصل کرتے ہیں بلکہ اپنی قوم کو بھی ’’حجت الزامی‘‘ کی تکنیک سے لاجواب کردیتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ قوم ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آنجناب کے دلائل کو ماننے سے انکار کرتی ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ باقی پیغمبران کرام ؑ کو عقلی طور پر خدا کی یافت نہیں ہوتی تھی۔ یہاں ہماری مراد صرف یہ باور کرانا ہے کہ سیدنا ابراہیم ؑ نے ایک طرح سے فلسفیانہ سطح پر بھی اپنی قوم کے سامنے خدائے واحد کا تعارف پیش کیا اور پھر اس یافت اور معرفت کو قبول عام بخشنے کے لئے وہ سب ظلم و ستم جھیلے اور برداشت کیے جو باطل کے علمبرداروں نے اپنے من گھڑت دین کو بچانے کے لئے آپ سے روا رکھے۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اپنی قوم کے ساتھ اس عقلی کشمکش کی کئی جہتیں ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے اپنے آپ کو جس مشرکانہ ماحول میں پایا، اس کا انہوں نے ایک طرح سے عقلی تحلیل اور تجزیہ (یا بالفاظ دیگر پوسٹ مارٹم) کیا۔ آنجناب کا مختلف اجرام فلکی کی الوہیت اور ربوبیت سے ذرا توقف کے بعد انکار کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ آپ نے تھوڑی دیر ہی سہی ان کی پرستش کی حامی بھرلی۔ اللہ تعالی کے ایک برگزیدہ پیغمبر کا شرک میں مبتلا ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تاہم اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنجناب قوم کے معبودان باطل کی بے بسی اور لاچاری کے ساتھ ساتھ قوم کی کج فہمی قوم کے سامنے واضح فرمارہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے تارے (کوکب یعنی سیارے) اور چاند (قمر، سیارچے) کے بعد قوم کے اس زعم باطل کو بھی اڑا کے رکھ دیا کہ آفتاب، جو ہمیشہ سے ظاہراً اور حقیقتاً زمین پر توانائی کا منبع اور مظہر رہا ہے اور اس وجہ سے مختلف قوموں کی طرح آپ کی قوم نے بھی اسے ’’سب سے بڑا رب‘‘ (ھذا اکبر) ’’تسلیم‘‘ کیا تھا، کو بھی آپ نے خدا کی مخلوق ہی قرار دیا اور قوم کی اس مشرکانہ روش سے برات کا اس طرح اعلان فرمایا: ’’میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، یکسو ہوکر اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘ (الانعام؛79)
یہاں پر یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ کوئی بھی شئے جسے معبود کا درجہ دیا جائے، یعنی ’’پتھر کے صنم‘‘ وغیرہ، اصل میں ایک خود ساختہ تصور (یا بالفاظ دیگر دین) ہوتا ہے۔ انسان نے اس سمت میں ہمیشہ سے نئی نئی اختراعات کی ہیں۔ اس طرح کبھی جنوں کو پتھر تراش کر متشکل کیا گیا تو کبھی فرشتوں کو ’’خدا کی بیٹیاں‘‘بناکر پیش کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ کبھی اس پورے کارخانہ حیات کو ’’توانائی ‘‘قرار دیا گیا اور اس کی تمثیل ’’نر اور مادہ اعضاء تناسل کے اتصال ‘‘کی تشکیل سے پیش کی گئی۔ اللہ تعالی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے درجات بلند فرمائے کہ انہوں نے قرآن کے اس بیان کو کہ ’’یہ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے‘‘(الانبیاء: 16) کو برصغیر کے تصور کائنات کا رد کہا ہے، لیکن قرآن نے تو ’’توانائی والے مادہ ذات سے منسوب‘‘ تصور کی بھی نفی کی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ ہیں: ’’یہ تو اللہ کو چھوڑ کر صرف مادہ ذات کو پکارتے ہیں، اور دراصل یہ صرف سرکش شیطان کو پوجتے ہیں۔‘‘ (النساء: 117) ان تصورات سے ملتی جلتی شرک کی وہ شکلیں بھی ہیں جہاں قوم کے زعماء، سرداروں یا بزرگوں کو ان کی وفات کے بعد معبود قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس بات کو عبداللہ ابن عباس ؓ نے سورہ نوح کی تفسیر میں بیان کیا ہے جہاں قوم نوح نے اپنے بزرگوں (یغوث، یعوق، نسر، ود، وغیرہ) کو الوہیت کا درجہ دیا تھا۔
مشرکانہ تصور کائنات یا واضح تر الفاظ میں تصور دین کے اسی ملغوبے کا جب سیدنا ابراہیمؑ نے کامل رد کیا اور قوم کے سامنے ایسے دلائل اور براہین پیش کیے جن کا قوم سے کوئی جواب نہ بن سکا تو قوم نے اپنے معبودان باطل سے نہ صرف یہ کہ چمٹے رہنے کو ترجیح دی بلکہ ’’اپنے تصور دین‘‘ کا بھی دفاع کرنا ضروری سمجھا۔ قرآن کے الفاظ میں: ’’کہنے لگے کہ اسے جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔‘‘ (الانبیاء: 68) تاہم قوم کا یہ ’’انتہا پسندانہ ‘‘اقدام اور تشدد پر مبنی کاروائی اللہ تعالی کی مداخلت اور مدد سے بے اثر ثابت ہوئی کیونکہ اللہ تعالی نے آگ کے الاو کا اثر کچھ اس طرح زائل کیا: ’’ہم نے کہا: اے آگ! تو ٹھنڈی پڑجا اور ابراہیم کے لئے سلامتی بن جا۔‘‘ (الانبیاء: 69) ظاہر ہے کہ اس سے قبل سیدنا ابراہیمؑ اپنے والد سے بھی کنارہ کش ہوچکے تھے اور حکمران وقت کو بھی آنجناب نے دلائل قطعی دیکر ششدر اور لاجواب کردیا تھا۔
اللہ تعالی نے جب آنجناب کو حکمران وقت اور قوم کی جانب سے سلگائی ہوئی آگ سے نجات دی تو آپ نے بحکم ایزدی توحید کے مختلف مراکز قائم فرمائے۔ انہی مراکز میں سے ایک مرکز یعنی مکہ مکرمہ کی بے آب و گیاہ وادی میں آپ کو اسماعیلؑ کی قربانی کا حکم ملا۔ ظاہر ہے اس حکم پر آپ نے من و عن عمل کیا۔ تاہم اللہ تعالی نے اسماعیلؑ کی جان بچائی اور قربانی کے اس بے مثال عمل (بلکہ داستان) کو تاصبح قیامت فرزندان توحید کے لئے جاری فرمایا۔ اس طرح ابراہیمؑ اللہ تعالی کی طرف سے ڈالی گئی تمام آزمائشوں میں سرخرو ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آنجناب کو اپنی پوری کارگزاری (عقلی اور عملی) کی وجہ سے ’’حنیف‘‘ (الانعام: 79) کا لقب ملا، جبکہ نتائج کے اعتبار سے آپ کو دنیا کا ’’امام‘‘ (پیشوا، البقرہ: 124) بنایا گیا۔ آپ کو اپنے آپ میں ایک ’’امت‘‘ ہونے کی سند بھی ملی۔ (النحل: 120) یہی نہیں بلکہ ذاتی تعلق کی وجہ سے اللہ تعالی نے سیدنا ابراہیمؑ کو اپنا ’’خلیل‘‘ (یعنی دوست، النساء: 125) قرار دیا۔
سیدنا ابراہیمؑ کی پوری عقلی اور عملی جدوجہد کی معراج یعنی ’’ذبح عظیم‘‘ کے بارے میں رسول اللہ ؐکے صحابہؓ بڑے ہی دلنشین انداز میں آپ ؐ سے سوال کرتے تھے: ’’ما ھذہ الاضاحی یا رسول اللہ ؐ؛ یعنی اے اللہ کے رسول ؐ! یہ جو ہم قربانیاں کرتے ہیں، یہ کیا ہیں؟ آپؐ جواب دیتے کہ ’’سنت ابیکم ابراہیم؛ یعنی یہ آپ کے باپ ابراہیم کی سنت (طریقہ) ہے۔‘‘واضح رہے کہ آپؐ کے صحابہؓ سوال برائے سوال نہیں کرتے تھے، بلکہ اس عمل کو انجام دیتے ہوئے اس کی تاریخ جاننا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ ؓنے بھی ’’تسلیم و رضا‘‘ کے معاملے میں اپنے آپ کو فرزندان ابراہیم یا فرزندان توحید ثابت کیا۔ رب کائنات نے بھی ان کے ایثار اور قربانی کی قدر فرماتے ہوئے ان کے ’’راضی برضا‘‘ رہنے پر قرآن کے ذریعے کئی ایک مقامات پر مہر تصدیق ان الفاظ میں ثبت کی: ’’رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ؛ یعنی اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے‘‘ (التوبہ: 100) منصوبہ خداوندی کے تحت ایسا ہونا بھی چاہئے تھا، کیونکہ صحابہ ؓ جینیاتی اور حیاتیاتی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ اعتقادی اور عملی لحاظ سے بھی ملت ابراہیمی میں شامل تھے۔ انہوں نے بھی دعوت توحید اور اسلام کی پکار کو اسی طرح قبول کیا تھا جس طرح سیدنا ابراہیم ؑ نے اس دعوت اور پکار پر لبیک کہا تھا، کیونکہ جب ابراہیم ؑ سے اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ ’’مسلم ہوجاو‘‘ تو آپ نے کہا تھا ’’اسلمت لرب العالمین‘‘۔ (البقرہ: 131)
���
موبائل نمبر؛ 9858471965